کرونا اور لیبارٹری ٹیسٹ

کرونا اور لیبارٹری ٹیسٹ
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

کرونا اور لیبارٹری ٹیسٹ

جب کوئی آدمی بیمار ہوکر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ تو ڈاکٹر اسکی بیماری کے بارے کچھ سوال کرتا ہے ۔ پھر اس کی طبیعت اور پرانی بیماریوں کے حوالے سے پوچھتا ہے۔ اس کو ہسٹری کہتے ہیں۔  اس کے بعد وہ مریض کا معائنہ کرتا ہے۔ اور اگر ضرورت ہوتو اس کو کسی ٹیسٹ کا مشورہ دیتا ہے۔

ایک اچھا فزیشن بیماری کے بارے اسی فیصد درست اندازہ صرف اچھی ہسٹری سے لگا لیتا ہے۔ پندرہ فیصد چیزیں معائینے سے کنفرم کرلیتا ہے۔ اور صرف پانچ فیصد چیزوں کیلئے اسے ٹیسٹ رپورٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے ایک اچھے فزیشن کو جس کے پاس آپ سب سے پہلے پہنچتے ہیں بیماری کو ڈھونڈنے کیلئے ٹیسٹ کی ضرورت عموما نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

سپیشلسٹ کے ذہن میں چونکہ حتمی بیماری ڈھونڈنے سے پہلے بیماریوں کی فہرست لمبی ہوتی ہے اس لیئے اسکا ٹیسٹوں پر انحصار بیس سے پچاس فیصد تک ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں حالات کچھ ایسے ہیں کہ لوگوں کو ڈاکٹر کی رائے سے زیادہ ٹیسٹوں کی رپورٹس پر یقین ہوتا ہے۔ اور ان کا ڈاکٹر سے ٹیسٹ کروانے پر اصرار ہوتا ہے۔

لیبارٹری ٹیسٹ منافع بخش بزنس

بلکہ اب تو صورتحال یہ ہے کہ مریض ڈاکٹر کے پاس رپورٹس لیکر پہنچ رہے ہیں کہ مجھے ٹائیفائیڈ ہے۔ علاج کر دیں۔ میرے گردے میں سوزش ہے دوائی دے دیں۔۔ میری انتڑیوں میں زخم ہے ۔ میرے لئے دوائی تجویز کریں۔ مجھے یرقان ہوگیا ہے کیا کرنا چایئے۔ اور لیبارٹری کا بزنس اس وقت پاکستان میں سب سے منافع بخش بزنس بن چکا ہے۔ جس پر معمولی انوسٹمنٹ کے ساتھ لاکھوں کما سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: معدے کی تیزابیت ختم کرنے کیلئے 4 اہم ہدایات

یہ سب لکھنے کی نوبت اس لیئے آئی ہے کہ بار بار ٹیسٹوں کے حوالے سوالات پوچھے جارہے ہیں۔

علامات کرونا  اور لیبارٹری ٹیسٹ

میرے اندر کرونا کی علامات ہیں تو کیا مجھے ٹیسٹ کروانا چاہیئے؟
موجودہ حالات میں میرا دو ٹوک جواب ہے۔ ہر گز نہیں۔ ایک تو ٹیسٹ رپورٹ کے درست ہونے کی امکان ساٹھ سے ستر فیصد ہیں۔ دوسرا رپورٹ مثبت آنے پر نہ تو آپ نے اپنا کوئی علاج کروانا ہے نہ ہی نیگیٹو آنے پر احتیاط چھوڑنی ہے۔ الٹا پازیٹو آنے کے بعد آپ ذہنی مریض ضرور بن جاتے ہیں اور جب تک رپورٹ نیگیٹو نہ آجائے آپکا سکون واپس نہیں آتا۔

اس کے بعد بہت سے ایسے لوگ ہیں جو دو مختلف لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروا لیتے ہیں۔ ایک نیگیٹو بتا دیتی ہے اور دوسری پازیٹو اور آپکو سوائے خود کو کنفیوز اور پریشان کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اسلئے لیبارٹری رپورٹس کی اہمیت کو ڈاکٹر کی مرضی پر چھوڑ دیں۔ آپکے لیئے پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔

کرونا انٹی باڈیز ٹیسٹ

اب دوسرا سوال جو مسلسل پوچھا جا رھا ہے وہ یہ کہ مجھے کرونا ہوا تھا۔ اب میں ٹھیک ہوں۔ کیا مجھے کرونا انٹی باڈیز ٹیسٹ کروانا چاہیئے؟
تو میرا ایک بار پھر جواب ہے۔ ہر گز نہیں۔ یہ ٹیسٹ ان کیلے اہم ہوگا۔ جن کو کمپنی کی طرف سے دوبارہ کام شروع کرنے سے پہلے ٹیسٹ پیش کرنے کو کہا جائے گا ۔ یا پھر مستقبل میں اگر ویزہ کیلئے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ یا کسی علاقے میں داخلے کیلئے انٹی باڈیز سرٹیفیکیٹ لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

اگر آپ کرونا سے متاثر ہوئے تھے اور اب آپ کی علامات ختم ہوچکی ہیں تو آپ کیلئے کرونا ایک عام نزلہ زکام سے زیادہ اہم نہیں ہونا چاہیئے۔ اس لیئے کرونا کی بیماری کو اپنے اعصاب پر سوار نہ کریں۔ اپنی نارمل زندگی پر توجہ دیں۔

کرونا آپ تک پہنچ جائے کوئی فکر والی بات نہیں۔ لیکن اسے لینے گھر سے خود نہ نکلیں ۔ ماسک کو اپنے لباس کا حصہ بنا لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *