کائنات کی تخلیق اور غور و فکر

کائنات کی تخلیق
Spread the love

تحریر: بشارت حمید

قرآن کریم میں کائنات کی تخلیق پر غوروفکر کرنے کی دعوت

خالق کائنات نے قرآن مجید میں اپنے اولی الباب بندوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُوۡنَ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۞

ترجمہ:
جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں کھڑے بھی بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اے ہمارے ربّ ! تو نے یہ سب کچھ بےمقصد تو پیدا نہیں کیا ہے تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے) پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا !

اس غور و فکر کے لئے ہمیں کہیں دور جانے کی بھی ضرورت نہیں بس ذرا سی توجہ ہو جائے تو ہمارے اردگرد اللہ کی ایسی نشانیاں موجود ہیں جن کو دیکھ کر بے اختیار بندہ پکار اٹھتا ہے کہ واقعی میرے رب نے یہ سب کچھ بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں کیا۔
ہم روانہ کئی بار ٹوائیلٹ جاتے ہیں۔۔ وہاں لگی ٹونٹی کھولتے ہیں اور صاف پانی آنا شروع ہو جاتا ہے۔۔

ذرا اسی کائنات کی تخلیق پر سوچئے کہ یہ پانی کہاں سے بنا اور کہاں کہاں کا سفر طے کرکے اس ٹونٹی تک پہنچ رہا ہے۔۔ کتنے کنکشنز ہیں۔۔۔ کتنی کڑیاں ہیں جو ایک کے ساتھ دوسری ملتی جاتی ہے اور اس پانی کو ہم تک پہنچا رہی ہیں۔ بیچ میں کوئی ایک کڑی بھی مس ہو جائے تو ٹونٹی کھولنے پر کچھ بھی نہ آئے۔
یہ پانی جو اس روئے زمین پر زندگی کا منبع ہے کیا ہم انسان اسے بنا سکتے ہیں۔۔۔ اللہ نے جو واٹر سائیکل بنا دیا ہے اور ہزاروں سال سے یہ نظام بطریق احسن چلتا آ رہا ہے کیا یہ کسی عظیم الشان پلانر کے بغیر ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔۔

آئے روز اپنے آپ کو آبی ماہر خیال کرنے والے چیخنے لگ جاتے ہیں کہ پانی کی قلت کا خطرہ ہے کئی بار اسلام آباد کا پانی خشک ہو جانے کی خبریں بھی آئیں لیکن پھر اللہ بارشوں کا سسٹم بھیج کر ساری کمی پوری کر دیتا ہے۔۔ اور اضافی پانی ہم سنبھالنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دانتوں کی صفائی صرف دو منٹ

خالق کائنات کی نشانیاں جابجا موجود ہیں بس ذرا اپنی توجہ اور سوچ کو ان کی طرف ڈائیورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔۔ موجودہ وبا نے ہم کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر گھر میں معتکف ہو کر کائنات کی تخلیق غوروخوض کرنا شروع کریں۔۔
ہم کیا ہیں؟
ہم کون ہیں، اس زمین پر۔۔ اس خاص زمانے میں؟
ہمارا آنے کا مقصد کیا ہے؟
جب ہم نہیں تھے تو ہماری پہچان کیا تھی؟
جب نہیں ہوں گے تو ہم اپنی؟پہچان کس کیٹیگری میں کرانا پسند کریں گے؟

بے شک اے ہمارے پرودگار تو نے یہ سب کچھ بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں کیا۔۔ تو ہمیں معاف فرما دے اور اپنے مقرب بندوں میں ہمیں شامل فرما لے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *