عید کا بخار اور ہمارا کردار

عید کا بخار
Spread the love

تحریر: بشارت حمید

عید کیا نئے کپڑے جوتے اور نت نئے فیشن کرنے کا نام ہے؟

عید کا دن ہمارے سروں‌پر اتنا کیوں‌سوار رہتا ہے کہ اس کے لیے ہم بازاروں میں‌شاپنگ کئے بغیر رہ نہیں‌سکتے۔۔

ایسی خبریں ہر عید پر سننے کو ملتی ہیں‌کہ بچوں‌کو نئے کپڑے نہ دلا سکنے والے باپ نے خودکشی کرلی۔۔ اب اس کے مرنے پر تو جیسے بچوں کو ٹیکسٹائل مل کی ملکیت مل جائے گی ناں۔۔

اس عید کا بخار کو تھوڑا کم کریں عید کا دن بھی ایک عام دنوں کی طرح‌دن ہی ہے۔ اگر اس کا احساس بیدار کرنا ہے تو عید کے روز کسی ہسپتال میں‌جا کر دیکھ لیں وہاں پڑے مریضوں کے لیے اس دن کی کیا اہمیت ہے۔

اگر نئے کپڑے جوتے نہیں‌ہوں‌گے تو عید کی نماز پرانے کپڑوں میں‌بھی پڑھی جاسکتی ہے بے شک کسی مفتی سے فتوٰی پوچھ لیں۔

اسی طرح‌اگر قربانی کرنے کی استطاعت نہیں‌ تو رشتہ داروں‌میں‌ناک اونچی رکھنے یا بچوں‌کی فرمائش پوری کرنے کے لیے خواہ مخواہ تنگی اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔

اللہ کے فرائض تو ہم چھوڑ دیتے ہیں‌لیکن معاشرے کے فرائض نہیں‌چھوڑتے چاہے ان کی خاطر خود اجڑ جائیں۔

ذرا سوچئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکہ ڈالنے کے لئے امتحان پاس کرنا ہو گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *