احساس برتری اور احساس کمتری

احساس
Spread the love

تحریر: جاوید اختر آرائیں

احساس برتری
اور
احساس کمتری
اپ کی شخصیت کے لیے
دونوں نقصان دہ ہیں
دونوں میں توازن کی ضرورت ہے.

پہلے
یہ جان لیتے ہیں
دونوں طرح کے افراد کی پہچان کیا ہے؟

احساس برتری

احساس برتری والا فرد
خود غرض اور متکبر ہوتا ہے
خود کو ہمیشہ درست دوسروں کو غلط سمجھتا ہے
شو آف، دکھاوا کا شوقین ہوتا ہے
خود کو قابل، دوسروں کو نالائق سمجھتا ہے
ہر جگہ آگے آگے رہتا ہے
ٹیم کا کپتان بننا چاہتا ہے،
کسی کے ماتحت کام نہیں کرسکتا
غصّہ زیادہ کرتا ہے
اونچی آواز میں تیز تیز بات کرتا ہے
سامنے والے کی بات پوری نہیں ہونے دیتا
جب دوسرا بول رہا ہو تو ادھر اودھر دیکھتا ہے
اوور کانفیڈینس ہوتا ہے
تیزی سے موڈ بدلتا ہے
قربانی ایثار کا جزبہ نہیں ہوتا۔

superiority
احساس برتری کا شکار مرد

کار میں بس میں ہمیشہ ونڈو سائڈ سیٹ مانگتا ہے
گفتگو میں لفظ میں، میں ، میں زیادہ استعمال کرتا ہے
اپنے ساتھ رہنے والوں کی تنقید، طنز، تضحیک کرتا ہے۔
اپنی غلطی کبھی نہیں مانتا
ان کی بات نہ مانیں تو دوسرے کو بیوقوف سمجھتا ہے
خود کو دوسروں سے کمپیئر کرتا رہتا ہے
کھانے کی میز پر
سب سے پہلے سب سے اچھی چیز
سب سے زیادہ اٹھاتا ہے
کھانے پینے کی چیزوں میں نقطہ چینی کرتا ہے
تمام قیمتی چیزیں اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے
بزدل ہوتا ہے
دوسروں کے جذبات کا احساس نہیں کرسکتا
اپنی کامیابیوں کا چرچا ، اور اپنی تعریفیں خود کرتا ہے.

یہ بھی پڑھیں: یہ کیسی مائیں ہیں ؟

احساس کمتری

احساس کمتری
کا شکار افراد کی علامات
بیک بینچر ہوتا کلاس میں آخری قطار میں بیٹھتا ہے
خوفزدہ رہتا ہے
مایوس رہتا ہے
یاسیت پسند ہوتا ہے
دکھ درد حادثات کی خبریں زیادہ سنتا اور شئیر کرتا ہے
ناشکری کی باتیں، شکوے زیادہ کرتا ہے
طبیعت میں بی جمالو پن لگائی بجھائی کا رجحان ہوتا ہے

ناخن ہونٹ چبانا، انگلیاں چٹخانا، بار بار اپنے چہرے پر ہاتھ لگانا،
نظر ملا کر بات نہیں کرتا
بہت آہستہ اور الفاظ چبا کر بولتا ہے
ہر وقت ہمدردی کا طالب رہتا ہے
اعتبار نہیں کرتا
شک زیادہ کرتا ہے
سماجی تقریبات سے دور رہتا ہے
بہت زیادہ آئینہ دیکھتا ہے۔

 احساس کمتری کا شکار
احساس کمتری کا شکار

دوسروں کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے
شرمیلا ہوتا ہے
جیلس ہوتا ہے
دوسروں کی خامیاں، ناکامیاں
دیکھ کر سکون محسوس کرتا ہے
بہت زیادہ حساس ہوتا ہے
گھر کے پوشیدہ حصوں میں چھپا رہنا چاہتا ہے
مہمانوں کے سامنے نہیں آتا
دعوت میں جانا پسند نہیں کرتا
تنقید برائے تنقید کرتا ہے.

اب دونوں کرداروں کی خامیاں آپ کے سامنے آگئی
آئیے اب علاج تلاش کرتے ہیں
احساس برتری دراصل احساس کمتری کو چھپانے کا ایک لاشعوری طریقہ ہے
دونوں کیفیات کا شکار افراد
پہلے تو اعتراف کریں کہ ان میں یہ کمزوری ہے
پھر اپنے قریبی محبت کرنے والے احباب
ماں باپ، بہن بھائی، دوستوں کو یہ میسیج بھیج کر
ان سے مدد طلب کریں کہ وہ بتائیں آپ کی شخصیت میں کیا کمی ہے اور اسے کیسے ٹھیک کیا جائے
خاص طور پر
ماں باپ کو بہت بچپن سے بچوں کے رجحانات کو دیکھ کر انہیں بیلنس کرنا سکھانا چاہیے.
اور دیکھئیے
ابھی دیر نہیں ہوئی ہے
ہم کسی بھی وقت خود کو بہتر سے بہتر کرسکتے ہیں
ماضی کے پچھتاوے بھول کر حال کو خوبصورت بنائیے مستقبل خود ہی اچھا ہو جائے گا
اپنے ساتھ رہنے والوں کو حکمت کے ساتھ
نشاندہی کر کے
انہیں اپنی شخصیت سنوارنے میں مدد کیجئیے
ایسا کرتے ہی آپ کی اپنی شخصیت میں
نکھار آنا شروع ہو جائے گا.

خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں

یہ بھی پڑھیں: اولاد کو صالح بنانے کا ایک نرالہ انداز _!!

One Comment on “احساس برتری اور احساس کمتری”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *