تعمیر مسکن

مسکن
Spread the love

تعمیر مسکن کا ایک تعارف

تعمیر مسکن لکھنے کا مقصد ان مسائل کو عام فہم زبان میں‌عام آدمی تک پہنچانا ہے جن کا سامنا ہر گھر بنانے والے کو دوران تعمیر کرنا پڑتا ہے۔
یہ وہ معاملات ہیں‌جن سے میرا واسطہ ایک عام بندے کی حیثیت سے پڑ چکا ہے اور کسی حد تک ان مسائل کو فیس بھی کر چکا ہوں۔
اس کتابچے کے متعلق میرا ہرگز یہ دعوی نہیں کہ اسے پڑھ کر آپ کنسٹرکشن کا کام سیکھ جائیں گے یا ٹھیکیدار بن جائیں گے البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں‌اس بندے کے لئے کسی حد تک رہنمائی ضرور موجود ہے جو اپنی زندگی کی جمع پونجی ہاتھ میں‌لئے اپنے ذاتی گھر کا خواب دیکھتا ہے لیکن اس شعبے میں شکار کے لئے ‌جال لگا کر بیٹھے پیسے کے پجاریوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اس کی لاعلمی کا بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی تجوری تو بھر لیتے ہیں‌لیکن اس بندے کے گھر کی تعمیر میں‌خانہ پری کرکے مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا انبار چھوڑ جاتے ہیں۔ پھر بندہ بعد میں‌پچھاتا ہی رہ جاتا ہے کہ پیسے بھی لگ گئے اور تسلی بخش کام بھی نہ ہو سکا۔

تعمیر مسکن میں ٹھیکیداروں کی اقسام کو ڈسکس کیا گیا ہے۔۔۔ موجودہ دور کے گھروں‌کا ماضی کے گھروں‌سے تقابل کیا گیا ہے۔۔ ریڈی میڈ گھر وں کے معیار پر بات کی گئی ہے ۔۔ گرے سٹرکچر کیا ہے اسکی اہمیت کیا ہے اس کی وضاحت ہے، پلمبنگ کا کام کتنا اہم اور کریٹیکل ہے اس کے بارے بات کی گئی ہے۔ گرے سٹرکچر کے مین سٹیپس کو واضح کیا گیا ہے۔

گھر کی تعمیر میں‌بچت کہاں‌کرنی چاہیئے اور کہاں نہیں ۔۔ ڈبل سٹوری نقشے کی سنگل سٹوری تعمیر کو کس طریقے سے بہتر بنایا جاسکتا ہے کہ آئندہ جب کبھی اوپر تعمیر شروع ہو تو نیچے والے فلور کو نقصان نہ پہنچے۔
پھر فنشنگ ورک میں‌آج کل کون سی اشیاء عام طور پر استعمال ہو رہی ہیں ۔ ماربل ٹائل ، بجلی کی تار سوئچز، دروازے الماریاں‌ونڈوز کچن باتھ رومز فٹنگز وغیرہ ۔۔ ان پر بات کی گئی ہے۔

کتاب “تعمیر مسکن”خریدیں

کتاب “تعمیر مسکن” حاصل کرنے کے لئے 03008650288 پر جیز کیش یا 03208650288 پر ایزی پیسہ کے ذریعے 300 روپے بھیج دیجئے اور اپنا نام پتہ اور فون نمبر میسج کر دیجئے۔ ان نمبرز پر کال کرنے سے گریز کیجیے صرف واٹس ایپ میسج ہی کریں۔

“تعمیر مسکن” لوگوں کا اظہار خیال

ذیل میں اس جامع کتاب پربہت سارے لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ جن میں سے کچھ کا اظہار رائے یہاں آپ کے خدمت میں پیش کیا جا رہی ہے۔

بس دو اَرب روپے

ہمایون مجاہد تارڑ

یہ کتاب “تعمیر مسکن” مجھے آج ہی موصول ہوئی ہے۔
بس کہیں سے 2 ارب روپے ہاتھ آجائیں، تب میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا پورا پراجیکٹ برادر بشارت حمید کے حوالے کر دوں گا ـــ جن کی شہرت ہر سُو عمدہ ہے، جن سے فیس بُک پر دیرینہ تعلق ہے، جو پڑھے لکھے اور صاحبِ علم و شعور ہیں، اور جو فی الواقع ایک شریف النّفس، مخلص اور قابلِ بھروسہ شخصیت ہیں۔

کُل 47 صفحات کی یہ کتاب، یقین جانیں، ایک مستند اور متاثر کُن انسائیکلوپیڈیا ہے جسے دیکھ، پڑھ کر حیرت ہو رہی ہے۔ از حد سہل زبان اور انداز میں گھر کی تعمیر بارے بیش قیمت معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ میں پوری سچائی سے عرض کروں کہ اِس خشک موضوع پر بھی اگر آپ اس کتاب کا متن پڑھنا شروع کریں تو پڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ وہ سب لوگ جو مکان خریدنے، بنانے، یا اپنے گھر میں بڑے پیمانے پر renovation کرانے کا ارادہ رکھتے ہوں، یہ کتاب پاس رکھ لیں۔

خوب اہم ایکسپوژر ملے گا، جس کی بنیاد پر مارکیٹ میں سامان کی خریداری کرتے میں، یا ٹھیکیدار وغیرہ ایسے متعلقہ لوگوں سے بات کرتے سمے آپ ہر گز ہر گز ایک اناڑی نہیں دِکھیں گے۔ بلکہ ایک ایکسپرٹ کی طرح بات کر سکیں گے۔ اپنی سطح پر آگاہی درونِ خانہ اعتماد بخشتی ہے، جبکہ دوسروں کے روبرو اس آگاہی کااظہار مخاطب پر رُعب طاری کرتا ہے۔ مخاطب آپ کو سنجیدہ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آپ کے حق میں فریب دہی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ پہلے سے بنا لیے گئے مکان کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھ سکیں گے۔

کتاب کا ٹائٹل ہے ‘تعمیرِ مسکن’۔ جبکہ بشارت بھائی کے اپنے پلیٹ فارم کا نام ہے ‘الحمید ایسوسی ایٹس’ جس کی ویب سائٹ اور یو ٹیوب چینل بھی موجود ہیں۔

بشارت حمید شہر فیصل آباد میں آباد ہیں۔ گیارہ برس موبی لِنک کے ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ میں جاب کر چکے ہیں۔ سن 2016 میں جب Warid اور Mobi Link مَرج کر دئیے گئے، تب بشارت بھائی نے گولڈن ہینڈ شیک کے تحت جاب کو خیر باد کہہ کر اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی تھی جو پراپرٹی اور کنسٹرکشن کا کام کرتی ہے۔ نیز، سب جانتے ہیں، کاروبار کے ساتھ ساتھ وہ ایک معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ سماجی مسائل پر اُن کی تحاریر نہ صرف سوشل میڈیا پر مقبول ہوئیں، بلکہ وقیع قومی اخبارات کی زینت بھی بنیں۔

گھر پیارا گھر 

طیبہ

پردیس ہو, کرایہ کا مکان ہو یا کمپنی کا دیا ہوا گھر, ہر شخص کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے…
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
فیس بُک پر بشارت حمید محترم کی کتاب ‘تعمیر مسکن’ کا ٹائٹل اور ہنرمندی کی تفصیل اور سب سے بڑھ کر گھر کی تعمیر (بالکل ایک نیا موضوع تھا) دیکھ کر بے ساختہ دل مچل گیا..(ویسے بی ہائینڈ دا سین ایک کہانی اور بھی تھی جس کی وجہ سے اس کتاب پر دل آیا)…..ایک دو دن تو صبر سے گزارے… پر جب ہر دوسرا شخص اس کتاب پر تبصرہ کرنے لگا تو ہم سے ہضم نہ ہوا سکا اور جھٹ سے کتاب زبردستی خود کو ارسال کروا لی…. اور بہت شُکریہ کہ انہوں نے بلاتاخیر کر بھی دی….
بھلا ہو ڈاک والوں کا جنہوں نے بھیجنے میں اتنی دیر کر دی کہ عید سر پر آن پہنچی اور ہم اُسی وقت پڑھنے سے محروم رہ گئے… البتہ ننھی منی سی کتاب دیکھ کر حیران بھی تھے کہ اس میں اتنے بڑے گھر کی تعمیر کے سارے مسائل کیسے ڈسکس ہو سکتے ہیں…
پر جب اسے پڑھنا شروع کیا تو دل ہی دل میں داد دی کہ واقعی ہی سمندر کو کوزے میں بند کرنے والی مثال صادق ہے… ہر مسئلہ کو آسان الفاظ میں ڈسکس کرتے ہوئے ساتھ ہی حل بتا دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ لکھنے والا اپنے شعبہ سے مخلص ہے…
عام طور پر جو گلی محلوں میں صرف بلڈنگ کی تعمیر ہی ٹھیکیدار کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے.. وائرنگ, واٹر, گیس سپلائی اور دیگر کام الگ الگ بندوں سے کروائے جاتے ہیں… بہت سا کام جو دیکھنے میں معمولی لگتا ہے وہ مالک مکان بچت کے لیے خود ہی کر لیتا ہے ..
اور ہمارے یہاں تعمیر کچھ یوں بھی ہوتی ہے.. جب پلاٹ لیا بنیادیں کھڑی کر دیں..دو چار سال بعد دل کیا کسی مستری سے دیواریں بنوا لیں.. جب دل کیا چھتیں بنوا لیں, اور جب محسوس ہوا کہ پیسہ فالتو بھی ہے تو پینٹ کروا لیا یا ٹائلیں لگوا لیں وغیرہ.. بظاہر اس سستے اور وقتی بچت کے چکر میں ناقص تعمیر اور دوہری رقم خرچ کرکے اپنے تئیں خود کو سیانا سمجھ لیا جاتا ہے… پر تھوڑے عرصہ بعد یہی مسائل بار بار درپیش ہونے پر اس سے کہیں دُگنی رقم خرچ ہو جاتی ہے…
اندر اندر کھوکھلے ہو جاتے ہیں گھر
جب دیواروں میں پانی بھر جاتا ہے

خاندان کو بہتر بنانے اور بچوں کی تربیت کے لیے

حاصلِ مطالعہ یہ کہ ہر کام کرنے کا ایک خاص منظم طریقہ ہوتا ہے جو بدقسمتی سے اب تک پاکستان میں مقفود رہا ہے…ہمارے یہاں نہایت اشد مجبوری کے علاوہ کسی شعبے میں ماہر کی خدمات حاصل کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے…نام نہاد بچت کرنے والا واٹر لیکج اور اس سے متعلقہ مسائل پر خود دس بار تھوڑا بہت خرچ کر کے وقتی طور پر حل کرتا رہے گا مگر کسی پلمبر سے ایک ہی بار حل کروانے کو پیسے کا زیاں سمجھے گا… ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کام کو باقاعدہ اور منظم طریقے سے کرنے کی عادت ڈالنے کی شروعات کی جائے تاکہ نہ صرف حقیقی بچت ہو بلکہ وقتی سستا کام کرنے والے ناتجربہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہو
…اور وہ باقاعدہ ہنر سیکھ کر کسی بھی شعبے کو اپنائیں..

گھر کی تعمیر سے پہلے علم

شہزاد حسین

ہمارے فیس بک کے بہت اچھے دوست، بشارت حمید بھائی نے گھر کی تعمیر کے حوالے سے ایک بہت handy اور معلوماتی کتاب “تعمیر مسکن” کے نام سے لکھی ہے جو ان لوگوں کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے جو اپنا گھر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں

گھر بنانا آسان نہیں۔ عمر بھر کی جمع پونجی لگ جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اکثریت، اپنی زندگی بھر کی کمائی کسی انجان ٹھیکیدار کے ہاتھ میں رکھ دیتی ہے۔ اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹھیکیداروں کی اکثریت پیسے بچانے اور منافع بڑھانے کے چکر میں خوب ڈنڈی مارتی ہے جسکا زبردست نقصان مالک مکان کو پہنچتا ہے۔

میں چونکہ کنسٹرکشن/انٹیریئر ڈیزائن کے شعبے سے بھی وابستہ ہوں تو اندر کی ایسی تمام کہانیاں جانتا ہوں۔ میں نے لوگوں کو کروڑوں روپے لگا کر ناقص گھر بناتے اور بعد میں پچھتاتے دیکھا ہے

اسی لیے، گھر بنانے جیسا اہم ترین کام کرنے جائیں، تو بنیادی معلومات ضرور حاصل کیجیے۔ بشارت بھائی کی اس کتاب میں انکا برسوں کا تجربہ بول رہا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے کنسٹرکشن کے حوالے سے ہر پہلو پر روشنی ڈالی یے۔ کتاب تقریباً 50 صفحات پر مشتمل ہے جسے ایک سے دو نشستوں میں باآسانی مکمل کیا جاسکتا ہے۔ گھر کی تعمیر سے پہلے، ان بنیادی باتوں کا علم ہونا انتہائی ضروری ہے۔۔۔۔!

مکان بنانے کی رہنمائی

حنیف سمانا

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ہمارے فیس بک کے مہربان دوست بشارت حمید جن کا تعلق تعمیرات کے شعبے سے ہے۔ انہوں نے اپنا مکان بنانے میں رہنمائی کے لئے “تعمیرِ مسکن” کے عنوان سے ایک کتاب مرتّب کی ہے۔ بشارت بھائی کی نظرِ عنایت کہ یہ کتاب اُنہوں نے خادم کو بھی بھجوائی ہے۔ یہ کتاب انتہائی کارآمد ہے۔ خاص طور پر اُن لوگوں کے لئے جو اپنا مکان بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کتاب میں مکان بنانے کے مختلف مراحل کے بارے میں انتہائی قیمتی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
مثلا” مکان کی تعمیر کے لئے سب سے پہلے کنٹریکٹر کا صحیح انتخاب، پھر مکان کے لئے بنائے گئے نقشے کی ضرورت و اہمیت، آرکیٹیکٹس اور اس کا کام، پھر مکان کی تعمیر کے لئے ایک بجٹ کا تعّین، پھر بنیادوں کی کھدائی سے لے کر چھت کے پردوں تک چُنائی، بجلی، پانی، سیوریج، گیس کی لائنوں کی پائپنگ، دروازوں کی چوکھٹ، دیواروں کا پلستر ۔۔۔۔ غرض بڑی باریک بینی سے تمام معلومات کی فراہمی۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ خدمت جس کے لئے بشارت بھائی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ یہ کتاب پڑھ کے مجھے مکان تعمیر کرنے کے بارے میں بہت سی ایسی معلومات ملی جو اس سے قبل میرے علم میں نہیں تھیں۔

اپنا گھر

مریم مجید ڈار

مسکن1 1
تعمیر مسکن کا مطالعہ کرتے ہوئے

“اپنا گھر” ہر کسی کے لئے ایک ایسا خواب ہوتا ہے جس کی تعبیر میں اکثریت کی ساری عمر گزر جاتی ہے اور خدا خدا کر کے خوابوں کا آشیانہ میسر آتا ہے۔

ابا کی جاب اور اپنی پڑھائی کے سلسلے میں کئی گھر اور شہر بدلے۔ کئی مسائل کا سامنا کیا۔ گرمیوں ، سردیوں کی مناسبت سے اکثر گھروں میں کوئی نہ کوئی مسلہ لاحق رہتا اور گاوں لوٹ جانے تک ہمیں کرائے کے گھروں میں مسائل کے ساتھ نبرد آزما ہوتے ہوئے رہنا پڑا۔
حقیقتا ایمان دار آدمی اس زمانے میں اپنے سب بچوں کو اعلی تعلیم دلوا رہا ہو تو سچ یہ ہے کہ وہ گھر کی تعمیر یا خریدوفروخت کو کوہ گراں سمجھتا ہے اور گھر بنوانا ایک ایسی مصیبت نظر آتا ہے جس سے راتوں کی نیندیں اڑ جائیں اور دن کا سکون قصہ پارینہ ہو جائے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ رقم یکمشت ملی تو ہم نے اسلام آباد میں لئے گئے پلاٹ پر گھر کی تعمیر کا خواب دیکھا۔ لیکن میرے ابا اس سلسلے میں پیش آنے والے مسائل، ناتجربہ کاری ، وقت، لیبر، میٹیرئیل کی الجھنوں سے اتنا گھبرائے کہ اس پلاٹ کے گیٹ پہ تالا لگا کر ایک بنا بنایا گھر خرید لیا۔
خدا کا شکر ہے کہ گھر میں کوئی بڑا مسئلہ تاحال نظر نہیں آیا لیکن اپنی مرضی اور ڈیزائن کے حوالے سے جو خواب میں نے دیکھے تھے وہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔

“تعمیر مسکن” بشارت حمید صاحب کا انتہائی معلوماتی کتابچہ ہے جس میں مرحلہ وار گھر کی تعمیر کے حوالے سے ضروری اور انتہائی درست مشوروں کو ترتیب دیا گیا ہے۔ بنیادوں کی کھدائی سے ریلنگ اور دیواروں کے رنگ تک ہر مرحلہ نہایت آسان اور عام فہم زبان میں بیان کیا گیا ہے ۔اپنا گھر بنانے کے خواہش مند افراد کے لئے اس کتاب میں وہ ساری ضروری رہنمائی موجود ہے جس کے لئے بعض اوقات ہفتوں بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے اور بہت سے لوگوں سے مشاورت کی ضرورت پڑتی ہے۔

میں اس معلوماتی کتاب کے لئے آپ کی بہت شکر گزار ہوں اور دعا ہے کہ خدا آپ کے کاروبار میں ترقی اور آپ کو مزید عزت سے نوازے۔

خاکہ، خیال اور شکل

دعا  عظیمی

محترم بشارت حمید صاحب کی کتاب “تعمیر مسکن” بالکل ایسے ہی وجود میں آئی جیسے کوئی عمارت کہ جس کا خاکہ ذہن کے کسی کونے کھدرے میں ہوتا ہے پھر اس وہم نما خاکے کو خیال کا لبادہ پہنایا جاتا ہے, وہ شکل نکالتا ہے اور کاغذ پر اترتا ہے ایک نقشے کی صورت کچھ حسابی کتابی شکلوں کا میزان اٹھائے.

تب گھر بنانے والوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے وہ اپنے گھر کو نقشے کی صورت میں دیکھنا شروع کرتے ہیں . اور راحت کے ابدی سکون کی لہر ان کے رگ وپے میں سرائیت کر جاتی ہے.  لیکن جب مرحلہ آتا ہے مکان کی بنیادیں بھرنی ہیں بھرتی ڈالنی ہے. ٹھیکے پہ بنانا ہے ود میٹیریل اور لم سم ٹھیکہ ریٹ کیا ہوگا. کون سے ماہر تعمیرات کی خدمات سے استفادہ کرنا ہے. کہاں رابطہ کریں کہ مکمل تعبیر پانے میں کم سے کم غلطی کا امکان رہ جائے. یہ سب ایسی سچائیاں ہیں جو ایک عام انسان کی راتوں کی نیند اور دن کا چین اڑا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے. اور پھر معاشرہ بھی کیسا ہائے ستم ظریفی پہ ستم ظریفی ….
سب کو معلوم ہے کہ.لٹ جانے کے لامحدود امکانات ہیں . اگر تو کسی کا پہلے سے تجربہ یا دلچسپی ہے تو پھر تو معاملہ کچھ بہتر کہ عقل بھینس سے بڑی پاس ہو تو ہاتھ کنگن کو آر سی کیا. لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے ایسے دانشوروں کو اس مرحلے پہ چھکے چھڑاتے دیکھا ہے کہ سوچ سے باہر ہے.

ایسے میں عموما دوست احباب یا رشتےدار کام آتے ہیں اور ہمارے ہاں یہ محاورہ بھی شاید سو فی صد ہے جی کہ بیٹی کے کام میں اور گھر کے کام میں اللہ خود آپ کا ہاتھ پکڑتا ہے اور ایسے ایسے سبیل نکالتا ہے کہ گمان میں نہ ہو. ہم متوکل معاشروں میں بڑی خوبی ہے جی سارا کام ہم نے رب کے ذمے لگا کے کرنا ہوتا ہے اور وہ راستے آسان کرتا ہے…

اس کے باوجود رہائش جو سب کا حق ہے ……سب انسان اپنی چھت کی سہولت سے آراستہ نہیں جو تکلیف کا مقام ہے … روٹی کپڑا اور مکان کتھے جاوے ویچارا انسان…ہمارے گھر “تعمیر مسکن” آئی تو اسے دلجمعی سے پڑھا..بشارت حمید صاحب کی مدبرانہ گفتگو ایک نئے گھر بنانے والے کے لیے راہنمائی کا خزینہ ہے-  اور جس نیک نیتی سے انہوں نے آسانی کی خاطر بھلے کے لیے اس پہ محنت کی ہے. اللہ کریم ان کی کاوش کی جزا دے. اس میں بہت سی باتوں میں راہنمائی ہے.

کل اسے داماد کو تحفے میں دی ہے کہ وہ آجکل اس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ مجھے کتاب بھیجنے کا بہت بہت شکریہ.. سلامت رہیں اور اپنے حصے کی شمع جلاتے رہیں.  اللہ پاک اس نیکی کو قبول فرمائیں اور لوگ اس سے استفادہ حاصل کریں

دھوکہ دہی سے بچنے کے ایک سو ایک طریقے

ابن فاضل

تعمیر مسکن
تعمیر مسکن کے مصنف کے بارے میں

یوں تو بھائی بشارت حمید راست فکر، جہاندیدہ، زیرک اور معاملہ فہم انسان ہونے کے ساتھ دیگر ان گنت خوبیوں پر مشتمل خوبصورت متوازن شخصیت ہیں. مگر بطور خاص انکی انسانوں سے محبت اور انکی بھلائی کی آرزو نے ہمیں ان کے چاہنے والوں کی طویل فہرست میں کہیں کھڑا رہنے پر مجبور کر رکھا ہے.

اپنا گھر بنانا کسی بھی انسان کے لیے زندگی کا سب سے خوبصورت اور خوشگوار تجربہ ہوتا ہے. لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں بدعنوانی اور جھوٹ کا چلن نسبتاً زیادہ ہے اور معاشی ناہمواری کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید محدود، ایسے میں کایاں لوگ گھر بنانے کے متمنی سادہ لوح لوگوں کا جی بھر کے استحصال کرتے ہیں. جو سستے کی لالچ کی وجہ سے ان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں. نتیجتاً انکا گھر بنانے کا خوبصورت سپنا، کسی ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو جاتا ہے.

گھر بنانے سے پہلے کسی بھی عام ناتجربہ کار آدمی کو جن امور کا علم ضروری ہے اور جن باتوں پر عمل کرکے وہ گھر کی تعمیر ایسے سنہری خواب کو دلکش حقیقت میں تبدیل کرسکتا ان سب کا احاطہ بھائی بشارت حمید نے اپنی زبردست کتاب “تعمیر مسکن” میں بہت خوب صورت، آسان فہم اور مفید انداز میں کردیا ہے. بلکہ جس جس مقام پر متوقع دھوکہ دہی سے بچنے کیلئے راہنمائی کی گئی ہے اسے دیکھ کر تو جی چاہ رہا ہے کہ اس کتاب کا نام

” دھوکہ دہی سے بچنے کے ایک سو ایک طریقے ” ہونا چاہئے تھا.

معاشرتی اور بطور خاص اخلاق اور تہذیب سے متعلقہ انسانی رویوں کے مسائل اور ان کے حل پر گاہے خلوص دل سے لکھتے رہتے ہیں. ایک زمانہ انکی تحریروں سے فیض یاب ہوتا ہے. یوں تو عرصہ تین سال سے تعمیر کے شعبہ سے وابستہ ہیں مگر تجزیاتی ذہن کے مالک ہیں اس لیے اس کام کی وسعت وگہرائی اور عمیق تفصیلات پر کماحقہ دسترس رکھتے ہیں.

کسی بھی پروفیشنل کی اپنی ہی فیلڈ کے متعلق ایسی راہنمائی یقیناً اس کی اعلیٰ ظرفی اور نیک نیتی اور خداترسی اور اللہ کی ذات پر کامل یقین کا بین ثبوت ہے. اللہ کریم آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے. اور جو احباب گھر تعمیر کرنا چاہتے ہیں وہ کسی بھی کام سے پہلے اسے اچھی طرح ضرور پڑھیں.

بات یہ ہے کہ گھاگ ٹھیکیدار، اناڑی کسٹمر کو دو منٹ میں پہچان جاتا ہے اور مستقبل قریب میں اسے چونا لگانے کی پوری اسٹریٹیجی تیار کرلیتا ہے۔ آپ کے لیے وہ پہلا ٹھیکیدار ہوگا، پر اسکے لیے آپ شاید پچاسویں کسٹمر ہو۔ لہذا، اس گیم میں آپ کا جیتنا تقریباً ناممکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *