مشاعرہ یا مقابلہ حسن۔۔۔؟

mehfil mushaira
Spread the love

نازش ہما قاسمی ۔

عورتوں کو اسلام میں بہت ہی اعلیٰ و ارفع مقام عطا کیا گیا ہے۔ اسے گھر کی ملکہ کا خطاب دیا گیا ہے۔ گھروں کو سنوارنا، بچوں کی تعلیم وتربیت پر خصوصی دھیان دینا، فکر معاش سے آزاد، عورت کو چہار دیواری کے اندر اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ عورت ہے یعنی چھپانے والی چیز۔ بحالت مجبوری الگ سے اس میں رخصت دی گئی ہے؛  لیکن آج کل جو شاعرات اردو ادب کی خدمات کے لیے سڑکوں اور چوراہوں پر آویزاں ہورڈنگ، بینر اور پوسٹر میں بے پردہ نظر آرہی ہیں۔ حسن جھلک کر عوام کو مجبور کر رہا ہوتا ہے کہ تم فلاں شاعرہ کو جسے اردو صحیح سے لکھنا بھی نہیں آتی، جو اپنا کلام ہندی میں تحریر کرتی ہیں، جنہیں شاعری شین سے ہوگی یا سین سے یہ بھی پتہ نہیں، جنہیں ردیف و قافیہ کا علم نہیں، جو مطلع و مقطع کا فرق نہیں جانتی ہیں، جنہیں صحیح سے روٹی بنانا نہیں آتی وہ اشعار بنارہی ہیں، اشعار کہہ رہی ہیں۔ اسے دیکھنے فلاں مقام پر آجانا۔ اسے سننے ، اس کی خوشبو محسوس کرنے فلاں اسٹیج پر آجانا۔ فلاں شاعرہ کو جو برگ مغلق پوری ہے، جو فریدہ فرید پوری ہے،جو گل برگ وشجر ہے، جو ناشائستہ و نازیبا ہے، جو طبلہ ،طاؤس و رباب ہے، جو چاندنی ، دھوپ ،شبنم، اور شیت لہر ہے، جو لیلی ادیبہ ہے، جو گھونگٹ امروہوی ہے، جو معصوم نظر آتی ہے، جو بلا کی حسین ہے، جو خوبصورتی میں یکتا ہے، جس کی آنکھیں خوبصورت ہیں، جس کے بدن پر لگی خوشبو پورے اسٹیج سے ہوکر ہال تک جا پھیلتی ہے، اسے ایک نظر دیکھنے آجانا، تھوڑا سا اسے سن لینا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ وہ نوجوان شاعرہ ہے نوجوانوں کے دلوں میں بستی ہے۔ اس کے اشعار جو یقیناً بے ہنگم ہوتے ہیں جن سے اردو کی کوئی خدمت نہیں ہوتی، وہ ان اشعار سے مشاعرہ کیسے لوٹ لیتی ہے اس کا مشاہدہ کرنے آجانا۔ وہ تو نوجوان دلوں پر راج کرتی ہیں، نفرت کے اس دور میں محبت سکھاتی ہیں۔ اور مسلم نوجوان، بچے ، بوڑھے سبھی اس اعلان کو پڑھ کر، اس ہورڈنگ کو دیکھ کر، نسوانی نام کو سن کر مشاعروں میں جانے کی پلاننگ کرنے لگتے ہیں اور جاتے بھی ہیں۔ وہ نوجوان جنہیں قوم کے مستقبل کی فکر ہونی چاہئے، قوم کو زوال سے عروج کی طرف لے جانے کی فکر دامن گیر ہونی چاہئے وہ راتوں کو جاگ کر ان جلوہ بکھیرنے والیوں کے اشعار سن کر ان کے حسن پر فریفتہ ہوکر حسن بن صباح کی جنت کی سیر کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس کے  قرب کو اپنے دل میں محسوس کررہے  ہوتے ہیں اور ہر وہ کام جو شاعرات وشاعر نے  اپنے اشعار میں کہے ہوتے ہیں وہ خیالی دنیا میں اس سے فائدہ اُٹھا رہے ہوتے ہیں ۔

مسلمانو۔۔۔! مشاعروں سے ، شاعرات کے کلام سے، شاعرات کے حسن سے زوال پذیر قوم کو مزید پستی تو مل سکتی ہے؛ لیکن عروج نہیں حاصل ہوسکتا ۔ اسلام میں نامحرم عورتوں کا دیکھنا ،سننا ، اس کی خوشبو محسوس کرنا، اسے لمس کرنا سبھی ناجائز و حرام ہیں ۔ لیکن تم حسن کے چکر میں بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، ٹوپی کرتا پاجامہ اور داڑھی رکھ کر ان شاعرات کے کلام سے مستفید ہوتے ہو۔اکثر مشاعروں کے سامعین مدرسوں میں پڑھنے والے ، علم دین حاصل کرنے والےجنہیں یہ سب پتہ ہے کہ یہ درست و جائز کام نہیں وہی وہاں موجود ہوتے  ہیں۔ ان مشاعروں کو کامیاب کرنے والے، وہاں آئے بے ہودہ و بے ہنگم آواز والے شاعر و شاعرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والے یہی مدراس اسلامیہ میں پڑھنے والے سامع ہوتے ہیں جو واہ واہ کہتے ہیں( یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اشعار سمجھنے کی صلاحیت بھی مدارس سے وابستہ افراد میں ہوتی ہے) جنہیں اس غلطی پر آہ آہ کرنا چاہئے تھا، وہی وہاں مرحبا مرحبا کی صدائیں لگاتے ہیں جنہیں مر بے حیا مر بے حیا کا تکرار کرکے وہاں سے چلے آنا چاہئے تھا۔ وہی مکرر ارشاد ، زبیر، فائزہ ، کلثوم و زینب کا نعرہ لگاتے ہیں۔

مسلم نوجوانوں اپنی اس روش کو چھوڑ کرایسے مشاعروں کا بائیکاٹ کریں جہاں اختلاط مرد و زن ہوتا ہے، جہاں ایک ہی اسٹیج پر شاعر وشاعرات جلوہ افروز ہوں، جہاں ادب کے نام پر بے ہودگی و بے غیرتی کا مظاہرہ کیاجاتا ہو، جہاں مشاعرے کے نام پر مجرا کیا جاتا ہو، جہاں مسلم نوجوانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیاجاتا ہے، جن شاعر وشاعرات کے اشعار سے نوجوان سدھرنے کے بجائے عشق مجازی میں مبتلا ہوتے ہوں، تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے لڑکی پر توجہ دیتے ہوں، جنکے اشعار کی وجہ سے عشق پروان چڑھتا ہو، جنہیں دیکھ کر لڑکے لڑکیوں کا آپسی مذاق، اختلاط خراب نہ لگتا ہو۔وہ انہیں جائز ودرست سمجھنے لگتے ہوں۔ ایسے مشاعروں کا بائیکاٹ لازمی ہے۔ ایسے مشاعروں سےقوم کا بھلا نہیں ہوتا۔ ہاں ان  منتظمین کا ہوتا ہے  جنہوں نے اس کا انعقاد کرایا تھا، ہاں ان شاعروں کا ہوتا ہے جو وہاں شریک ہوئے تھے ، ہاں  ان شاعرات کا ہوتا ہے جنہوں نے حسن کی نمائش کی ؛ لیکن تم سامعین کو کیا ملتا ہے؟ گھنٹوں گھٹنوں پر کھڑے رہ کرصرف گھنٹہ۔ ایسی خوشی کا کیا فائدہ جس کا دورانیہ چند منٹوں پر مشتمل ہو اور قوم کے لیے مضر ہو۔

آج کے مشاعرے مشاعرے نہیں رہے، مشاعرے کے اسٹیج کو طوائف کا کوٹھا بنادیا گیا ہے جہاں شاعرات کی شکل میں طوائف کو دعوت دی جاتی ہے، جو شعر سنانے سے زیادہ نوجوانوں کو اپنے میک اپ زدہ حسن کی طرف مائل کرتی ہیں، شعر کی جگہ مجرا کرکے اپنی فیس وصول کرتی ہیں، اپنے جسم کی نمائش مشاعرے کی اسٹیج سے اس طریقے سے کرتی ہیں کہ جسم کے تمام نشیب وفراز واضح طور پر سامعین کو  نظر آتے ہیں، چار کیلو پاؤڈر اور ایک لیٹر لپ اسٹک لگاکر یہ شاعرات ہمارے نوجوانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتی ہیں، اشعار کے ذریعے بھی بے حیائی وفحاشی کی دعوت دی جاتی ہے، آج کے مشاعرے سننے سے زیادہ دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں، ہماری نوجوان نسل کو ایسے مشاعروں، معذرت مجروں میں جاکر اپنی رات کالی نہیں کرنی چاہیے اور پوری قوم سے گزارش ہے کہ اس طرح کے مشاعرے بند کردئے جائیں، جن کی شریعت میں عورت کی آواز کو بھی عورت کہا گیا ہو، وہ لوگ اپنی عورتوں کو سر عام گانا گانے کے لیے کیسے مدعو کرلیتے ہیں ، اس سے اردو کی کوئی خدمت نہیں ہوتی، وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔ غیر ہنستے ہیں کہ ہم ان کے خلاف سازش پر سازش کررہے ہیں اور یہ یہاں واہ واہ کررہے ہیں۔ یہ مشاعرے کے نام پر عیاشی ہے، جو لوگ کوٹھوں پر نہیں جاسکتے وہ بے جھجھک مشاعرہ سننے جاتے ہیں، یہ مشاعرے مہذب اور بظاہر دیندار سمجھے جانے والے لوگ منعقد کرتے ہیں اور اردو کے نام پر مقابلہ حسن کا انعقاد کر بیٹھتے ہیں، ایسے مشاعروں پر فورا سے پیشتر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *