غلط فہمی

غلط فہمی
Spread the love

امین گیلانی اپنی کتاب غلط فہمی میں لکھتے ہیں:

ایک روز میرا ایک سیانہ بیانہ دوست آیا اور ہنس کر کہنے لگا، یار آج میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ ہوا، میں فجر کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا جماعت کھڑی ہوگئی، میں نے جلدی جلدی وضو کیا کی دو سنتیں بھی پڑھنی ہیں، کہیں جماعت سے رہنا جاؤں، وضو کر کے اٹھا، ٹوپی اٹھانے لگا جی ایک چمکتی ہوئی گھڑی نظر آئی، میں نے وہ بھی اٹھا کر جیب میں ڈال لیں کے یقینا کوئی نمازی یہاں بھول گیا ہے۔ شیطان نے ورغلایا بجائے نماز ادا کرنے کے کہنا اور مسجد سے باہر آگیا۔

دور جا کر جیب میں ہاتھ ڈال کر گھڑی نکالی کے دیکھو قیمتی ہے یا معمولی، جب گھڑی دیکھی تو مارے حیرت کے وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا کہ وہ گھڑی میری اپنی تھی۔ جو غلط فہمی میں کسی دوسرے کی سمجھ کر لے بھاگا اور نماز بھی ادا نہ کی۔ اپنے آپ کو لعنت ملامت کی، دل میں ندامت میں ڈوب گیا کی اور واپس آکر تنہا نماز ادا کی اور اللہ میاں سے معافی چاہیں۔ اصل بات یہ ہوئی اپنے شامل ہونے کا احساس اتنا شدید تھا یہ بھی ذہن سے محو ہو گیا کہ میں نے ٹوپی کے ساتھ گھڑی بھی اتار کر رکھی تھی۔ دیکھ لیا غلط فہمی میں انسان کیا کیا حرکتیں کر گزرتا ہے۔

غلط فہمی سید امین گیلانی ص (29)

یہ بھی پڑھیے: دنیا کی محبت اور اس کا علاج

اس واقعہ سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں مال کا کس قدر خریص ہے۔ ایک پکے نمازی کی نظر گھڑی پر پڑ گئی و تقوی کا جذبہ درہ کا آدھا رہ گیا نماز چھوڑی اور گڑی لے اڑا، واقعتا مال کی محبت ایک عظیم فتنہ ہے۔ یہ نمازی تعلق جوڑنے گیا تھا لیکن مال کی محبت نے سے نماز بھی چھڑوا دی اور اللہ کے گھر سے دور لے گیا۔

One Comment on “غلط فہمی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *