یہ کیسی مائیں ہیں ؟

مائیں
Spread the love

یہ کیسی اجنبی مائیں ہیں ؟

نگہت حسین
محنت کرتی ہیں ، نڈھال ہوجاتی ہیں، سوچتی ہیں ، خواب دیکھتی ہیں اس کی تعبیر کے لیے پرجوش ہوتی ہیں ، نیےمنصوبے بناتی ہیں ،
تھک جاتی ہیں اور پھر نئے سرے سے کھڑی ہوجاتی ہیں۔مایوس ہونے لگتی ہیں لیکن پھر سے امید کا دامن تھام لیتی ہیں ۔ایک رستہ مشکل ثابت ہوتا ہے تو دوسرے کا انتخاب کرتی ہیں ۔

لوگوں کے رویوں اور باتوں سے ہمت ٹوٹنے لگتی ہے تو خود ہی اک نئے عزم و حوصلے سے اپنے آپ کو تعمیر کرلیتی ہیں۔کہانیاں سناتی ، نظمیں پڑھتی ، نت نئی سرگرمیوں میں بچوں کے ساتھ تھکنے والی مائیں راتوں کی عبادت میں ، نمازوں کے سجدوں میں ، بس ایک ہی دعا مانگتی ہیں جو ان کے لبوں پر التجا بن کر مچلتی ہے۔ ، ان کی امیدیں ، ان کی آرزوئیں ان کی خواہشات ،ان کی تمنائیں سارے زمانے سے جدا ہیں۔کیوں کہ یہ مائیں خود بھی بہت قیمتی ہیں ۔ان کی اپنی ذات بھی بہت منفرد ہے۔

بھلا کیوں نہ ہو۔انہیں ماں بننے کی بعد صرف ایک ہی تو فکر ہے ایک ہی تو آرزو ہے ایک ہی تو امید ہے اور ایک ہی خوف ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کی گودوں میں جو اللہ رب العزت نے امانتیں دیں ہیں وہ بڑی ہی قیمتی ہیں وہ پوری امت کا اثاثہ ہیں۔وہ کہیں ضایع نہ ہوجائیں۔کہیں کچھ غلط نہ یوجائے کہیں یہ آزمائش ان کے لیے سخت ثابت نہ یوجائے۔کہیں وہ اس بھاری ذمہ داری کو ادا کرنے میں کوتاہی نہ برت رہی ہوں۔اپنے آپ کو بہتر بناتی ہیں کہ بچے کو کوئی غلط مثال نہ جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے لیے مثال بنیں۔(انگلش)

ایک ایک بچے کو محبت سے توجہ سے اسی امید ،چاہت اور آرزو میں محنت کر کے تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ یہ امت زرخیز رہے ۔امت کے بیٹے تیار رہیں آگے آنے والی نسلوں کی تعمیر کے لیے بہادر اور جری مائیں موجود رہیں ایسی نسل تیار ہو جو خوف خدا رکھنے والی ہو۔جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے والی ہو۔جس کا دین مصلحتوں کا شکار نہ ہو۔جس کو حق و باطل کی خوب سمجھ بھی ہو اور تڑپ بھی۔

ہاں ان ماؤں کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہے۔اسی لیے ان کی فکریں سارے زمانے سے جدا ہیں ۔اسی لیے ان کی امیدوں کا مرکز ان کی اولاد ہے لیکن ان کی نظریں اولاد کے مستقبل سے زیادہ اس امت کے کل سے وابستہ ہیں۔
اردگرد کے ماحول میں اجنبی یہ مائیں بڑی انمول ہیں۔کیچڑ میں کھلے سفید کنول کی مانند۔بے داغ اور بے نیاز۔
ہاں ماحول ان کی ہمت ختم کر دیتا ہے۔

اسی میں پریشان ہوجاتی ہیں تو پھر مایوس ہونے لگتی ہیں۔پھر ساری پریشانیوں کو رکاوٹوں کو اور دل توڑنے والے رویوں کو برداشت کر کے نہ صرف اپنے بچوں کا بھلا چاہنے کی چاہت میں مبتلا ہوتی ہیں بلکہ ان نا سمجھوں کے بچوں کا بھی بھلا چاہنے اور اچھا کرنے کی کوشش کرتی ہیں جن کی نظر میں یہ پاگل مائیں ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

ان تمام ماؤں کے نام کہ یہ پریشانی یہ سسکیاں یہ آہیں میرے رب کی نظر میں بڑی انمول ہیں۔
زمانے کی نظر میں یہ بہت عجیب مائیں ہیں۔
اردگرد کے ماحول میں اجنبی مائیں
اپنے خاندانوں میں تنہا مائیں
اندھیرے میں روشنی کی مانند چمکتی مائیں
معصوم کلیوں کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے میں اپنا آپ مرجھا دینے والی مائیں۔

ان کارستہ بڑا کٹھن ہوتا ہے ، رکاوٹوں کا انبار ہوتا ہے ان کے ساتھ دینے والے پیارے بہت کم ہوتے ہیں۔یہ صرف اپنی رب کی چاہت میں سب جھیل جاتی ہیں۔
ان کو کبھی کبھی سن لینا چاہیے ۔ان کو تسلی دے کر ہمت بندھا دینی چاہیے ، ان کے لیے امید و روشنی کے نئے چراغ روشن کردینے چاہیے ۔ان کی آنکھیں میں سجے سپنوں کو تعبیر دلانے کی کوشش کر دینی چاہیے ۔ان کی ٹوٹتی ہمتوں پر نڈھال ہوکر تھک جانے پر ان کو تھام لینا چاہیے۔ان کی دعاؤں کو اپنی دعاؤں میں شامل کر لینا چاہیے۔

یہ اپنے اپنے ماحول کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو تربیت اولاد کے ذریعے روشن کرنے کی سعی میں مصروف عمل ہوتی ہیں۔
آپ کا ساتھ ان کو حوصلہ بخشتا ہے۔ایسی تمام ماؤں کو سلام پیش کجیے ساتھ دیجیے ان کے دل جوئی کیجیے جو اپنے خاندانوں کے آجنبی ماحول میں دینی لحاظ سے ناسازگار ماحول میں اپنی اولادوں کو اللہ کا بندہ بنانے کے جدوجہد میں مصروف ہیں کہ یہ بہت قیمتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وہ ماں کون ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے؟

کوئی بات نہیں۔۔۔ مائیں ضرور سنیں۔

One Comment on “یہ کیسی مائیں ہیں ؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *