وبا کا سبق: وسائل کے بغیر کوئی زندگی نہیں اور کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں

وبا کا سبق
Spread the love

تحریر: ابن فاضل

وبا کا سبق

غالباً انیس سو بانوے تھا. جامعہ کا ایک طالب علم جگر کے سرطان میں مبتلا ہوگیا. وطن عزیز میں موجود سہولیات ناکافی قرار پائیں. زندگی کی واحد امید امریکہ سے علاج کروانا قرار پایا . ستر لاکھ خرچ کاتخمینہ دیا گیا. یونیورسٹی کے تقریباً تمام طلباء ہدف کے حصول میں لگ گئے لیکن نصف تک بھی نہ پہنچ پائے. کسی طرح ایدھی صاحب کو خبر ہوگئی. جامعہ تشریف لائے. معاملہ سمجھا. پھر لاہور ہائی کورٹ کے سامنے مال روڈ پر کھڑے ہوگئے۔

چوک میں ہر طرف بینرز لگ گئے. ہر گذرنے والا شخص جیسے پیسے لٹاتا جاتا. ہم درجن بھر دوست سمیٹنے میں لگے تھے. قصہ مختصر چند روز میں رقم کا انتظام ہوگیا. مریض امریکہ چلا گیا اور صحت یاب ہو کر لوٹا۔

یہ تو ایک مریض تھا وسائل مہیا ہوئے اور وہ جی اٹھا. مگر ایسے ہی درجنوں نہیں سینکڑوں مریض رقم کا بندوبست نہ ہونے پر جینے کی حسرت آنکھوں میں لیے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوجاتے ہیں. سرطان ہی کیا اس سے بھی چھوٹی چھوٹی امراض میں مبتلا لوگ انتہائی قلیل رقم کی عدم دستیابی کی وجہ سے راہی ملک عدم ہوتے ہیں اور جب تک وسائل بہم نہ ہوئے ہوتے رہیں گے۔


بالکل یہی حال بحیثیت قوم بھی ہے. ایک خون آشام وبا کا سامنا تھا. قوموں نے خزانوں کےمنہ کھول دیے. اربوں نہیں کھربوں ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیجز دیے گئے. گھروں میں محدود کیے جانے والوں کو ضروریات زندگی مہیا کی گئیں. راتوں رات ہسپتال بنے. وینٹیلیٹرز ،ادویات ،پی پی ایز، غرض جو جب جہاں درکار تھا مہیا تھا. کہ وسائل تھے. بھارت جیسے ملک نے 270 ارب ڈالر کا پیکیج رکھا ہے۔

وطن عزیز کےلیے وبا کا سبق

ادھر یہ حال کہ لاک ڈاؤن کریں تو کھائیں گے کہاں سے. اور نہ کریں تو بیماروں کو کیسے سنبھالیں گے. ہر دوصورتوں میں وسائل کی کمیابی ماررہی ہے. اللہ کریم کے کرم اور رحم کے سوا کوئی چارہ نہیں. بظاہر لگ یہی رہا ہے کہ غریب قوم کا حال غریب کے بال جیسا ہی ہوگا. لیکن ایک بات سمجھ لیں. دنیا میں عزت، وقار سے صحتمندانہ زندگی جینا ہے تو ہر صورت وسائل مہیا کرنا ہوں گے.۔

اور یہ صرف اور صرف اسی وقت ممکن ہے کہ جب سرکار اور عوام دونوں پوری دیانتداری اور پورے جذبے سے محنت کریں گے. یاد رکھیں وسائل کے بغیر کوئی زندگی نہیں اور کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں. اگر اس وبا سے ہم صرف یہی سبق سیکھ پائے تو بھی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا ایک یادھانی

About احمد سلیم ابن فاضل

View all posts by احمد سلیم ابن فاضل →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *