قرآن جیسی کتاب لکھنا ناممکن کیوں؟

قرآن جیسی کتاب لکھنا ناممکن کیوں؟
Spread the love

قرآن مجید نے اپنے مخالفین کو ایک چیلنج کیا ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بناکر لاؤ، پھر کہا اس جیسی 10 سورتیں بنا کر لاؤ، پھر کہا چلو ایک سورت ہی بناکر لاؤ۔

سورۃ البقرة آیت 23 میں فرمایا:

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ۔

ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔

آگے آیت 24 میں فرمایا

فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ لَنۡ تَفۡعَلُوۡا

پس اگر تم (ایسا) نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکوگے۔

سورۃ الإسراء آیت 88 میں ارشاد ہے

قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَ لَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا۔

کہہ دیجیے یقیناً اگر جمع ہوجائیں (تمام) انسان اور جن اس (بات) پر کہ وہ (بنا) لائیں اس قرآن کی مثل (تو) نہیں وہ لاسکیں گے اس کے مثل اور اگرچہ ہو ان کا بعض بعض کے لیے مددگار ۔

قرآن مجید کے اس چیلنج کو پورا کرنے کا مطلب یہ ہے قرآن مجید جتنی بھی خوبیاں ہے ان تمام معجزانہ خوبیوں والی کتاب بناکر دکھاؤ اور وہ اور اس کتاب میں انداز بھی نیا ہو اور کسی کتاب یا قرآن کی نقل نہ ہو۔ ذیل میں ہم قرآن کی معجزانہ خوبیوں کا ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ قرآن جیسی کتاب لکھنا کیوں ناممکن ہے۔

اعجازِ قرآن(Miracles of The Quran)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ”.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ ’’ ہر نبی کو ایسے ایسے معجزات عطا کئے گئے کہ (انہیں دیکھ کر) لوگ ان پر ایمان لائے (بعد کے زمانے میں ان کا کوئی اثر نہیں رہا) اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ وحی (قرآن) ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کی ہے ( اس کا اثر قیامت تک باقی رہے گا) اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے پیروکار لوگ دوسرے پیغمبروں کے پیروکاروں سے زیادہ ہوں گے‘‘۔

(صحیح البخاری:4981)

قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔ قرآن مجید کی کچھ اہم اعجازی خصوصیات درجِ ذیل ہیں

صوتی اعجاز (Quranic Miracle of Sound)

قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو پڑھنے سمجھنے کے ساتھ ساتھ تلاوت بھی کی جاسکتی ہے۔ اور قرآۃ قرآن کا مکمل علم ہے۔ دنیا میں جتنی کتابیں ہیں ان کو یا تو آپ پڑھ سمجھ سکتے ہیں یا پھر اگر شاعری کی کتاب ہے تو گا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر کارل مارکس کی کتاب داس کیپیٹل کو آپ شاعری کی طرح گانا چاہیں تو گا نہیں سکیں گے۔

اور اگر علامہ اقبال کی شاعری کو نثر کی طرح پرھنا چاہیں تو نہیں پڑھ سکیں گے۔

لیکن قرآن مجید کی یہ خوبی ہے کہ آپ اسے پڑھ بھی سکتے ہیں اور تلاوت بھی کر سکتے ہیں۔

فصاحت و بلاغت

قرآن میں الفاظ کی فصاحت ہے، ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو ادب کے لحاظ سے انتہائی فصیح ہیں، اور معنی کے لحاظ سے انتہائی بلیغ ہیں۔ قرآن نے جامع الفاظ استعمال کئے ہیں، قرآن نے جو بات ایک لفظ میں کہی ہے وہ عام انسان جملوں میں کہہ سکے گا، اور جو بات ایک جملے میں کہی ہے وہ بات عام انسان کتابوں میں ہی لکھ سکےگا۔

اس کی مثال آپ قرآن کی تفسیروں کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ آج تک قرآن کی تفسیریں لکھی جا رہی وہ بھی سو سو جلدوں میں لیکن قرآن کی جامعیت ابھی تک برقرار ہے۔

الفاظ کا اعجاز (Miraculous Selection of The Words)

کسی زبان کا کوئی شاعر یا ادیب ، خواہ اپنے فن میں کمال کے کتنے ہی بلند مرتبے کو پہنچا ہوا ہو یہ دعوٰی نہیں کرسکتا کہ اس کے کلام میں کہیں بھی کوئی لفظ غیرفصیح استعمال نہیں ہوا، کیونکہ بسا اوقات انسان اپنے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے کسی نہ کسی غیر فصیح لفظ کے استعمال پر مجبور ہوجاتا ہے ، لیکن … پورے قرآن کریم میں نہ صرف یہ کہ کہیں کوئی ایک لفظ بھی غیر فصیح نہیں ہے، بلکہ ہر لفظ جس مقام پر آیا ہے وہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ایسا اٹل ہے کہ اسے بدل کر اسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ دوسرا لفظ لانا ممکن ہی نہیں ہے۔

عربی زبان ایک انتہائی وسیع زبان ہے جو اپنے ذخیرہ الفاظ کے اعتبار سے دنیا کی دولت مند ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ چنانچہ اُس میں ایک مفہوم کے لیے معمولی فرق سے بہت سے الفاظ پائے جاتے ہیں، قرآن کریم الفاظ کے اس وسیع ذخیرے میں سے اپنے مقصد کی ادائیگی کے لیے وہی لفظ منتخب فرماتا ہے جو عبارت کے سیاق(Context) اور معنی کی ادائیگی اور اسلوب (Text Pattern) کے بہاؤ کے لحاظ سے موزوں ترین ہو، یہ بات چند مثالوں سے واضح ہوسکے گی۔

(1) زمانہ جاہلیت میں “موت” کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے بہت سے عربی الفاظ مستعمل تھے۔

مثلاً: موت، ہلاک، فناء، حتف، شعوب، حمام، منون، سام، قاضیہ، ہمیغ،نیط، فود، مقدار، جباز، قتیم، حلاق، طلاطل، طلاطلہ،عول، ذام،کفت ، جداع، حُزرۃ،خالج۔

لیکن ان میں سے اکثر الفاظ کے پیچھے عربوں کا یہ نظریہ بھی تھا کہ موت کے ذریعہ انسان کے تمام اجزاء ہمیشہ کے لیے فنا ہوجاتے ہیں، اور اس کا دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں۔ چونکہ وہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے قائل نہیں تھے۔

اس لیے انھوں نے موت کے لیے جتنے نام تجویز کیے اُن سب میں ان کا نظریہ بھی موجود تھا۔ اگر قرآن کریم اہلِ عرب کی انہی قدیم تعبیرات پر اکتفاء کرتا تو موت کے بارے میں اُن کے باطل نطریہ سے کسی درجہ میں موافقت کا شبہ ہوسکتا تھا،

چنانچہ جس جگہ موت کی حقیقت بیان کرنی تھی، وہاں موت کے مفہوم کے لیے قرآن نے ایک نیا لفظ اختیار کیا اور عربی زبان کو ایک ایسا خوب صورت ، مختصر ، جامع اور فصیح لفظ عطا کیاجس سے موت کی حقیقت بھی واضح ہوجائے اور وہ لفظ ہے” تَوَفِّی” وفات جس کے لغوی معنی ہیں”کسی چیز کو پورا پورا وصول کرلینا” اس لفظ نے یہ بھی واضح کردیا کہ موت ابدی فنا کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح قبض کرنے کا نام ہے۔ ”موت” کے لیے یہ لفظ قرآن کریم سے پہلے کسی نے استعمال نہیں کیا تھا۔

(2)ہر زبان کے بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو صوتی اعتبار سے فصیح اور پسندیدہ نہیں سمجھے جاتے، لیکن چونکہ اُن کے مفہوم کی ادائیگی کےلیے اور متبادل لفظ نہیں ہوتا، اس لیے اہلِ زبان انھیں استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

عربی میں اینٹ کے لئے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں وہ صوتی لحاظ سے فصیح نہیں مثلاً : اٰجُرُّ، قَرمَدُ اور رطُوبُ۔

 اب دیکھیئے قرآن نے کس طرح اینٹوں کا ذکر بھی کردیا اور یہ الفاظ بھی استعمال نہیں کئے۔

چنانچہ ارشاد فرمایا: وَقَالَ فِرعَونُ یَا اَیُّھَاالمَلَامَاعَلِمتُ لَکُم مِّن اِلٰہٍ غَیرِی فَاَوقِد لِی یَاھَامَانُ عَلَی الطِّینِ فَاجعَل لِّی صَرحاً

(القصص: 38)

“اور فرعون نے کہا کہ اے سردارانِ قوم! مجھے اپنے سوا تمھارا کوئی معبود معلوم نہیں، پس اے ہامان! گیلی مٹی پر آگ روشن کرکے میرے لیے ایک محل تعمیر کرو۔”

یعنی اینٹوں سے محل تعمیر کرو۔

(3) عربی میں کچھ الفاظ ایسے ہیں جو واحد ہونے کی حالت م فصیح ہوتے ہیں اور جمع کی حالت میں ثقیل (بولنے میں مشکل) سمجھے جاتے ہیں، جیسے زمین کو عربی میں ارض کہا جاتا ہے اور اس کی جمع ارضون اور اراضی ہے جو کہ غیر فصیح اور ثقیل الفاظ ہے، عرب ادیب ان الفاظ کو مجبوراً استمعال کرتے تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل (Alternate) نہیں تھا۔

لیکن جب قرآن کی باری آئی تو اس نے اس غیر فصیح لفظ کو بھی استعمال کئے بغیر پنے مقصد کی بات بھی خوبصورت انداز میں بیان کردی

اَللہُ الَّذِی خَلَقَ سَبعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الاَرضِ مِثلَھُنَّ (الطلاق 12)

 “اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین میں سے بھی اتنی ہی۔”

یکھیے یہاں سَمَاء (آسمان) کی جمع تو لائی گئی ، لیکن قرآن نے اَرض کی جمع لانے کی بجائے اس کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے وَمِنَ الاَرضِ مِثلَھُنَّ کی تعبیر اختیار فرمائی جس کے اسرار و نکات پر جس قدر غور کیجیے معجزانہ بلاغت واضح ہوتی ہے۔

ترکیب کا اعجاز: (Sentence Formation)

قرآن مجید کے جملوں کی ترکیب بھی ایک معجزاتی ہے۔ اور اس کا ایک اپنا انداز بیان ہے۔ مثال کے طور پر عربوں میں قصاص (قتل کے بدلے قتل) ا رواج موجود تھا۔ عرب ادیبوں نے اس کے فائدے ظاہر کرنے کے لئے کچھ جملے بنائے تھے جیسے:

اَلقَتلُ اِحیَاء لِلجَمِیعِ” قتل اجتماعی زندگی ہے”

اَلقَتلُ اَلقٰی لِلقَتلِ “قتل سے قتل کی روک تھام ہوتی ہے”

 اَکثَرُواالقَتلَ لِیَقِلَّ المقَتلَ “قتل زیادہ کرو تا کہ قتل کم ہوجائے”

لیکن ان جملوں میں ایک طرف قتل کو برا کہا جا رہا ہے دوسری طرف اچھا۔ گویا قتل کرنے پر ابھارا جا رہا ہے۔ جو کہ تضاد ہے۔

لیکن قرآن مجید نے اسی چیز ایک خوبصورت معجزاتی انداز میں اس طرح بیان کیا کہ:

وَلَکُم فِی القِصَاصِ حَیٰوۃ “

اور تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے”

 البقرہ آیت 179

ایک اور مثال سے سمجھئے قرآن میں سورۃ الأحزاب آیت 4 میں فرمایا:

مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَیۡنِ فِیۡ جَوۡفِہٖ

کسی مرد کے اندر اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے۔

اگر قرآن یہاں انسان کے اندر دو دل کا ذکر کرتا تو اس کا بیان غلط ہوجاتا کیوں کہ انسان میں عورت بھی آتی ہے اور عورت جب حاملہ ہوتی ہے تو اس کے اندر بچے کا دل بھی ہوتا ہے۔

اسلوب کا اعجاز (Text Pattern)

قرآن مجید کا اسلوب بھی معجزانہ ہے۔ یہ نہ نثر ہے نہ شاعری ہے لیکن نثر اور شاعری کی دونوں خوبیاں اس میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں بالکل نیا انداز اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو کہ کسی انسانی اسلوب جیسا نہیں ہے۔ یہ ایک کلام ہے جو کتاب کی صورت میں ہے۔

نظم کا اعجاز

نظم قرآن کی ایک ہلکی سی جھلک اس مثال میں دیکھی جاسکتی ہے، سورہ حجر میں ایک جگہ ارشاد ہے:

نَبِّیء عِبَادِی اَنِّی اَنَاالغَفُورُالرَّحِیمُ ۔ وَاَنَّ عَذَابِی ھُوَالعَذَابُ الاَلِیمُ ۔ (الحجر : 49، 50)

 “میرے بندوں کو خبر دیدو کہ میں غفور اور رحیم ہوں، اور میرا عذاب (بھی) بڑا درد ناک ہے۔”

اس کے فوراً بعد ارشاد ہے:

وَنَبِّئھُم عَن ضَیفِ اِبرٰھِیمِ ۔ (الحجر: 51) اور انھیں ابراہیمؑ کے مہمانوں کی خبر دے دو۔”

اور اس کے بعد فرشتوں کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے کا مشہور واقعہ بیان کیا گیا ہے، بظاہر ان دونوں باتوں میں کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا ،لیکن ذرا غور سے دیکھئے تو درحقیقت حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ پہلے جملے کی تائید ہے۔ اس لیے کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آئے تھے،

انھوں نے دو کام کئے، ایک یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ کو حضرت اسحٰق ؑ جیسے صالح بیٹے کی خوش خبری دی، دوسرے انہی فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کی بستی پرجاکر عذاب نازل کیا، پہلاکام”اَنَاالغَفُورُ الرَّحِیمُ” کا مظاہرہ تھا اور دوسرا کام ” عَذََابِی ھُوَالعَذَابُ الاَلِیمُ” کا۔ اس طرح یہ دونوں جملے باہم نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں، لیکن الگ الگ دیکھئے تو ان کی مستقل حیثیت بھی ہے۔

حفاظتی اعجاز

قرآن زمین پر وہ واحد کتاب ہے جس میں 14 سو سال سے آج تک ایک حرف کی تبدیلی بھی نہیں آئی۔ یہ بات صرف مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم بھی مانتے سر ولیم میور جو کہ اسلام کے خلاف کتابیں لکھتے تھے اس نے اپنی کتاب The life of Muhammad میں لکھا ہے کہ

“میں پورے ہوش وحواس سے اس بات کا اعتراف کرتا ہو کہ قرآن مجید جس طرح محمد (ص) نے اپنی امت کو دیا آج تک اسی حالت میں ہے اس میں ایک حرف کی تبدیلی بھی نہیں آئی۔”

سورۃ الحجر آیت 9 میں فرمایا:

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ۔

ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

سائنسی معجزہ

جو چیزیں جدید سائنس نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آج معلوم کی ہے قرآن مجید نے ان کا ذکر 14 سو سال پہلے کردیا ہے۔ جو کہ اس کے الہامی کتاب ہونے کا سائنسی ثبوت ہے۔

جیسے بگ بینگ، کائنات کا پھیلنا، زمین کی بیضوی شکل، زندگی کا پانی سےپیدا ہونا، ایمبریولاجی، واٹ سائیکل، سمندر کے اندر اندھیرا، وغیرہ۔ اس کی تفصیل کے لئے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقریر سنیں: قرآن اور جدید سائنس۔

ریاضیاتی معجزہ (Mathematical Miracle)

قرآن مجید میں ریاضیاتی معجزہ بھی ہے. قرآن مجید میں ہر حرف، ہر لفظ، ہر جملہ، ہر آیت، ہر سورت گن کر رکھ دی گئی ہے۔ ایسی کتاب آج کے جدید کمپیوٹر پر بھی نہیں لکھی جا سکتی، 14 سو سال پہلے انسان کے ہاتھ سے لکھنا تو ناممکن ہے۔

مثالوں سے سمجھیں:

(1) سورۃ آل عمران آیت 59 میں فرمایا:

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ

بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے ہاں آدم کی مثال کی طرح ہے (کہ) اس نے پیدا کیا اسے مٹی سے ، پھر کہا اس کو ” ہوجا “ تو وہ ہوگیا۔

اس آیت میں ظاہری پہلو یہ ہے کہ جس طرح پہلا انسان آدم علیہ السلام بغیر باپ کےپیدا ہوا اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔

لیکن اس مماثلت کے ساتھ قرآن میں ایک اور معجزاتی مماثلت بھی ہے وہ یہ کہ پورے قرآن میں آدم عہ کا نام 25 مرتبہ آیا ہے اور اسی طرح عیسیٰ عہ کا نام بھی 25 مرتبہ ہی آیا ہے۔

سورۃ نمبر 7 تک دونوں کا نام سات سات مرتبہ اور سورۃ نمبر 19 تک دونوں کا ذکر 19 مرتبہ نام آیا ہے۔

(2) قرآن مجید میں لفظ یوم (دن) 365 مرتبہ آیا یے اور سال میں دن بھی 365 ہوتے ہیں۔

(3) قرآن میں لفظ شھر (مہینہ) 12 مرتبہ آیا ہے اور سال میں مہینے بھی 12 ہوتے ہیں.

(4) سورۃ البقرة  آیت 143 میں فرمایا:

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا

 اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک بیچوں بیچ والا گروہ بنایا ہے۔

سورۃ البقرہ میں 286 آیات ہیں اور اس کی بیچ والی آیت 143 ہے جہاں اس امت کو بیچ والی امت کہا گیا ہے۔

اس طرح کے ریاضیاتی معجزات سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ یہ صرف چند مثالیں سمجھانے کے لیے دی گئیں ہیں۔

پیش گوئیاں (Prophecies)

قرآن مجید میں اللّٰہ نے کچھ ایسی پیش گوئیاں کی ہے جو بعد میں حر بحرف ثابت ہوئیں۔

(1) فرعون کا جسم

سورۃ یونس  آیت 92 میں فرمایا:

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ

 اے فرعون ! آج ہم تیرے بدن کو بچالیتے ہیں تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے اگرچہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں۔

بعد میں فرعون کا جسم سمندر سے صحیح و سلامت  برآمد ہوا۔ جو مصر کے عجائب خانے میں آج تک موجود ہے۔

(2) انسان خون بہائےگا

جب اللّٰہ انسان بنا رہا تھا تو فرشتوں نے عرض کی:

وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَ یَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں (انسان کو) خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں  نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔

سورۃ البقرة  آیت 30

اس آیت پیش گوئی ہے کہ انسان زمین میں فساد کرے گا اور خون ریزیاں کرے گا۔

انسان کی پوری تاریخ جنگوں کی تاریخ ہے، صرف ورلڈوار 1 اور ورلڈ وار 2 کی خون ریزیاں دیکھے تو اربوں انسانوں کا خون بہا ہے۔

صرف ہٹلر نے 60 لاکھ یہودیوں کا قتل عام کیا۔ جس کو ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے۔

امریکہ نے عراق و افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا۔

میں آج 10 محرم پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس دن سیدنا حسین رض کو ان کے خاندان سمیت 139 لوگوں کا مظلومانہ خون بہادیا گیا۔ وغیرہ

(3) بگ بینگ کی دریافت غیر مسلم کریں گے

سورۃ الأنبياء آیت 30 میں فرمایا

اَوَ لَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ

کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انھیں جدا کیا۔

اس آیت میں بگ کا ذکر ہے جس کی دریافت مائیکل لمیٹر اور ایڈون ہبل نے کی تھی جو کہ غیر مسلم سائنسدان تھے۔ اور اس آیت میں مخاطب بھی غیر مسلموں کو کیا ہے۔

اس کے علاوہ بھی بہت ساری پیش گوئیاں قرآن مجید میں موجود ہےجو اس کتاب کو الہامی کتاب ثابت کرتی ہیں۔

قرآن مجید کی مذکورہ بالا معجزانہ خوبیاں اسے انسانی کتاب سے ممتاز کرتی ہیں، اور اسی لیے یہ نہ ایک انسان کی کتاب ہے نہ انسانوں کے لئے ممکن ہے کہ اس طرح کی کوئی کتاب لکھ سکے۔

اس لیے قرآن نے چیلنج کیا کہ اس جیسی پوری کتاب نہیں صرف ایک سورت بناکر دکھاؤ، اور تم ایسا نہیں کر سکتے چاہے سارے انسان مل جائیں اور جنوں سے بھی مدد مانگ لیں۔ لیکن یہ کام نا ممکن ہے۔

تحریر: سجاد عثمانی

اسلام کے بارے میں پڑھیں

قرآن اور جدید سائنس کتاب آن لائن پڑھیں

The Qur’an & Modern Science By Zakir Nike

The Quran & Modern Science

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *