بچپن کے بلبلے زندگی کی حقیقت

زندگی کی حقیقت
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

ہم بچپن میں بلبلے بناتے ہیں اور ہمارے بلبلے جب ہوا میں تیرنا شروع کرتے ہیں تو بچے آکر ان کو پھوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک الجھن ہوتی ہے۔ رنجیدگی بھی، غم بھی ہوتا ہے اور افسردگی بھی دامن کھینچتی ہے۔

لیکن کچھ لمحوں میں یہ سارا دکھ سارا غم تحلیل ہونا شروع یوجاتا ہے۔ جیسے رات جتنی بھی لمبی ہو اس کی ایک صبح ہوتی ہے۔ جو لمبی تو ہوسکتی ہے لیکن رات ہی تو ہے۔

سو ایک کمزور لمحے کو ہم مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن کچھ دیر بعد اس سے دامن چھڑا کر اپنے بلبلوں کو مضبوط بنانے کا سوچتے ہیں۔ پھر چاہے کوئی کتنے پھوڑتا رہے ہم نئے بناتے رہتے ہیں۔ بلبلے بنانا اور ان کو پھوڑنا ایک کھیل بن جاتا ہے۔۔۔

ہمیں خواب دیکھنا چاہیئیں لیکن ہمیں خوابوں کا تعاقب نہیں کرنا چاہیئے۔ ان بلبلوں کی طرح جن کو بنا کر ہم ہوا کے سپرد کر دیتے ہیں۔
جب زندگی ایک بلبلے سے زیادہ پائیدار نہیں تو غموں اور رنجشوں کو پائیداری دے کر کیا کرنا؟
جب زندگی کی حقیقت بچپن کے بلبلے سے زیادہ نہیں تو اس پر واویلا کیوں کرنا؟
لوگوں کے دکھ دینے والے رویوں کو سنبھال کر کیا کرنا؟

یہ بھی پڑھیں: درد آپ کا دوست ہے..! اس کی بات غور سے سنیں

One Comment on “بچپن کے بلبلے زندگی کی حقیقت”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *