رازونیاز: اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان

رازونیاز
Spread the love

 تحریر: ابن فاضل

اپریل میں جب گندم کی فصل آتی. دفتر والوں کا اصول تھا کہ سب ملازمین سے انکی ضرورت پوچھ لیتے.بیسیوں ملازم تھے. کسی گاؤں سے عمدہ معیار کی بہت سی گندم منگوا کرحسب خواہش سب کو دیدی جاتی. گندم کی قیمت بارہ حصوں تقسیم کرکے ہرماہ تنخواہ میں سے منہا کرلی جاتی. یوں سال بھر کی گندم بھی ملازمین کو مل جاتی اور مالی بوجھ بھی نہ پڑتا۔

یہ سلسلہ چار سال سے جاری تھا. اور یہ پانچواں سال تھا. حسب معمول اس سال بھی گندم لائی گئی. مئی سے اکتوبر تک باقاعدگی سے کٹوتی ہورہی تھی. لیکن آج کچھ عجیب ہوا. یہ اٹھارہ اکتوبر سن 2000 کی صبح ہے. ناشتہ کرتے ہوئے والد گرامی نے جیب سے ایک رسید نکالی. اور میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا.. بیٹا جی میرے ذمہ گندم کی کچھ رقم بقایا تھی. میں نے کل ساری رقم یکمشت ادا کردی ہے. اب میرے ذمہ کوئی قرض نہیں. میں بہت حیران ہوا. لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کہا کہوں۔ والد گرامی ناشتہ کے بعد حسب معمول دفتر تشریف لے گئے اور میں فیکٹری۔

تقریباً ایک بجے مجھے فیکٹری میں اطلاع ملی کہ والد گرامی کو شہید کردیا گیا ہے. آج تک نہیں سمجھ پایا کہ اللہ اور اس کے خاص بندوں میں کیا کیا رازونیاز چلتے رہتے ہیں. اور کون کون سے ذرائع ہیں گفتگو کے. ہمیشہ یہی دعا کرتے تھے. یااللہ مجھے کسی کا محتاج نہ کرنا اور یہ کہ یا اللہ شہادت کی موت نصیب فرمانا. اللہ ایسا کریم دوست ہے. اپنے دوستوں کی کوئی بات نہیں ٹالتا۔

ہمارا ایمان کس طرح سے کمزور کر کے بے ایمان بنا دیا جاتا ہے؟

About احمد سلیم ابن فاضل

View all posts by احمد سلیم ابن فاضل →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *