نورا ڈاکو اور %90 قادیانی گاؤں کہانی 22

نورا ڈاکو
Spread the love

میں نے پوچھا، “کون ہو..؟ “. وہ رو کر بولا، “مولانا … میں نورا ڈاکو آں۔

مولانا اوکاڑوی رحمۃ الله علیہ نےاپنی کتاب میں لکھا،

فرماتے ہیں۔

“مجھے وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بھرا خط لکھا گیا

کہ مولانا صاحب ہمارے گاؤں میں آج تک  سیرت محمد ﷺ پر بات نہیں ہوئی۔

ہمارا بہت دل کرتا ہے، آپ ہمیں وقت عنایت فرما دیں ہم تیاری کر لیں گے۔

” میں نے محبت بھرے جزبات دیکھ کر خط لکھ دیا کہ فلاں تاریخ کو میں حاضر ہو جاؤں گا۔

دیے گئے وقت پر میں فقیر ٹرین پر سے اتر کر تانگہ پر بیٹھ کر گاؤں پہنچ گیا تو آگے میزبانوں نے مجھے ھدیہ پیش کرکے کہا مولانا صاحب آپ جا سکتے ہیں،

ہم بیان نہیں کروانا چاہتے۔

وجہ پوچھی تو بتایا کہ ہمارے گاؤں میں %90 قادیانی ہیں

وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں

کہ

نہ تو تمہاری عزتیں

نہ مال

نہ گھربار محفوظ رہیں گے۔

اگر

سیرة النبى (صلی اللہ علیہ وسلم) پر بیان کروایا تو۔

مولانا ہم کمزور ہیں

غریب ہیں

تعداد میں بھی کم ہیں

اس لیے ہم نہیں کرسکتے۔

“میں نے لفافہ واپس کر دیا اور کہا بات تمہاری ہوتی یا میری ہوتی تو واپس چلا جاتا۔

بات مدینے والے آقاﷺ کی عزت کی آگئی ہے۔

اب بیان ہوگا ضرور ہوگا۔

وہ گھبرا گئے کہ حضرت آپ تو چلے جائیں گے مسئلہ تو ہمارے لیے ہوگا۔

میں نے کہا،

“اس گاؤں کے آس پاس کوئی ڈنڈے والا ہے؟”

انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دُور نُورا ڈاکو رہتا ہے !

پُورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے۔

میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نُورے کے پاس ۔

جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے دیکھ کر نورا بولا اج خیر اے!

مولوی کیویں آگئے نے ؟

میں نے کہا کہ

بات حضورﷺ کی عزت کی آگئی ہے تم کچھ کرو گے؟

میری بات سن کر نورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا،

“میں ڈاکو ضرور آں پر بےغيرت نئی آں۔”

وہ ڈاکو ہمیں لے کرچل نکلا

مسجد میں 3 گھنٹے بیان کیا میں نے۔

اور نورا ڈٹ کر کھڑا رہا ۔

آخر میں نورے ڈاکو نے یہ کہا

کہ اگر کسی نےمسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو نورے سے بچ نہیں سکے گا۔

میں واپس آگیا

کچھ ماہ بعد میرے گھر پر ایک آدمی آیا

سر پر عمامہ

چہرے پرداڑھی

زبان پر درود پاک کا ورد ۔۔۔!

میں نے پوچھا،

“کون ہو..؟ “.

وہ رو کر بولا،

“مولانا …

میں نورا ڈاکو آں۔

جب اس دن میں واپس گھر کو لوٹا جا کر سو گیا.

آنکھ لگی ہی تھی

پیارے مصطفٰی کریمﷺ میری خواب میں تشریف لائے۔

میرا ماتھا چوما اور فرمایا،

“آج تو نے میری عزت پر پہرا دیا ہے، میں اور میرا اللہﷻ تم پر خوش ہوگیا ہے۔

اللہﷻ نے تیرے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے ہیں.”

مولانا صاحب اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو سب کچھ بدل چکا تھا اب تو ہر وقت آنکھوں سے آنسو ہی خشک نہیں ہوتے مولانا صاحب میں آپ کاشکریہ ادا کرنے آیا ہوں آپ کی وجہ سے تو میری زندگی ہی بدل گئی میری آخرت سنور گئی ہے۔

اے میرے پیارے اللہ جو شخص بھی اس کو شیئر کرے اس کو حضور ﷺ کی خواب میں زیارت نصیب فرما …….۔ آمین

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کورس

Aalmi Majlis Tahaffuz KHATM-E-NUBUWWAT

اچھی اچھی کہانیاں مزید پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *