توکل: 30 روپے

توکل: 30 روپے
Spread the love

اللہ کی ذات پر توکل کیسے کیا جائے؟

میں نے لاہور میں سٹڈی کے سلسلے میں ایک فلیٹ میں رہائش اختیار کر رکھی تھی۔ ہاسٹل کے برعکس فلیٹ میں کھانا یا تو خود بنانا پڑتا ہے یا پھر باہر سے ہی کھانا پڑتا ہے۔

 2018 رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ تھا۔ پاکٹ منی ختم ہو گئ۔ رومیٹ بھی گھر گیا ہوا تھا۔  گھر کال کی تو کسی وجہ سے پیسے نہ آ سکے میں پریشان تھا تھوڑا لیکن پھر سوچا چلو جو پاس 30 روپے پڑے ہیں اس سے 20 روپے کی دہی اور ایک روٹی آرام سے آجائے گی۔ توکل کر کے روزہ رکھ لیں گے۔

حالانکہ اس علاقے میں دو سال سے رہنے کی وجہ سے دو تین ہوٹلز اور میس والے اچھے خاصے واقف اور دوست بن گۓ تھے۔ لیکن کچھ اپنی عادت کی وجہ سے میں نے کبھی کسی سے ادھار ایک چائے تک نہیں پی تھی۔

 خیر میں توکل کر کے سو گیا اور سحری کے وقت صرف 15 منٹ باقی تھے جب  ساتھ والے روم سے لڑکے نے اٹھایا ۔میں سحری کے لیے فریش ہو کر باہر جانے لگا تو انہوں نے کہا بھائی 5 منٹ رہ گئے ہیں اتنی دیر تو جاتے جاتے لگ جاۓ گی۔ ہمارے ساتھ کر لیں آپ آج سحری. انہوں نے اسرار کیا اور میں واپس ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا-

پراٹھا چنے دہی لسی  کے ساتھ سحری کی اور اسکی ذات کا شکر ادا کیا جس نے مجھے توکل سے کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ میری عزت نفس کو بھی محفوظ رکھا۔ 

   دن یوں ہی گزر گیا ابو نے 12 بجے کال کی اور بتایا میں نوید کو پیسے دے آیا ہوں اسے کال کر کے پوچھ لو ایزی پیسہ کر دے گا۔ کال کی تو اس نے کہا کہ پیسے تھوڑی دیر تک آجاتے ہیں میرا بیلنس ختم ہو گیا ہے جیسے ہی آتا ہے کر دیتا ہوں ۔5  بج گئے پیسے نہیں آئے سوچا مسجد جاتا ہوں نماز پڑھتا ہوں اور تلاوت قرآن پاک کر کے سیدھا باہر سے

افطاری کر کے ہی واپس آجاؤ ں گا۔

  میں توکل کر کے تلاوت کرنے لگا کہ روزہ کھلنے میں 15 منٹ رہ گئے تھے جیسے ہی میں اٹھنے لگا تو مجھے آواز آئی میں باہر آنے لگا تو قاری صاحب نے مجھ سمیت دس لوگ جو مسجد میں موجود تھے کہا بھائی سب حضرات براہ مہربانی افطار ی کے لیے اوپر دستر خوان پہ تشریف لے آئیں۔

میں بھی چلا گیا اوپر ہمارے علاوہ پچاس ساٹھ اور لوگ تھے۔ میں باہر سے عموما ایک معقول سی افطاری کرتا تھا جب پیسے ہوتے تھے تب بھی۔ جب افطاری کے لیے دعا پڑھی گئی تو میرے سامنے تین پلیٹیں پڑی تھی ایک پلیٹ بریانی سے لبالب تھی اس میں بھی چاول کم چکن ذیادہ دوسری میں ایک بڑا سا آم پانچ آلو بخارے اور تین آڑوو  جبکہ تیسری میں تربوز اور خربوز ے کی پیس پڑے تھے ۔

ساتھ میں کجھور اور دودھ سوڈا تھا۔  مجھ سمیت سب کے آگے یہی کچھ تھا۔ دراصل کسی کی والدہ کا سالانہ ختم تھا جو کہ دوسرے پورشن پر پڑھا جا رہا تھا ۔ اس لیے افطاری کے وقت نیچے سے ہمیں بھی بلا لیا گیا۔

میں نے سیر ہو کر افطاری کی ابھی بھی کھانا ختم نہیں ہوا تھا۔ اگر پیسے ہوتے بھی تو میں باہر سے اتنا کچھ نہ کھاتا کیونکہ ایک سٹوڈنٹ کے لیے ہاسٹل لائف میں ہوتے ہوئے اس قسم کا کھانا وہ بھی مفتے میں……

  نماز پڑھی فلیٹ واپس گیا دس بجے پیسے آئے ۔  مسجد آ کر عشا کی نماز پڑی جو جیب میں تیس روپے تھے انکی چائے پی اور واپسی پہ پیسے  ود ڈرا  کروانے کے بعد فلیٹ چلا گیا۔

    اتنی ساری روداد کا مطلب اور مقصد صرف یہی ہے کہ آپ کے حصے کا نوالا آپ کو مل کر رہے گا ۔ رزق دینے والی اس کی ذات ہے جو اپنے بندے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔     

 اس لیے توکل کرنا ہی ہمارے لیے سب سے بہتر ہے اور حلال رستے سے کما کر کھانے میں ہی بہتری ہے۔   میں ایک دفعہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام دیکھ رہا تھا انہوں نے توکل کے حوالے سے بڑی اچھی بات کہی کہنے لگے کہ انسان اپنا رزق لکھوا کے لاتا ہے جیسے ہی اسکا رزق اٹھتا یعنی ختم ہوتا ہے تو وہ اس دنیا سے اٹھ جاتا ہے۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے توکل کے ساتھ کل کی فکر کیے بغیر کھا ئے تا کہ اسکی عمر دراز ہو سکے۔ انہوں نے مزاح میں ہی بہت اچھی بات کہی۔

         باقی آپ سمجھدار ہیں۔ جزاک اللہ

اچھی اچھی کہانیاں مزید پڑھیں۔

اسلام کے بارے میں پڑھیں

توکل‘ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کا خصوصی شعار

70 سچے اسلامی وقعات کتاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *