دنیا کی محبت اور اس کا علاج

دنیا کی محبت
Spread the love

دنیا کی محبت کی مثال

حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے مثال سے دنیا کی حقیقت کو سمجھایا ہے اور بڑی پیاری مثال دی ہے فرماتے ہیں کہ دنیا کے بغیر انسان کا گزارہ بھی نہیں ہے۔ بے شمار ضرورتیں انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ انسان کی مثال کشتی جیسی ہے اور دنیا کی مثال پانی جیسی ہے۔ جیسے پانی کے بغیر کشتی نہیں چل سکتی اس لیے کہ اگر کوئی شخص خشکی پر کشتی چلانا چاھے تو نہیں چلے گی۔ اسی طرح انسان کو زندہ رہنے کے لیے دنیا ضروری ہے۔

انسان کو زندہ رہنے کے لیے پیسہ چاہیے، کھانا چاہیے، پانی چاہیے، مکان چاہیے، کپڑا چاہیے اور ان سب چیزوں کی اس کو ضرورت ہے اور یہ سب چیزیں دنیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جس طرح پانی کشتی کے لئے اس وقت تک فائدہ مند ہے جب تک وہ پانی کشتی کے نیچے ہے اس کے دائیں اور بائیں طرف ہے، آگے اور پیچھے ہے وہ پانی اس کشتی کو چلائے گا۔ لیکن اگر وہ پانی میںدائیں بائیں جانب کے بجائے کشتی کے اندر داخل ہو گیا وہ کشتی کو ڈبو دے گا، تباہ کر دے گا۔

اسی طرح دنیا کا یہ اسباب اور دنیا کا یہ ساز و سامان جب تک تمہارے چاروں طرف ہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ سازوسامان تمہاری زندگی کی کشتی کو چلائے گا لیکن دنیا کا یہ ساز و سامان تمہارے اردگرد سے ہٹ کر تمہارے دل کی کشتی میں داخل ہوگیا تمہیں ڈبودے گا چناچہ رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

آب اندر زیر کشتی پشتی است

آب در کشتی ہلاک کشتی است

یعنی جب تک پانی کشتی کے اردگرد ہو کی کو چلاتا ہے ہود کا دیتا ہے چن وہ اگر پانی کشتی کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو وہ کشتی کو ڈبو دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﻑ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ

امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ خسارے کا سودا اس شخص کا ہے جس نے دنیا میں کمایا تو کچھ بھی نہیں اور قلاش ہے مگر دل میں دنیا کی محبت بھری ہے تو اس شخص کو زہد حاصل نہیں ہے اس کو زاہد نہیں کہیں گے اس لیے کہ دنیا کے عشق و محبت میں مبتلا ہے ایسا شخص بڑے خسارے میں ہے۔

زہد کیسے حاصل ہو؟

سوال یہ ہے کہ یہ چیز کیسے حاصل ہو؟ اس کے حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے تو قرآن اورحدیث کے ان ارشادات پر غور کرے اور اللہ تعالی کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ کرے۔ اور آخرت کی نعمتوں کا، آخرت کے عذاب کا۔ دنیا کی بے ثباتی کا مراقبہ کرے۔ اور اس کے لیے دس منٹ کا وقت نکالے اس سے رفتہ رفتہ دنیا کی محبت دل سے زائل ہوگئی۔

شیخ السلام مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے “اصلاحی خطبات ” سے انتخاب

مفتی تقی عثمانی صاحب کے اصلاحی خظبات

One Comment on “دنیا کی محبت اور اس کا علاج”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *