ایک چور کی زبانی: کابینہ کی تشکیل

ایک چور کی زبانی: کابینہ کی تشکیل
Spread the love

افریقہ کے ملک یوگیتاوا میں ، ایک مرتبہ ایک چور کو مین ہول کور (Manhole Cover) چوری کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ اپنی آخری خواہش کے طور پر چور ملک کے وزیر اعظم سے ملنے کا ارادہ  ظاہر کرتا ہے جو کہ قبول کر لی جاتی ہے۔

جب اس چور کو وزیر اعظم کے پاس لایا جاتا ہے تو وہ  وزیر اعظم سے کہتا ہے:  ’’سر، میں صرف اس لئے آپ سے ملنا چاہتا تھا کہ میرے پاس ایک ایسے پودے کی بیج ہے جو پودا آپ کے دل کی ہر  خواہش پوری کرسکتا ہے۔ میں آپ کیلئے وہ پودا لگا کر مرنا چاہتا ہوں۔‘‘

وزیر اعظم نے اس چور سے دریافت کیا: ’’ تمہیں اس پودے کو لگانے میں کتنا وقت لگے گا؟‘‘

چور نے بتایا: ’’ جی سر، مجھے صرف سات دن چاہئے‘‘۔

سات دنوں کے بعد وزیر اعظم چور کو اپنے پاس بلاتا ہے اور پوچھتا ہے: ’’تمہارے پودے کا کیا بنا؟‘‘

چور نے کہا کہ:  ’’سر،  زمین تو تیار ہے لیکن بیج کے پختہ ہونے میں مزید تین دن لگیں گے’’۔

تین دنوں کے بعد د پھر چور کو وزیراعظم کے روبرو حاضر کیا جاتا۔

وزیر اعظم نے چور سے استفسار کیا:’’ بتاؤ! تمہارے پودے کا کیا بنا‘‘۔

چور نے جواب دیا: ’’سر ، زمین اور بیج دونوں ہی تیار ہیں لیکن میں اس بیج کو نہیں لگا سکتا‘‘۔

وزیر اعظم نے پوچھا: ’’وہ کیوں؟‘‘

چور نے کہا: ’’سر، میں نے خواب دیکھا ہے کہ یہ پودا کسی ایسے شخص کو لگانا ہوگا جس نے کبھی کوئی کرپشن نہ کی ہو ورنہ یہ پودا اپنا تاثیر کھو دے گا اور میں نے تو چوری کی ہے، میں تو چور ہوں میں تو کرپٹ ہوں‘‘۔

وزیراعظم ساتھ بیٹھے وزیر خزانہ کو ہدایت دیتا ہے کہ یہ پودا وہ لگائے۔

وزیر خزانہ سرد آہ بھرتے ہوئے کہا: ’’سر، میرا کام تو پورے ملک کی مالی معاملات کو دیکھنا ہے۔ ان میں کب کہاں کوئی کرپشن ہوگئی ہو، کون جانے۔ لہذا مجھے معاف ہی رکھیں۔

اس کے بعد وزیر اعظم نے وزیر ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ وہ پودا لگائے۔

وزیر ٹرانسپورٹ کہتا ہے: ’’سر ، میری منسٹری ملک کی پوری ٹرانسپورٹ نظام کو دیکھتی ہے، سڑکوں کی ٹھیکہ داری سے لے کر گاڑیوں کی ریجسٹریشن وغیرہ سب  ہماری ذمہ داری ہے، ان میں سے بعض معاملات میں کرپشن کا ہوجانا ناممکن نہیں۔

اس کے بعد وزیر اعظم نے وزیر خارجہ سے کہتا ہے کہ وہ پودا لگائے۔

وزیر خارجہ حیران ہوتے ہوئے کہتا ہے: سر، آپ مجھے یہ ذمہ داری تو نہ دیں۔ دنیا بھر کے ممالک سے ہمیں رابطہ کرنا پڑتا ہے، سفارتی تعلقات، تجارتی لین دین وغیرہ میں کہیں نہ کہیں کرپشن تو ہو ہی جاتا ہے‘‘۔

اس کے بعد وزیر اعظم نے جس وزیر سے بھی پودا لگانے کی بات کرتا ہے، سب نے اپنا دامن داغدار ہی بتاتا ہے۔

پھر سارے وزیر یک زبان ہو کر وزیر اعظم سے کہتے ہیں: ’’سر، ہم سب جانتے ہیں کہ آپ صادق و امین ہیں اور ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہیں، لہذا آپ ہی یہ پودا لگائیے۔‘‘

اس پر وزیر اعظم کہتا ہے: ’’آپ سب کی ذمہ داریاں چھوٹی ہیں جبکہ میں پورے ملک کو چلاتا ہوں۔  آپ سب جانتے ہو کہ آپ لوگ جو بھی کرپشن کرتے ہو، ان سب میں میرا بھی حصہ ہوتا ہے۔ میں بھی اتنا ہی کرپٹ ہوں جتنا آپ سب ہیں۔ لہذا میں یہ پودا نہیں لگا سکتا۔‘‘

تب ہال میں خاموش چھا جاتی ہے۔

تھوڑی دیر بعد وزیر خزانہ بول اٹھتا ہے: ’’سر، اس آدمی نے تو صرف ایک مین ہول کور ہی چوری کی ہے نا۔ کیا اسے سزائے موت دینا ٹھیک ہوگا؟ اسے چھوڑ دیں۔ ‘‘

اس پر وزیر جیل خانہ جات چینخ پڑتا ہے: ’’نہیں ، اسے چھوڑا نہیں جاسکتا۔ اگر اسے چھوڑ دیا گیا تو یہ باہر جاکر ہمارے سارے راز فاس کرے گا، سب کو بتائے گا کہ ہم سب کرپٹ ہیں‘‘۔

ہال میں دوبارہ خاموش چھا جاتی ہے۔ سب سوچ رہے ہیں کہ اس چور کے ساتھ کیا کیا جائے؟

کچھ سوچ کر وزیر خوراک کہتا ہے: ’’سر، میرا ایک مشورہ  ہے وہ یہ کہ اس آدمی کو ہماری جیسی کوئی وزارت دے دیں اور اپنی ٹیم میں شامل کر لیں کیونکہ اسے کرپشن کرنے کے گُر آتے ہیں۔ آخر میں بھی تو پہلے گندم چوری کیا تھا تو آپ نے مجھے اپنا مشیر بنا لیا تھا۔‘‘

پھر چور کو کابینہ کا ممبر بنا لیا جاتا ہے۔

آج پوری دنیا میں کابینہ اسی طرح تشکیل پاتی ہے۔

تحریر: محمد اجمل خان

اچھی اچھی کہانیاں مزید پڑھیں۔

جاوید چوہدری : مجھے سمجھ نہیں آتی‎‎

اسلام کے بارے میں پڑھیں

تعلیم کے بارے میں مزید پڑھیں

One Comment on “ایک چور کی زبانی: کابینہ کی تشکیل”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *