دھوپ سے پانی کی ٹینکی کو کیسے محفوظ کرسکتے ہیں؟

پانی کی ٹینکی
Spread the love

تحریر: ابن فاضل

دھوپ میں کھڑی پانی کی ٹینکی میں پانی کا درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے. بہت سے دوستوں نے اس کے کیلئے حل کی بابت دریافت کیا ہے. بڑی آسانی سے پانی کا درجہ حرارت بیس ڈگری تک کم کیا جاسکتا ہے. سادہ سی بات سمجھنے کی ہے کہ ٹھوس اشیاء کی نسبت ہوا میں سے حرارت بہت مشکل سے گذر پاتی ہے۔

لہذا کوئی بھی ایسی چیز جس میں ہوا موجود ہو یعنی بلبلے ہوں ان میں سے حرارت کی ترسیل نسبتاً مشکل ہوگی. یاد رہے کہ یہ بالکل وہی عمل ہے جو ہم سردیوں میں سردی سے بچنے کیلئے کرتے ہیں. دراصل دونوں صورتوں میں ہم نے حرارت کی ترسیل کو روکنا ہوتا ہے. فرق صرف یہ ہے کہ سردی میں ہم جسم کی حرارت کو باہر جانے سے روکتے ہیں اور گرمی میں ہم باہر کی حرارت کو ٹینکی میں آنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

پانی کی ٹینکی پر لگائے جانے والا میٹیریل

بلبلوں والی عام دستیاب اشیاء میں فوم، جمبولان شیٹ ،تھرموپور ،روئی، اون، پولی ایسٹر کی روئی یا مائیکرو سفیرز وغیرہ شامل ہے. سب سے پہلے ان میں سے کسی بھی دستیاب شے کی کم از ایک انچ موٹی تہہ ٹینکی کے باہری طرف لپیٹ دیں. اس سے بہت حد تک باہر کی گرمی ٹینکی میں داخل ہونے سے رک جائے گی۔

اس کے بعد بہت زیادہ موثر حربہ یہ ہے کہ سورج کی شعاوں براہ راست اس حفاظتی تہہ پر پڑنے ہی نہ دیا جائے. اس عمل کیلئے اس تہہ کے باہر کوئی بھی چمکدار باریک چیز لپیٹ دیں. جیسے سلور کی پنی. یعنی ایلومینیم فوائل. یہ چمکدار تہہ آئنہ کا کام کریگی. اور سورج کی بیشتر روشنی کو منعکس کردے گی. اس عمل سے روشنی اور حرارت کا بہت کم حصہ حفاظتی تہہ تک پہنچ پائے گا. اور جو پہنچ پائے گا اس کے راستے میں حفاظتی تہہ کے بلبلے حاجز ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کمیونٹی فارمنگ یا مصنوئی اور جعلی اشیاء

سلور کی پنی اگر دستیاب نہ ہو یا مہنگی لگے. تو عام پیراشوٹ کا سلور رنگ کا کپڑا باندھ دیں. اگر سلور پیراشوٹ دستیاب نہ ہو تو کسی بھی رنگ کے پیراشوٹ پر سلور روغن کردیں ہر صورت میں ایک سا نتیجہ حاصل ہوگا. اس کے علاوہ ٹیٹرا پیک کے رول بھی شاہ عالمی میں کاغذ کے سکریپ کی دکانوں سے سستے داموں ملتے ہیں. اس کے ایک طرف بھی سلور کی پنی لگی ہوتی ہے. جن کی کم قیمت ڈسپوزیبل پلیٹیں وغیرہ بنتی ہیں، یہ سب سے کم خرچ بالا نشین نسخہ ہے۔

اس کے علاوہ آجکل نان ووون کلاتھ جس کے خریداری کے تھیلے بنائے جاتے ہیں، اس کے ایک طرف بھی سلور کی پنی صمد بانڈ وغیرہ سے جڑی ہوئی بھی بازار میں دستیاب ہے. یہ بھی بہت کم قیمت ہے. مندرجہ بالا کسی بھی طریقہ کے استعمال سے کم سرمایہ اور تھوڑی سی محنت سے بقیہ گرمیاں سکون سے گذاریں۔

جو دوست بے روزگار ہیں اور تھوڑا سا ٹیکنیکل کام کرسکتے ہیں وہ مناسب مشاہرے پر لوگوں کے لیے یہ کام سر انجام دے کر روزگار بھی کما سکتے ہیں۔

About احمد سلیم ابن فاضل

View all posts by احمد سلیم ابن فاضل →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *