میرا بچہ کھاتا پیتا کیوں نہیں؟۔۔ متفکر مائوں کے ہر سوال کا جواب

بچہ کھاتا پیتا کیوں نہیں
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

میرا بچہ کھاتا پیتا کیوں نہیں؟ یہ ایک ایسی شکایت جس کے بارے میں ہر ماں بہت متفکر نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ میرا بچہ کھاتا پیتا کچھ نہیں ہے۔

اب ایک طرف تو وہ بچے ہوتے ہیں جن کا وزن عمر کے لحاظ سے ٹھیک ہوتا ہے لیکن ماؤں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت کھاتا پیتا نظر آئے۔ جبکہ دوسری طرف وہ بچے ہوتے ہیں جن کو حقیقت میں خوارک کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ کھانا پینا پسند نہیں کرتے۔

پہلی قسم کے بارے میں تو کہوں گا کہ ایک بچہ جو صرف ماں کے دودھ پر ہے اور چھ ماہ کا ہوگیا ہے۔اور صحت میں اچھا ہے تو ایسے بچے کی ٹھوس غذا کو ایک دو ماہ مزید لیٹ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ایک بچہ اپنے عمر کے مطابق اپنا وزن پورا کررھا ہے اور اسکی تشونما ٹھیک جارہی۔ تو بچے کے کھانے پینے کی فکر غیر ضروری ہے۔

اب آتے ہیں ان بچوں کی طرف جن کو واقعی خوارک کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کیلئے ناصرف ماں کی سمجھداری کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ایک مناسب درجے کی سائیکٹرسٹ ہونا بھی ضروری ہے۔

لیکن اس سے پہلے ایک ضروری بات ۔۔
اپنے بچوں کو دوسروں کے بچوں کے ساتھ کمپیئر کرنا چھوڑ دیں۔ہر بچے کی پسند ،ناپسند، مزاج ، سوچ، انداز، مختلف ہوتا ہے۔ ایسے ہی بچے کی صحت اور قد کا تعلق جینیٹکس کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ضروری نہیں آپکے اور آپکی بہن یا کسی کزن کے بچے ایک جیسی جسامت یا صحت کے ہوں۔

نوزائیدہ بچوں کے مسائل: موجودہ دور میں ماں اور بچوں کا تعلق – حصہ اول

چھ سے ایک سال کے بچے کیلئے ضروری ہے کہ اس کو ٹھوس غذا اس وقت دی جائے جب وہ بھوکا ہو یعنی اس کےدودھ پینے کا وقت ہو۔ اور ابتدا میں مقصد بچے کا پیٹ بھرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف اتنا کھلایا جائے جس کو وہ باآسانی نگل سکے۔ یعنی نگلنا سکھانا۔ ابتدا میں آدھا چمچ یا ایک چمچ کافی ہوتا ہے۔ اور دھیرے دھیرے اس کی مقدار بڑھاتے رہیں۔ اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ورائیٹی آف فوڈ ۔۔کبھی دھی کھلائیں ، کبھی دلیا، کبھی ساگو دانہ، کبھی کسٹرڈ، فیرنی کبھی کچھڑی کبھی انڈہ ، انڈے کی زردی۔
اب ضروری نہیں کہ جو چیز اس نے آج نہیں کھائی تو اس کو پسند نہیں اور دوبارہ نہیں بنانی ۔ ویسے شوہر کے بارے بھی اس کلیئے کا اطلاق ہوتا ہے۔

رنگ برنگے ذائقوں سے آشنائی مستقبل میں بہت کام آتی ہے۔ جب بھی بچے کوکھلائیں تو ہمیشہ اس کے سامنے کچھ چمچ اپنے منہ میں بھی ڈالتے جائیں۔ کچھ بچے میٹھے اور نمکین کے درمیان فرق بہت کم عمری میں محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس لیئے اندازہ لگائیں بچہ نمکین یا میٹھی چیزوں میں سے کس کو زیادہ رغبت سے کھاتا ہے۔ تاکہ مستقبل میں اس کا اہتمام زیادہ کیا جائے……..

Child Food4
مختلف نو اور ذائقہ والی اشیاء سے آشنا کروائیں

اب آتے ہیں سمجھدار بچوں کی طرف
دو سال سے بڑے بچے کیلئے فیڈر ایک نشے سے کم نہیں ہے۔ اس لیئے جتنا جلدی ہوسکے بچے کی فیڈر سے جان چھڑوا دیں۔ بہت سی مائیں اس نقطہ نظر سے فیڈر نہیں چھڑوانا چاہتی ہیں کہ فیڈر کے بغیر یہ دودھ نہیں پیتا یا پھر کچھ کھاتا پیتا نہیں۔ اس لیئے سات آٹھ سال تک بھی فیڈر چل رھا ہوتا ہے بلکہ میں نے تو بڑی کلاس کے بچوں کو بھی فیڈر پیتے دیکھا ہے۔اور کچھ بچوں کو مائیں نیند میں ہی فیڈر منہ سے لگا دیتی ہیں کہ جاگنے کے بعد اس نے کچھ کھانا پینا نہیں ہے۔

بچوں کی کھانے پینے میں دلچسپی پیدا کرنے سے پہلے ایک بات کا خیال رکھیں کہ ان کی زندگی میں ڈسپلن پیدا کریں۔ بچوں کو چھوٹے چھوٹے کام کرنے کو کہیں۔ ان کو اپنے ساتھ انوالو کرنا، ان کی دلچسپیوں میں شرکت کریں۔دانت برش کرنے کی عادت شروع کروائیں، کھانے سے پہلےہاتھ دھونا، کھانے کے بعد کلی کی عادت ڈالنا، بڑوں کا احترام سکھانا۔۔

Child Food2
بچوں کے ساتھ مل کر کھانے کی مشق

نوزائیدہ بچوں کے مسائل: موجودہ دور میں ماں اور بچوں کا تعلق – حصہ دوم

گھر میں روٹی سالن مطلب گھر میں جو معمول کے مطابق پکا ہوا ہے، اسکا عادی بنائیں لیکن ساتھ ساتھ کھانے میں دلچسپی برقرار رکھنے کیلئے گھر کے بنے شوارمے ، برگر، آلو کی چپس، سموسے، پکوڑے، سینڈچ بروسٹ وغیرہ بنا کردیں۔اور جو بھی کھانے کو دیں ہمیشہ کھانے کے وقت پر دیں۔
بسکٹ رس نمکو، بازاری چپس یا ایسی دوسری چیزوں سے پیٹ بھرنے کی عادت نہ ڈالیں۔ کولڈ ڈرنکس یا پیکنگ والے جوسز زہر قاتل ہیں۔کبھی کبھار استعمال میں تو ہرج نہیں لیکن ان کی عادت ناصرف صحت کیلئے نقصان دہ بلکہ بچوں کی بھوک مٹانے کا سبب بھی۔

بچوں کی غذا میں چینی کا کم سے کم استعمال کریں۔ میٹھے کیلئے برائون شوگر یا شہد کا استعمال کیا جائے۔

Child Food3
بچوں کو غیر صحت مند خوراک کا عادی نہ بنائیں

جب بچہ کسی ایکٹویٹی میں مشغول ہو تو اسے کھانے کیلئے مت روکیں ۔ جیسے کارٹون دیکھ رھا ہے، کرکٹ کھیل رھا ہے یا کمپیوٹر پر بیٹھا ہے تو ماں سینڈوچ لاکر سامنے رکھ دیتی ہے کہ ابھی کھاؤ ۔نہ کھائے تو لقمے توڑ کر منہ میں ڈالنا شروع کردیتی ہیں۔

بچوں کو سپیشل ٹریٹ کرنا بند کرنا ہوگا۔ اور ان کے سامنے بار بار یہ ذکر کرنے سے پرہیز کریں کہ یہ کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے۔ کھانے کو بچوں کیلئے کیلئے بورڈ کا امتحان نہ بنائیں۔ زندگی کا معمول سمجھیں۔

ایسے بچے جو زیادہ بچوں کے درمیان ہوش سنبھالتے ہیں ان کی کھانے پینے کی روٹین بنانا آسان ہوتا ہے ان بچوں کی بنسبت جو گھروں میں اکیلے ہوتے ہیں یا پھر جن کا ایکسپوئیر محدود لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

ایک بات ذہن نشین کر لیں
بچہ آپ کا ہے یا پھر دنیا کے کسی بھی والدین کا۔ نہ تو وہ غیر معمولی ہے اور نہ ہی وہ کند ذہن۔ اس لیئے اسے ایک بچہ سمجھ کر ٹریٹ کریں

کھانا کھانے پر بچوں کی حوصلہ افزائی کریں اور زیادہ کھانے پر ان کے کھیلنے کے اوقات میں اضافہ کر دیں، ان کی فیورٹ ایکٹویٹی کے ٹائم میں اضافہ کریں۔ اس طرح بچے میں کھانے کی موٹیویشن پیدا ہوگی.۔بچوں کو ڈائنگ ٹیبل کے استعمال کی عادت ڈالیں یعنی گھر کے سب افراد کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں ۔بچہ کھانے کے اوقات کے علاوہ کھانے کو کچھ مانگے تو اس کو ڈسکرج کریں ۔

بچوں کی صحت و تعلیم کے بارے میں مزید پڑھیں۔

ایک بہت ایم بات
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت بچوں کے ساتھ اٹیچ ہونے کی ہے۔ ان کے ساتھ تعلق بنا کر رکھنے کی۔ کچھ موقعوں پر آپ کو اپنی مصروفیات کی قربانی دینی ہوگی اور کسی جگہ بچوں کو احساس دلانا ہوگا۔ بچوں کے ساتھ کمنیونیکیشن گیپ کم کریں۔ ان سے باتیں کریں ان سے دوستی بڑھائیں۔ان کے ساتھ کھیلیں۔
بچے کی دوسروں کے سامنے ہمیشہ حوصلہ افزائی کریں۔ان کو اعتماد دیں ۔ اس کی ناکامی کو نظر انداز کرکے حوصلہ بڑھائیں۔ بچے کی پسند ناپسند کو محسوس کریں۔۔

بچے کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر غیر محسوس انداز میں گہری نظر رکھیں۔بچوں کی جسمانی ورزش بہت ضروری ہوتی ہے اس لیئے ان کو اپنی سہولت کی خاطر ہر وقت ٹی وی کے سامنے بٹھا کر یا اس کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر ان کا مستقبل اور عادات کو خراب نہ کریں۔ اگر پارک موجود ہے تو ان کو وہاں بھیجا کریں۔ وقت نکال کر ان کو باہر پیدل سیر پر لیکر نکلیں۔ گھر میں جسمانی کھیلوں کی حوصلہ افزائی کریں ۔ بچوں کو بھاگنے دوڑنے کا موقع دیں ۔

اور سو گلاں دی اک گل
والدین کو اپنے بچوں کیلئے وقت نکالنا ہوگا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *