کورنا وائرس کے متعلق سائنسدانوں کا چونکا دینے والا انکشاف

کورنا وائرس کے متعلق سائنسدانوں کا چونکا دینے والا انکشاف
Spread the love

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)کورنا وائرس خطرناک نہیں۔ اموات کو بڑھا چڑھا کر بتایا جا رہا ہے – متعدد سائنسدانوں کا چونکا دینے والا انکشاف کورنا وائرس سے جہاں اب تک دنیا میں ہزاروں افراد کے مرنے کی خبریں آ رہی ہیں وہاں دوسری طرف دنیا بھر کے مختلف سائنسدان اس دعوی کے خلاف عملی طور پر سامنے آگئے ہیں، ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس عام فلو جتنا ہی خطرناک ہے جبکہ اس سے خوف اور دہشت جان بوجھ کر پھلائی جا رہی ہے.

امریکا کی اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے وائرولوجسٹ، بائیولوجسٹ، اور شعبہ اپمیڈیمالوجی کے پروفیسر ڈائریکٹر ڈاکٹر جان لیوانیڈیس نے کیلیفورنیا کے سانتا کلارا میں کورنا وائرس سے متعلق اپنی مکمل تحقیق کے نتائج کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کورنا وائرس سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شرع اموات کو %80 تک بڑھا کر بتایا جا رہا ہے جبکہ درحقیقت یہ وائرس موسمی نزلہ جتنا ہی خطرناک ہے.

یاد رہے اس سے قبل انہوں نے 23 مارچ کو ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کے بعد انہوں نے 4 اپریل کو ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے مطابق اس وائرس سے متعلق اب تک کے اعداد و شمار غیر مصدقہ اور غیر واضح ہیں لہٰذا میں اس وائرس کو ابھی مہلک قرار نہیں دے سکتا جب تک کہ اس پر تحقیق نہ کر لوں.

اس کے علاوہ ایک اور امریکی سائنسدان “کناٹ وکوووسکی” جو راک فللر یونیورسٹی میں گزشتہ 20 سال سے شعبہ بائیو سٹاٹسٹک ایپیڈمیالوجی کے سربراہ ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے 15 سال تک جرمنی کے ایپیڈمیالوجیسٹ ادارے کلاؤس دیڈس کے ساتھ بھی کام کیا ہے.کورونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنفس سے منسلک بیماریوں میں خطرہ بوڑھے افراد کو سب سے زیادہ ہوتا ہے.

 جبکہ بچوں کو اس قسم کی بیماریوں سے زیادہ خطرہ نہیں ہوتا اس لئے بچوں کو سکول جانے سے نہیں روکنا چاہے اگر یہ وائرس ان کو لگ بھی جائے تو وہ اپنی قوت مدافیت سے اسے فوری شکست دے سکتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ وائرس بوڑھوں کو بھی لگ جائے تو یہ محض 4 ہفتوں بعد ان کے جسم سے ختم ہو جائے گا جس سے یہ وائرس معاشرے میں بے اثر ہو کر رہ جائے گا جیسے گزشتہ وائرس بھی اب بے اثر ہوچکے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ قدرت کے اصول کے مطابق اس وائرس کو پھیلنے دینا چاہے کیونکہ یہ وائرس 80 فیصد افراد کو لگ بھی جائے تو پتا ہی نہیں چلے گا، جبکہ بوڑھوں کو ذرا احتیاط کی ضرورت ہے. ان کا کہنا تھا کہ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ یہ وائرس اپنا اثر کھو بیٹھے گا کیونکہ انسانی جسم میں موجود قوت مدافیت اپنے آپ کو اس وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرچکی ہوگی جس سے یہ وائرس بے اثر ہو جائے گا.

ان کا کہنا تھا کہ میں صرف سائنس کی بات کروں گا جس کے مطابق اس وائرس کو پھلنے دینا چاہے کوینکہ ہر وائرس قدرت کے کچھ اصلوں پر کام کرتا ہے بڑھتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ تمام انسانوں کا جسم اپنے مدافیاتی نظام کو اس وائرس کی حدت کے حساب سے ڈھال لیتا ہے, انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومتیں اور سیاستدان اس سے دور رہیں یہ وائرس خود بہ خود ختم ہو جائے گا. ان کا کہنا تھا کہ لاک داؤن جبری سماجی دوری وغیرہ کسی مسلے کا حل نہیں بلکہ اس سے حالات مزید خراب ہوں گے اور لوگ نفسیاتی بیمار ہو جائیں گے.

ھارتی نژاد امریکی ڈاکٹر شیوا آیادوری ایک انتہائی قابل سائنسدان ہیں جنہوں نے بائیولوجیکل انجینرنگ میں PHD کیا ہوا ہے. یہ موجودہ EMAIL کے ایجاد کرنے والے بھی ہیں. ان کا موجودہ صورت حال پر واضح موقف ہے کہ یہ سب محض امریکی عرب پتی بل گیٹس اور امریکی صدر کے مشیر ڈاکٹر فوچی کا کیا دہرا ہے. ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اتنا مہلک اور خطرناک نہیں ہے جتنا اسے بتایا جا رہا ہے بلکہ یہ ایک عام موسمی زکام جتنا ہی خطرناک ہے .

وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لاک داؤن اور سماجی دوری جیسے جبر و ستم سے عوام کو عذاب میں ڈال کر ان کی نفسیات سے کھیلا جا رہا ہے جس کا کوئی مقصد نہیں ہے اور یہ قابل سزا جرم ہے. ان کا کہنا تھا کہ گھروں میں جبری لوگوں کو بیٹھا کر ڈرایا جا رہا ہے جس سے ان کی قوت مدافعت کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے جو کہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے.

ڈاکٹر راشد بٹر امریکی بائیو لوجسٹ ہیں جن کا تعلق امریکی ریاست نارتھ کیرولینا سے ہے، ڈاکٹر راشد بٹر نے بھی اس کورونا وائرس کے جاری حالیہ بحران کو جعلی قرار دیتے ہوے کہا کہ یہ سب انسانیت کے خلاف ایک مخصوس گروپ کی سازش ہے جس کا مقصد دنیا کی معیشت کو تباہ کرنا ہے.

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا اس کو میڈیا کے ذریعے بتایا کے لوگوں کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا جا رہا ہے.واضح رہے اس کے علاوہ متعدد جرمن سائنسدان بھی کورونا وائرس کو غیر مہلک قرار دے چکے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *