کرونا وائرس اور قوت مدافعت

کرونا وائرس اور قوت مدافعت
Spread the love

کرونا وائرس اور امیون سسٹم

جان لیں ہر انسان کے جسم میں قوت مدافعت موجود ہے جو نارمل حالات میں بدن کا انتظام و انصرام کرتی ہے اور حالت مرض میں امیون سسٹم کے زریعے اسباب مرض کا مقابلہ کرتی ہے۔

کرونا وائرس جب انسانی بدن میں داخل ہوتا ہے تو قوت مدافعت فورا امیونی نظام کو ایکٹیویٹ کرکے الرجک ری ایکشن شروع کردیتی ہے۔ جس سے متاثرہ مریض میں نزلہ، فلو، گلے کی خراش، بخار جیسی علامات پیدا ہوسکتی ہیں۔ یاد رہے یہ علامات اس بات کا اظہار ہے کہ دفاعی نظام متحرک ہوگیا ہے۔

اس وقت ایک طبیب کا کام قوت مدافعت کی معاونت کرتے ہوئے بدن میں حرارت و رطوبت کو بڑھانے کی کوشش کرنا ہے۔ یہی حرارت و رطوبت امیونٹی کے ہتھیار ہیں۔ جو معالج اس بلغم و ریشہ کو خشک کرنے یا بخار کو فورا اتارنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں وہ درحقیقت قوت مدافعت کی مخالفت اور وائرس کی معاونت کر رہے ہوتے ہیں۔

کرونا وائرس انفیکشن کے بعد خوش آئیند علامات

  • تیز فلو
  • نزلہ
  • بلغمی کھانسی
  • بخار

کرونا وائرس انفیکشن کے بعد خطرناک علامات

  • خشک کھانسی
  • گلے کی سوجن
  • سانس کی تنگی

کرونا وائرس سے مقابلہ کے دو اصول

اول

خود کو اور دوسروں کو وائرس کے حملہ سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کریں جن میں باہر نہ نکلنا، میل جول بند کرنا، حفاظتی ماسک پہنا، گھر کی صفائی ستھرائی شامل ہیں۔

دوم

وائرس کا حملہ ہونے کی صورت میں طبیعت کی معاونت کرنا اور طبیعت جو علامات پیدا کر رہی ہے ان کو حرارت و رطوبت سے تقویت دینا شامل ہیں۔

سرد تر بلغمی  اور سرد خشک سوداوی غذاؤں سے پرہیز کریں اور گرم خشک و گرم تر ادویہ اغذیہ استعمال کریں۔ بلغم کی پیدائش اور اخراج جاری رکھیں۔  بخار کی صورت میں فورا بخار نہ اتاریں بلکہ اسے low profile پر جاری رکھیں۔

ادرک، ملٹھی، عناب، پودینہ کے گرم قہوہ جات استعمال کریں۔ اگر چھاتی میں بلغم جم گیا ہوتو گرم بھاپ لیں۔ رقیق بلغم کا بہاؤ جاری رکھیں۔

صحت مند رہنے کے لیے مزید پڑھیں

How does your immune system work?

Recognizing Day to Day Signs and Symptoms of Coronavirus

2 Comments on “کرونا وائرس اور قوت مدافعت”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *