دار چینی کا روزانہ استعمال کئی بیماریوں سے بچاتا ہے

Daily use of cinnamon
Spread the love

ایک تحقیق

دار چینی کے فائدے

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دار چینی کا روزمرہ کے کھانوں میں استعمال بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دارچینی کا استعمال کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ دل کی بیماریوں اور شریانوں میں خون جمنے سے روکتی ہے۔ شہد کے ساتھ کھانے سے قوت مدافعت بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ دارچینی کو کھانے میں شامل کرنے سے بیکٹیریا کی افزائش کم ہوتی ہے اور یہ کھانے کو خراب ہونے سے بچاتی ہے۔

دار چینی جسے ہندی میں دال چینی اور انگریزی میں سینامول کہتے ہیں، ماہیت کے اعتبار سے ایک درخت کی چھال ہے جس کی رنگت سرخی مائل زرد یا ہلکی سیاہی مائل ہوتی ہے۔ ذائقہ قدرے شیریں تلخی لیے ہوتا ہے۔ اس کی کاشت زیادہ تر سری لنکا، ہندوستان اور چین میں کی جاتی ہے اور جزائر شرق الہند میں خود رو ہوتا ہے۔ دار چینی اقسام کے اعتبار سے تین قسم کی ہوتی ہے جو حجم اور رنگت میں مختلف ہے۔ ہمارے ہاں استعمال ہونے والی چین اور سری لنکا کی دارچینی سب سے عمدہ اور خوشبودار ہوتی ہے۔ اطباءنے اس کا مزاج گرم خشک درجہ دوم بتایا ہے۔

جدید طبی سائنسی تحقیق نے بھی اس کی کاسر ریاح صلاحیت کو بہت اہمیت دی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں شامل فراری تیل انتہائی لطیف اجزاء کا مرکب ہوتا ہے جو جلد جزو بدن بن جاتا ہے۔ یہ اجزا معدے اور آنتوں پر اثرانداز ہوکر ریح کے اخراج کا سبب بنتے ہیں جس سے معدے اور آنتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اسہال اور پیچش میں اس کا فائدہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں جو دار چینی استعمال ہوتی ہے اس میں ٹے نین کا جزو بہت کم ہوتا ہے اس لیے یہ کاسرریاح تو ہے مگر قابض نہیں ہے۔

 مقدار خوراک

دار چینی کی مقدار خوراک ایک سے دو گرام (پسی ہوئی) ہے۔ اس کے کھانے سے معدے اور آنتوں پر اثر انداز ہوکر اپنے فراری تیل کے باعث جلد جزوبدن بنتی ہے۔

 بدہضمی

کھانے کا صحیح طور پر ہضم نہ ہونا، پیٹ پھولنا، ریاحوں کا بھرجانا یا بھوک صحیح طور پر نہ لگنا ایسی صورتوں میں روغن دار چینی کے تین سے پانچ قطرے شکر میں ملا کر نیم گرم پانی سے دینا مفید ہوتا ہے۔

 دانت کا درد

روغن دار چینی میں روئی کا تر کیا ہوا پھایا لگانا مفید ہوتا ہے اس سے دانت کا درد ختم ہو جاتا ہے۔

 دودھ ہضم نہ ہونا

بعض لوگوں کو دودھ ہضم نہیں ہوتا اور لوگ اس کو بادی ہونے اور ریاح کی شکایت کرتے ہیں۔ ایسے حضرات اگر ایک لیٹر دودھ میں دار چینی 3 گرام کا سفوف ملا کر اسے جوش دے کر پئیں تو اس سے نہ صرف دودھ ہضم ہوگا بلکہ قوت ہضم بھی بڑھے گی۔

 دمہ اور کھانسی

جن لوگوں کو کھانسی اور دمے کی شکایت ہو وہ دارچینی (ایک گرام) پیس کر شہد (دو چمچے) کے ساتھ صبح و شام کھائیں۔

 کاسر ریاح

ریاحوں کے اخراج کیلئے دارچینی کا جواب نہیں۔ ایسی صورت میں دارچینی منہ میں رکھ کر چبائی جائے اور سالن میں استعمال کی جائے۔

الرجی کا نزلہ زکام

ماحولیاتی آلودگی خصوصاً فضائی آلودگی کی وجہ سے نزلہ زکام اور چھینکیں آنے کا عارضہ عام ہو گیا ہے۔ بعض لوگوں کے صبح ہوتے ہی ناک سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے ان کیلئے یہ نسخہ بہت مفید ہوتا ہے:

”برگ بنفشہ چھ گرام، تخم میتھی چھ گرام اور دارچینی تین گرام پیس کر آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پندرہ بیس دن تک پینا چاہیے۔

سفوف ہاضم و مقوی معدہ

دارچینی، سونٹھ، دانہ الائچی خورد ہم وزن پیس کر قبل غذا ایک سے تین گرام تازہ پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے نظام ہضم کی اصلاح ہوگی اور معدہ بھی مضبوط ہوگا۔

حاملہ خواتین کیلئے

ولادت کے بالکل قریبی دور میں دار چینی اور سہاگہ ہم وزن پیس کر صبح و شام تین تین گرام تازہ پانی کے ساتھ دینے سے زچگی آسانی سے ہوتی ہے۔

 بواسیر

بواسیر میں دارچینی کا ضماد (لیپ) لگانا مفید ہے۔

 ہچکی

دارچینی مصطلگی کے ساتھ ملا کر جوش دے کر پینے سے ہچکی کو فائدہ ہوتا ہے۔

 سردی کا درد سر

پیشانی پر دار چینی کا لیپ کرنا مفید ہے

 سرطان

مانچسٹر (برطانیہ) کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر جے جے کرنی نے سرطان کے مریضوں کو زیادہ مقدار میں دارچینی کا استعمال کرایا تو اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے تاہم ابھی مزید اور حتمی تحقیق کیلئے کام جاری ہے۔

 دارچینی کا عرق

دارچینی کا عرق سریع الاثر ہوتا ہے۔ قوت ہاضمہ کیلئے بہت مفید ہے۔ ریاحوں کو خارج کرتا ہے۔ برودت (ٹھنڈک) اور یرقان میں مفید ہوتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے۔

دارچینی کا استعمال

دارچینی کا مقررہ مقدار میں استعمال بہت مفید ہوتا ہے البتہ اس کا بکثرت اور دیر تک استعمال مناسب نہیں ہوتا بلکہ یہ متلی، قے اور قبض کا سبب بن جاتی ہے…

پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں

https://t.me/khanyinourMalomat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *