کچرا کیسے کم کیا جائے؟ حصہ اول

کچرا کیسے کم کیا جائے
Spread the love

تحریر: نیر تاباں

کچرا کم کیسے کیا جائے۔
Minimalism, natural way of living, recycling اور composting ایسی چیزیں ہیں جن سے کچرہ کم سے کم رہ جاتا ہے۔

منیملزم یہ ہے کہ
* کچھ بھی لینے سے پہلے آپ ایک بار رک کر یہ سوچ لیں کہ کیا مجھے اسکی ضرورت ہے؟ خواہش نہیں، ضرورت۔ پہننے اوڑھنے کی چیز ہو، گھر کی سجاوٹ کی، نت نئے برتن،، یا بچوں کے کھیلنے اور کھانے کی، پھر سے Needs vs wants کا موازنہ کر لیں۔

* آن لاین شاپنگ سے بچیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک شاپنگ کے لئے بازار جانا ضروری تھا لیکن اب آن لائن شاپنگ کی وجہ سے ونڈو شاپنگ کرنا بے حد آسان ہو گیا ہے۔ کپڑوں کی ویب سائٹ دیکھتے رہو، جب سیل لگے، بغیر ضرورت ہی سیلیکٹ کریں، وہیں آن لاین ادائیگی کریں اور گھر بیٹھے کپڑے وصول کر لیں۔

اسی طرح ایمازون وغیرہ۔ یاد رہے کہ جتنے دور سے آپ چیز منگوائیں گے، اتنا زیادہ اس پر فیول لگا ہو گا، جو ماحول کے لئے خراب ہے۔ علی ایکسپریس جیسی سائٹس کا بائیکاٹ کریں جو چائنا کا کچرہ آپکو دیتی ہیں۔ چائنا کی چیزوں سے بچنا بہت مشکل ہے لیکن کوشش حتی المقدور کریں۔ وہ جو کچھ مسلمانوں کیساتھ کر رہا ہے، ہمارا بنتا نہیں ہے کہ ہم انہیں اتنا بزنس دیں۔ جتنی لوکل پراڈکٹس آپ استعمال کریں گے، اتنا آپکے ملک کے لئے اچھا ہے۔ اور ماحول کے لئے بھی اچھا ہے۔

* سیل کے دھوکے میں چیزیں نہ اکٹھی کریں۔ اسی طرح ہلتے جلتے ڈالر سٹور جیسی جگہوں پر نہ جایئں۔ دو دو، چار چار ڈالر کر کر صرف گند اکٹھا کر کے لے آیا جاتا ہے۔ ضروری کویئ چیز لینے جانی ہے تو بس پانچ ڈالر لیکر جایئں اور وہ چیز لیکر آ جایئں۔

* گھٹیا کوالٹی کی چیز لینے کے بجائے ایک بار اچھی چیز لیں اور اسکو خوب استعمال کریں۔ آٹھ آٹھ سو روپے کے جوڑے لینا اور پتہ نہیں کتنے لے لینا، اس سے بہتر ہے کہ بہتر کوالٹی لیں اور پھر تین چار سال استعمال کریں۔ اس کو ایک اور زاویے سے دیکھیں۔ ایک کاٹن کی ٹی شرٹ بننے میں ۲۷۰۰ لیٹر پانی کا لگتا ہے جو ایک انسان کے پینے کے لئے ڈھائی سال تک کافی ہے۔

اب شلوار، قمیض، دوپٹے کے بنانے میں کتنا پانی لگتا ہے، یہ آپ حساب لگائیں۔ اس لئے جب لیں تو اچھا لیں اور پھر اسکو خوب استعمال کریں۔ ایک جینز کی پینٹ بننے میں ۷۶۰۰ لیٹر پانی لگتا ہے۔ یہ ایک انسان کی ساڑھے سات سال تک کی پینے کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ ممکن ہو تو سیکنڈ ہینڈ لے لیں، یا نئی لیں تو آپ کو کالے اور براؤن اور ہلکے اور گہرے نیلے بہت سے رنگوں کی ڈینم نہیں چاہیے۔ ایک لیجیے اور اسکو بہت سال چلائیے۔

* اپنے آپ کو شکر گزار رکھیں۔ منیملزم کا یہ مطلب نہیں کہ مفلس حال اور مسکین نظر آنا ہے، یا شرمندہ کہ ہائے تیسری بار یہی کپڑے پہن کے انکے گھر جا رہے ہیں۔ دو چار بنیادی رنگوں کے پاجامے اور دوپٹے رکھیں اور کرتے قدرے زیادہ رکھ لیں، اور کانفیڈینس کے ساتھ کیری کریں۔

* بازار جاۂ تو میک اپ، یا کلیننگ پراڈکٹس کے سامپل پکڑاتے ہیں۔ کبھی نہ لیں۔ خواہ مخواہ کا کچرہ۔ بزنس کارڈ کوئی دے تو نہ لیں، پکچر لے لیں۔ اسی طرح فلائر وغیرہ گھر میں پھینک دیتے ہیں۔ انہیں منع کریں یا گھر کے دروازے یا میل باکس پر لکھ کر لگا دیں کہ ہمیں فلایر نہ دئے جائیں۔

یوں منیملزم سے کافی کچرہ تو یونہی کم ہو گیا کہ اب آپ بلا ضرورت چیزیں گھر میں نہیں لاتے، لاتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں سیکنڈ ہینڈ لے آئی جائے تا کہ پیکجنگ نہ ہو۔ اب آئیں ضرورت کی چیزوں پر:

نیچرل وے آو لونگ میں صرف کھانا پینا ہی آرگینک نہیں، بلکہ عمومی طور پر بھی پلاسٹک اور کیمیکلز، artificial dyes/flavours, preservatives, sugar والی چیزوں سے گریز کرنا۔ پلاسٹک سے گریز آجکے دور کا بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایک جہدِ مسلسل ہے۔ لیکن شعوری کوشش سے اس پر بہت حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس پر پہلے بات ہو چکی ہے، پھر سے دہرا دیتی ہوں۔

کچن میں:
* کلِنگ فائل کے بجائے پلیٹ سے ڈھک لیں۔ سینڈوچ، سلاد وغیرہ کے لئے ایئر ٹائٹ ڈبے کا استعمال کریں۔
*زپ لاک کے بجائے ڈبوں کا استعمال کریں۔
* ٹاول پیپر کے بجائے تولئے کے نیپکن جو ہفتے بعد تولیوں کیساتھ دھل جائے۔
* کچن اسپنج کے بجائے جالی والا کپڑا جو تولیوں کیساتھ دھل جائے۔ اسپنج پلاسٹک میٹیرل کا ہوتا ہے جو ری سائیکل نہیں ہو سکتا، نہ کمپوسٹ ہو سکتا ہے۔

* پھل، سبزی اتنی ہی لی جائے جتنی استعمال کرنی ہو۔ زائد ہو جائے تو فورا اسکو ابالنا ہے، یا سمودی بنانی، آیس لالی بنانی، پیسٹ بنا کر فریز کرنی، جو بھی کرنا ہو کیا جائے تا کہ ضائع نہ ہو۔
* دہی جیسی چیز جو گھر میں بآسانی بن سکے، گھر میں بنائیں۔ جو چیزیں خود نہیں بنا سکتے، وہ بڑا سائز خریدیں۔ یعنی دہی کے چھوٹے چھوٹے سنیک سایز، یا چھوٹا پیکٹ چپس، یا چھوٹا پیکٹ بسکٹ کا لینے کے بجائے بڑا پیکٹ لیں اور بچوں کو پلیٹ میں نکال دیں۔
* انڈوں کی ٹرے سنبھال کر رکھیں اور انڈے لینے جائیں تو دکاندار کو پچھلی ٹرے واپس کر دیں۔

* گراسری کے لئے ڈبے یا تھیلیاں گھر سے لے کر جائیں تا کہ چینی، نمک، مصالحہ جات، دالیں، پاسٹا، کشمش بادام، خشک دودھ، بیسن، آٹا، میدہ۔۔۔ اور باقی تمام خشک گراسری پلاسٹک کی تھیلیوں میں نہ آئے۔ ان تھیلیوں کو رکھنے کے لئے بھی بڑے تھیلے سی لیں۔ صرف ایک بار یہ کر کے دیکھیں، آپ کو پتہ چلے گا کہ پوری گروسری ہو گیئ اور کوئی تھیلے اور تھیلیاں آپ کو کچرے میں پھینکنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
* سبزی، پھل کے سارے چھلکے، بیج، اور گلے سڑے ہوئے حصے کمپوسٹ میں پھینکیں۔

* ریڈی میڈ مصالحوں کے پیکٹ کم سے کم استعمال کریں۔ حلیم اور کباب مصالحوں کے بغیر بنائے، بہترین بن گئے ہیں۔ اس پر کوشش جاری ہے۔ کم ہوئے، ختم نہیں ہوئے ابھی، لیکن اگلا ٹارگٹ یہ ہے ان شا اللہ۔
* چولہا، اوون، شیلف، کھڑکیاں، الماریاں، فرش، یہ سب صاف کرنے کے لیے سرکہ، ڈش واشنگ لیکیوڈ، اور پانی کا مکسچر سپرے باٹل میں رکھیں۔

کچرا کیسے کم کیا جائے حصہ دوم

One Comment on “کچرا کیسے کم کیا جائے؟ حصہ اول”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *