کچرا کیسے کم کیا جائے؟ حصہ دوم

کچرا کیسے کم کیا جائے
Spread the love

تحریر: نیر تاباں

باتھ روم:
* فیس واش، کلینزر، میک اپ ریموور، سکرب، کیوٹیکل کریم، ہینڈ کریم، ڈے کریم، نائٹ کریم، انڈر آئی کریم، فٹ کریم۔۔۔۔ اور پتہ نہیں کیا کیا کریمیں۔ انکی جگہ خالص تیل کی بوتل چاہیے، وٹامن ای کی بوتل رکھ لیجیے۔ بس اتنا ہی چاہیے! رنگا رنگ چیزیں نہ لیں (منیملزم!)
* ٹوتھ پیسٹ گھر میں بنا لیں۔ کوکونٹ آئل کافی ہے۔ چاہیں تو تھوڑا سا بیکنگ سوڈا ڈال لیں۔ چاہیں تو پیپرمنٹ آئل چند قطرے۔ دانت صاف ستھے چمکدار اور خالی ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب نہیں پھینکنی پڑتی۔

*شیمپو ایک ماہ سے زیادہ ہوا، استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ مہینے میں ایک بار انڈے سے، باقی دن بیسن گھول کر اس سے بال دھوئیں۔ کھلے پانی سے بالوں کو خوب اچھی طرح دھو لیں۔ آخری پانی میں سرکہ ملا کر بال دھوئیں۔ کوئی سمیل نہیں، اور صاف ستھرے ریشمی بال۔ یوں یہ بھی ہر ماہ کی بوتل کچرے میں جانے سے رہ جائے گی۔ ریٹھے، سکاکائی وغیرہ کی افادیت بھی ہمیشہ سے جانی مانی ہے۔ چاہیں تو وہ استعمال کر لیں۔
* ویکس بھی گھر میں بن سکتی ہے۔ چینی، پانی، لیمن جوس اور ایک دو بار تجربہ کرنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس وقت چولہے سے اتارنی ہے۔

* صابن اگر گھر میں بنا سکیں تو اچھی بات، گھر کا بنا ہوا خرید سکیں تو بھی اچھی بات، اگر ریپر والا خریدنا ہو تو پیپر کی ریپنگ ہو، پلاسٹک والی نہیں۔ ہینڈ واش رکھنا ہے تو بس مہمان کے لئے رکھ لیں۔ خود بھی ضرور اگر لیکوِڈ ہینڈ واش استعمال کرنا ہی ہے تو سب سے بڑی بوتل خریدیں تا کہ خالی پاسٹک کی بوتلیں بار بار کچرے کی زینت نہ بنیں۔

* ٹشو پیپر کی بجائے باتھ روم میں جاذب کاٹن کی پرانی ٹی شرٹس یا تولئے کے چھوٹے چھوٹے رومال رکھیں۔ دو کاٹن کے بیگ، ایک میں صاف رومال اور ایک میں استعمال شدہ۔ دو چار دن کے بعد استعمال شدہ رومالوں والے تھیلے کی ڈوری گھینچ کر اسے بند کریں اور پورا تھیلا یونہی دھو لیں۔ پریشان نہ ہوں۔ یہ رومال صرف پانی خشک کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ان پر کوئی گندگی نہیں ہوتی۔

* صفائی کے لئے وہی سرکے والا کلینر۔ پورے باتھ روم کی ہر چیز اسی سے صاف ہوتی ہے۔
* ڈائپرز، خواتین کے سینیٹری نیپکنز بھی ڈسپوز ایبل استعمال کرنے کے بجائے ری یوز ایبل استعمال کریں۔ یہ گندگی لینڈ فل میں ۳۰۰ سے لیکر ۸۰۰ سال تک موجود رہتی ہے۔

لین دین:
گفٹس کے بجائے experiences دیں۔ تحائف دینا ہوں تو پودا دیجیے۔ ریپنگ پیپر چونکہ ری سائیکل نہیں ہوتا تو اسکے بجائے کسی کاٹن کے سکارف یا چھوٹے کچن ٹاول، یا کاٹن کی ٹی شرٹ میں ریپ کریں۔ یا اخبار وغیرہ کا استعمال۔ Japenese gift wrapping techniques دیکھیں۔ غبارے وغیرہ نہ خود سجائیں نہ کسی کو تحفے میں دیں۔ سمندری مخلوق کے لئے قاتل ہیں۔

موج مستی
باہر کبھی کھانے کا موڈ ہو تو اپنے برتن گھر سے لیکر جائیں۔ کافی، آیس کریم وغیرہ بھی اپنے پرتنوں میں لیجیے۔ دعوتوں پر ڈسپوز ایبل کے بجائے گھر کے برتن استعمال کریں اور دوستوں کے ساتھ مل کر صفائی کا رواج ڈالیں تا کہ آپ کی اپنی کمر دہری نہ ہو جائے اکیلے برتن دھوتے دھوتے۔ پکنک پر بھی گھر سے برتن لیکر جایئں۔ میری سہیلی کہنے لگی کہ کہنا گندہ لگے گا کہ گندے برتن گھر لیکر جائیں۔ میرا جواب تھا کہ وہ گند صاف تو ہو جائے گا، جو ڈسپوز ایبل گندے برتن پم کچرے میں پھینک کر جائیں گے وہ اگلے کئی سال یہیں ہونگے۔

ایک ورکشاپ لی تو پتہ چلا کہ بند گوبھی کا ڈنٹھل جو چند ہفتوں میں ڈی کمپوز ہو جاتا ہے، جب کوڑے کے تھیلے میں بند کر کے پھینکا جائے تو پچیس سال لگ جاتے ہیں۔ اب اسی حساب سے سوچ لیں کہ ہم دعوتوں اور پکنک پر اپنی موج مستی کے نام پر جو گندگی ماحول میں چھوڑ آتے ہیں، وہ کتنے سال ڈی کمپوز ہونے میں لیتی ہو گی۔

*******
یوں منیملزم سے کافی کچرہ تو یونہی کم ہو گیا کہ اب آپ بلا ضرورت چیزیں گھر میں نہیں لاتے، لاتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں سیکنڈ ہینڈ لے آئی جائے تا کہ پیکجنگ نہ ہو۔ باقی کسر نیچرل لونگ سے پوری ہوتی ہے۔ جب آپ ڈسپوزیبل چیزوں کے بجائے ریأ یوز ایبل چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ لے دے کے دودھ کے ڈبے یا اس طرح کی چیزیں رہ گئیں، وہ ری سایکلنگ میں چلی جاتی ہیں۔ باقی کوڑے میں رہ گیا پھلوں سبزیوں کے چھلکے وغیرہ تو اس کے لئے کمپوسٹنگ، جسکا ذکر اوپر کیا تھا۔

کمپوسٹنگ شروع کئے ابھی ایک ماہ یا کچھ زیادہ ہوا ہو گا۔ بڑا لان ہو تو پتے، ٹہنیاں، گھاس، ناخن، بال، ویکووم کلینر یا ڈسٹ پین میں اکٹھی ہوئی مٹی، ٹشو کے ٹکڑے، کپڑوں کی بُر، گوشت اور دودھ کے علاوہ کچن سے نکلی ہر چیز چاہے خراب ہو گیا پھل اور سبزی، پھپھوندی لگی بریڈ، اور ایک لمبی لسٹ ہے جو اس میں ڈالی جا سکتی ہے۔ دس بارہ دن کے بعد ایک بیلچے سے ان چیزوں کو الٹ پلٹ کر دیا جاتا ہے۔ اور یوں کچھ عرصے بعد یہ کھاد میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اب یہ اتنی کمال چیز ہے کہ آپ کے گھر کا تقریبا سارا کوڑا اس میں چلا جاتا ہے۔

یہ سب چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ۲۱ دن کے بعد کوڑا دان خالی کیا اور اس کو مہینے تک بڑھانے کا ٹارگٹ ہے۔ یہ آٹھ سال کا سفر ہے۔ ایک دم سے اتنا زیادہ دیکھ کر پریشان نہ ہوں۔ کسی ایک چیز سے شروع کریں اور دو ماہ بس وہی کریں۔ پھر ایک چیز اور ایڈ کر لیں۔ تبدیلی اور اصلاح کا سفر اپنی ذات سے شروع کریں۔

کچرا کیسے کم کیا جائے حصہ اول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *