درپردہ احکامات: شہد میں شفاء ہے! (حصہ سوم)

شہد
Spread the love

تحریر: ابن فاضل

سورۃ النحل میں اللہ کریم فرماتے ہیں..

ان کے شکموں سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے (وہ شہد ہے) جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانی ہے۔”

اب پھر وہی بات، کہ یہ قرآن کریم کتاب ہدایت ہے، اس کا مقصد انسانوں کی اصلاح ہے. مگر اللہ کریم کی رحمت بے پایاں کہ وہ جہاں قرآن کریم میں ہمیں دعوت حق دیتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ ہنٹ بھی دیتے جاتے ہیں کہ معاشیات پر توجہ دیں، جدید علوم سیکھیں لوہے سے فائدہ اور طاقت حاصل کریں۔

یہاں ہماری جسمانی صحت کیلئے بھی راہنمائی دے رہے ہیں. کہ شہد میں شفا ہے. ساتھ ہی ایک بار پھر دعوت فکر بھی دیدی. اب اگر ہم غوروفکر کرنے والے بن جاتے تو شہد میں ہی ایک پورا جہان ہے. مختلف پھولوں،علاقوں اور موسموں کے اجزائے ترکیبی الگ ہیں. انکے مختلف بیماریوں پر کیا اثرات ہیں، ہے کوئی تحقیق. شہد میں تینتیس مختلف دھاتیں پائی جاسکتی ہیں. جن میں تانبا، قلعی، کیلشیم، میگنیشیم، سٹرانشیم، پوٹاشیم ،سوڈیم ،زنک اور فولاد قابل ذکر ہیں. کبھی کسی نے دیکھا ہو کہ کس پھول اور کس علاقے سے کونسی دھاتیں شامل ہوتی ہیں، ان کے کیا اثرات ہیں۔

اسی طرح شہد میں درجنوں اقسام کے اینٹی آکسیڈینٹس اور فلیونائیڈز ہوتے ہیں. اس کا یہ جزو، اصل میں بیماریوں کے خلاف ڈھال اور اس کا بطور ادویہ استعمال کا بنیادی ڈھانچہ ہے. شاید اسی لیے الفاظ استعمال کئے گئے کہ شہد میں شفا ہے. کبھی کسی نے انہیں فرکٹوز سے جدا کرنے کی کوشش کی ہو کہ ذیابیطس کے مریض بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں. یا یہ کہ کون سے پھولوں سے کونے اینٹی آکسیڈینٹس ملتے ہیں اور وہ کن بیماریوں کے خلاف موثر ہیں۔

درپردہ احکامات: طاقت اور نفع سے بھرپور دھات(حصہ دوم)

مجھے لگتا ہے کہ اللہ کریم کی اس فیاضی، کہ” شہد میں شفا ہے ” کے بعد ہمیں اس پر تحقیق کے پورے ادارے بنانا چاہیے تھے. مگر افسوس کہ وہ بھی اغیار کے ہاں ہی ہیں. آپ تلاش کریں شاید ہی کوئی یورپی قابل ذکر ملک ایسا ہو جس میں شہد پر تحقیق کے ادارے نہیں. امریکہ میں تو درجنوں یونیورسٹیوں کے اندر ہنی بی ریسرچ سینٹر ہیں. چین میں بھی درجنوں تحقیقی مراکز صرف شہد اور اس کی پیداوار پر کام کررہے ہیں. ایک رپورٹ کے مطابق چین امریکہ سے دوگنا وسائل شہد کی تحقیق پر خرچ کرتا ہے. بھارت یہاں تک کہ ویتنام تک میں شہد کی پیداوار پر تحقیق کے ادارے موجود ہیں۔

نیوزی لینڈ میں ابھی کچھ طلباء نے شہد میں کچھ مخصوص کیمیائی مرکبات کی مقدار بڑھانے کے لئے کامیاب تجربات کیے ہیں جس سے بیماریوں کے خلاف اس کے استعمال سے زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں. اسی طرح جلد کی خوبصورتی میں اضافہ اور جلدی بیماریوں کے علاج کیلئے ایک خاص قسم کے شہد پر کامیاب تحقیق کی گئی ہے۔

یوں تو پاکستان میں بھی ایک انسٹیٹیوٹ ہے مگر وہاں صرف اس کی پیداوار کے حوالے سے کام ہوتا ہے. جس طرف اللہ کریم کا فرمان یا اشارہ ہے اس پر کام نہیں ہورہا۔

شہد کے حوالے سے وطن عزیز کی بات کریں تو انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ شاید دنیا میں سب سے زیادہ جعل سازی اور مشکوک شہد ہمارے ہاں پایا جاتا ہے. جتنی بھی تسلی کرلیں ایک خوف سا ہوتا ہی کہ نہیں معلوم خالص یا ملاوٹ شدہ یا بالکل ہی نقل. میری خواہش ہے کہ ہمارے طب، بائیو سائنسز اور ادویہ سازی کے طلباء کو اس پر کام کریں اور ایک دن ہم دنیا سے کہیں کہ ہم نے اللہ کے اس درپردہ حکم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرطان اور ایڈز جیسے مہلک امراض کا علاج دریافت کرلیا ہے۔
جاری ہے

درپردہ احکامات: وقت کے مطابق تیار رہنا (حصہ اول)

About احمد سلیم ابن فاضل

View all posts by احمد سلیم ابن فاضل →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *