کرونا اور امید کی کرنیں

امید کی کرنیں
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

امید کی کرنیں

عید کے دو دن بعد عمر قدوسی بھائی سے رابطہ ہوا تو کرونا کے حوالے سے بھی باتیں ہوئیں تو کہنے لگے۔ یہ جو باتیں آپ فون پر کررہے ہیں ان کو لکھ کر لوگوں تک کیوں نہیں پہنچا رہے۔۔

کلینک پر کچھ رش چل رھا تھا اس لیئے مشکل لگا لیکن پھر بھی اگلے دن ایک تحریر مکمل ہوگئی۔

اور پھر اس پرآنے والے رسپانس سے شروع ہونے والا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

لوگوں کے سوالوں اور تفکرات سے انباکس بھر گیا۔

ایک گھنٹے میں دس سے پندرہ میسجز کے جواب دے رھا تھا۔ لوگوں کو رہنمائی کی اپنی سی کوشش۔ تسلی اور امید زندہ رکھنے کی ایک لگن۔

ابتدا میں مجھے لگا جیسے میں لوگوں کے بوجھ اتار کر ان کو اپنے کندھوں پر ڈالتا جا رھا ہوں۔

پہلے دس پندرہ دن تو ایسے لگ رہا تھا کہ حالات خراب سے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی کو ایکسرے کا مشورہ دینا پر رھا تھا تو کسی کو آکسیجن لگوانے کا کہہ رھا۔ کسی کو ڈرپ لگوانے کا مشورہ دے رھا۔ تو کسی کو بھاری دل کے ساتھ ہسپتال منتقل ہونے کا کہہ رھا۔۔۔

لیکن لوگوں کی دعائیں اور پازیٹو فیڈ بیک مسلسل حوصلہ بڑھاتا رھا۔

بیماری سے بھی زیادہ جو مسئلہ سامنے آیا وہ لوگوں کا خوف تھا۔ ان کے تفکرات۔ بے شمار لوگوں سے بات چیت کرکے محسوس ہورھا تھا کہ وہ باقائدہ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔۔۔۔

اگرچہ پچھلے آٹھ دس دن سے رابطہ کرنے والوں کی تعداد پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے۔ رات کو دیر تک لوگوں کے سوالات کے جوابات دے رھا ہوتا ہوں۔ سارا دن فون بجتا رہتا رہتا ہے۔

لیکن اب لوگوں کی تکلیف میں ایک واضح فرق محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے۔

بیماری کی شدت کم ہورہی ہے۔ لوگ بہت جلد بیماری کی تکلیف سے نکل رہے ہیں۔

اور پچھلے تین چار دن سے پرانے مریضوں کی طرف سے بھی حوصلہ افزا اطلاعات مل رہی ہیں۔

میری ایک عزیزہ جو دو ہفتوں سے وینٹیلٹر پر تھیں۔آج ان کو جنرل وارڈ میں شفٹ کردیا گیا ہے۔ الحمداللہ۔

پچھلے تین دن میں چھ سات احباب ہسپتال سے گھر پہنچ چکے ہیں۔

بہت سے دوست جن کو سانس اور بخار کے مسائل پچھلے دو ہفتوں سے پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے وہ اب اپنے معمول کی زندگی کی طرف بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس وقت میرے رابطے میں جتنے بھی احباب ہیں ان میں سے کوئی بھی سیریس نہیں ہے۔ بخار اور ہلکی کھانسی کے علاوہ زیادہ تر اب کمزوری سے نمبٹ رہے ہیں۔

میں پرامید ہوں۔ آنے والے دنوں سے۔ میرا رب بہت مہربان ہے۔

اپنا حوصلہ بلند رکھیں۔اپنا اعتماد بحال رکھیں۔ کرونا کی وبا بیماری سے زیادہ اعصاب کی گیم ہے۔اس سے نبٹنے کیلئے آپکو اپنے اعصاب پر قابو رکھنا ہوگا۔۔

اپبے رب سے تعلق کو مضبوط بنائیں۔

اپنی خوارک کا دھیان رکھیں۔

نیند پوری کریں۔

انشاءاللہ بہت جلد معمول کی زندگی لوٹ آئے گی۔

ایک ضروری بات۔۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا ایک ضروری یاد دہانی کروا رہا ہے۔

گرمیوں میں جب اچانک آندھی آتی ہے تو ایسے درخت جن کی جڑیں کمزور ہوچکی ہوتی ہیں وہ اکھڑ جاتے ہیں۔ جن دیواروں کی بنیاد ختم ہوچکی ہووہ گر جاتی ہیں۔

ایسے ہی کرونا کی آندھی کے سامنے گرنے والے بے شمار لوگ وہ ہیں جو اندرونی طور پر کمزور تھے جن کو بیماریوں نے اندر ہی اندر سے کھایا ہوا تھا۔۔ کسی نے شوگر کے مسئلے کو کبھی اہمیت نہیں دی ہوئی تھی کسی کا بلڈ پریشر ہمیشہ تیز رہتا تھ۔ کسی نے اپنے دمے کے مسئلے کو سیریس نہیں لیا تو کوئی نشہ آور ادویات کا عادی تھا۔ کوئی شراب نوش تھا کسی کے گردے ممنوعہ ادویات کھا کر پہلے سے تباہی کے کنارے پر تھے۔۔

وبا نے ہمیں بہت سے سبق دیئے ہیں وہاں وبا نے اپنی صحت کا خیال رکھنے کا احساس بھی دلایا ہے۔

صحت مند زندگی گزارنے کے اصولوں کو اپنائیں۔ زندگی کی مصروفیات میں سے اپنے لیئے وقت نکالیں۔

سیر شروع کریں۔

کھانے پینے اور سونے کے معمولات کو بہتر بنائیں۔

صحت مند غذا کھائیں۔

اپنی شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں۔

بدپرہیزی سے خود کو بچائیں۔۔

کرونا آپ تک پہنچ جائے ۔کوئی بات نہیں۔ لیکن اسے لینے خود نہ جائیں۔ غیر ضروری گھروں سے مت نکلیں۔ ماسک کو اپنے لباس کا حصہ بنائیں۔

ڈاکٹر مبشر سلیم

One Comment on “کرونا اور امید کی کرنیں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *