پلازمہ ڈونیشن توقعات اور حقائق

پلازمہ ڈونیشن
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبچر سلیم

پلازمہ ڈونیشن اور توقعات اور حقائق کیا ہیں؟

پلازمہ ڈونیشن کے بارے بار بار سوال پوچھے جا رہے تھے۔ لیکن میں کترا رھا تھا کہ ایک دفعہ اعداد وشمار مل جاتے تو اپنے خیالات شیئر کروں۔ لیکن ڈاکٹر فہید الحق صاحب کی پوسٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ میرا اندازہ اور رائے جو کمنٹس اور انباکس ریپلائی میں تھی وہ درست ہے۔ اس لئے کئی دن پہلے لکھی گئی پوسٹ آج شیئر کررھا ہوں۔۔

اس تحریر کا مقصد اس پلازمہ ڈونیشن کو غلط ثابت کرنا نہیں بلکہ اس خلیج کی نشاندہی ہے جو حقائق اور توقعات کے بیچ موجود ہے

ایک مریض کرونا سے متاثر ہوتا ہے تو اس کے خلاف جسم میں انٹی باڈیز بنتی ہیں۔ اور جسم کا دفاعی نظام ان کی مدد سے وائرس کو جسم سے مار بھگاتا ہےاور یہ انٹی باڈیز وائرس کے جسم سے چلے جانے کے بعد بھی جسم میں موجود رہتی ہیں۔
اب ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کہ
اگر صحت یاب ہونے والے مریض سے یہ والی انٹی باڈیز نکال کر کرونا سے متاثرہ مریض کو منتقل کر دی جائیں تو اس کے دفائی نظام کو ایک دم سے مدد مل جائے گی اور وہ وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔۔

تھیوری کی حد تک یہ کافی حوصلہ افزا اور بہت معمولی اور آسان بات لگے گی لیکن پریکٹیکلی یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔۔

یہ کام اتنا ہی مشکل اور کمپلیکیٹڈ ہے جتنا ایکسیڈنٹ سے مرنے والے انسان کا دل نکال کر کسی بیمار انسان کو منتقل کر دینے والا ایک واقعہ۔

اب دل کی منتقلی کے ایک واقعے کو بنیاد بنا کر پوری قوم کو امید نہیں دلا سکتے ہیں۔ کیونکہ نہ تو یہ کام اتنا آسان ہے اور نہ ہی وبا کے دنوں میں لاکھوں متاثرین کو اس سے فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس لئے
اگر میں کہوں کہ پلازمہ ڈونیشن ایک اوور ریٹڈ امید ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا کے خوف پر قابو پائیں۔

ایک تو پلازمہ کی منتقلی بہت رسکی کام ہے۔ جس میں مریض کو نقصان پہنچنے کے اتنے ہی امکان ہیں جتنے فائدہ پہنچنے کے ۔

دوسرا یہ کہ ایک فرضی بات ہے کہ اس طرح انٹی باڈیر منتقل کرنے سے مریض کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اورجب تک اس کےمکمل نتائج سامنے نہیں آجاتے اس سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پلازمہ ڈونیشن بلڈ ڈونیشن کی طرح آسان اور سہل کام نہیں۔۔

اس کیلئے سب سے پہلے وائرس سے متاثر ہونا اور اس کے بعد اس کی ٹیسٹ رپورٹ کا نیگیٹو ہونا ضروری ہے۔ نیگیٹو رپورٹ کے دو ہفتے بعد آپ ڈونیشن کے اہل ہوجاتے ہیں۔۔

اس کے بعد بلڈ سکریننگ ہوگی۔۔ ہیپاٹائٹس ایچ آئی وی وغیرہ رول آئوٹ کیا جائے گا۔۔

پھر آپ کے اندر انٹی باڈیز کا آپٹیمل لیول چیک کیا جائے گا۔۔کہ آپ کے اندر اتنی انٹی باڈیز موجود ہیں جو کسی دوسرے شخص کو منتقل کی جا سکتی ہیں۔ اگر وہ موجود ہے تو اپ سے بلڈ لے لیا جائے گا۔۔ اس کے بعد پلازمہ سے انٹی باڈیز نکال لی جائیں گی اور وہ مریض کو منتقل کی جائیں گی۔۔۔

اب یہ دیکھیں کہ پلازمہ سے انٹی باڈیز نکالنے کی سہولت کتنی جگہوں پر موجود ہے؟

اور وہاں تک پہنچنے والے مریضوں کے لئے کیا مسائل ہونگے؟ اگر متعلقہ محکمہ آپ کے پاس پہنچتا ہے تو اس کو کتنے وسائل درکار ہونگے

ٹرانسفیوز کرنے سے فائدہ اور نقصان کے درمیان کیا تناسب نکلے گا اسکا اندازہ لگانا ایک مشکل فیصلہ ہے
زیادہ تر مریض جن کو پلازمہ ڈونیٹ کیا جائے گا۔۔ ان کے آرگن ڈیمیج اور جسم کی دوسری کمپلیکیشن کے امکان کافی زیادہ موجود ہیں۔ اور اگر پلازمہ ٹرانسفیوز ہوکر وائرس کو شکست بھی دے دیں گے تو ان کے دوسرے مسائل بدستور موجود رہ سکتے ہیں۔۔

اب اس ساری تصویر کو سمجھ کر آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
زمینی حقائق اور پلازمہ ڈونیشن سے لگائی امید میں کتنا بڑا خلا موجود ہے۔۔۔

کرونا کے بارے میں مزید پڑھیں: کرونا کے خلاف خود کو تیار کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *