املی کے فوائد

tamarind
Spread the love

املی ایک سدا بہار درخت ہے، خوبصورت اور تناور درخت ہے اس پر نئے پتے اپریل مئی کے مہینے میں نکلتے ہیں۔ یہ درخت کبھی پتوں سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کے بیجوں سے بیس فیصد تیل نکلتا ہے۔ بازاری املی میں عام طور پر نمک کی ملاوٹ ہوتی ہے جبکہ دوائی میں استعمال ہونے والی املی نمک سے پاک ہونی چاہیے۔ اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اگر املی پرانی ہو تو اس کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔

 اس کا مزاج سرد درجہ اول اور خشک درجہ دوم ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، بی اور سی شامل ہوتے ہیں۔ اس کی مقدار خوراک دو تولہ سے پانچ تولہ تک ہے، اس کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔

  • دل ومعدہ کو قوت دیتی ہے۔
  • صفرا کو دستوں کے ذریعے نکالتی ہے۔
  • وبائی امراض کے زہر کو دور کرتی ہے۔
  • بخار صفراوی کی صورت میں چار تولہ املی پانی میں بھگو کر پینا بے حد مفید ہے۔
  • املی کے پتوں سے زخم دھونے سے زخم جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
  • پیٹ کے جلن، دل کی گھبراہٹ اور گرمی کو دور کرنے کیلئے گل نیلوفر چھ ماشہ، تخم کاسنی سات ماشہ، آلو بخارا سات ماشہ اور املی دو تولہ پانی میں بھگو کر چھان کر پینا مفید ہے۔
  • بھوک کی کمی اور قوت ہاضمہ کو بڑھانے کیلئے املی کی چٹنی بنا کر استعمال کرنا بہت فائدہ مند ہے۔
  • معدہ، جگر کی خرابی اور یرقان میں املی دو تولہ، تخم کاسنی سات ماشہ، گل نیلوفر دو تولہ اور مکو بھگو کر پینا بہت مفید ہے۔
  • املی کا گودا بحری جہاز پر سفر کے دوران ساتھ رکھنا بہت مفید ہوتا ہے کیونکہ قے روکنے کیلئے انتہائی مجرب ہے۔

 معدے کے زہریلے مواد کو خارج کرنے کیلئے گل سرخ چھ ماشہ، پودینہ خشک چھ ماشہ زرشک شیریں دو تولے، املی پانچ تولے، پہلی تین ادویہ کو ڈیڑھ کلو پانی میں جوش دیں اور املی کو شامل کرکے ٹھنڈا کریں، پھر چینی کا اضافہ کرکے دو چمچے ہر پندرہ منٹ بعد مریض کو دیں۔ ایک دو روز کے اندر ہی معدہ کے افعال درست ہوجائیں گے، قے وغیرہ بند ہوجائے گی۔

 ہیضے کی وباء میں بڑی الائچی چھ دانے، خشک پودینہ ایک تولہ، آلو بخارا دس دانے، املی پانچ تولہ، ڈیڑھ کلو پانی میں ڈال کر ہلکے ہلکے تین جوش دیں ٹھنڈا ہونے پر پانی نتھار کر ایک ایک گھونٹ مریض کو پلانے سے مریض کو سکون ملتا ہے۔

 اس سے زہریلے مواد سے معدہ اور انتڑیاں صاف، پیاس دور اور بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔

 لو کے حملہ کی تکلیف سے بچنے کیلئے املی پانچ تولے، عناب پانچ عدد، تخم خربوزہ ایک تولہ، تمام ادویہ کو ایک کلو پانی میں جوش دے کر گھونٹ گھونٹ پانی مریض کو چینی ملا کر پلائیں، فوری آرام ہو جائیگا۔

 پیشاب کی جلن دور کرنے کیلئے املی کے پتے دو تولہ لے کر پاؤ بھر پانی میں رگڑ کر پینے سے جلن کا عارضہ دور ہو جاتا ہے۔

املی کے پتوں کے جوشاندہ سے زخموں کو دھونے سے گھمبیر وغیرہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ منہ پکنے کی صورت میں اس پانی کے غرارے کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

 بچوں کی قبض کو دور کرنے کیلئے املی کا مربہ بے حد مفید ہے، اسے بچے شوق سے کھا بھی لیتے ہیں۔

مقدار خوراک : ایک سے دو تولہ تک ہے۔

 بچھو یا بھڑ کے کاٹنے والی جگہ پر اگر املی کا بیج گھس کر لگایا جائے تو زہر دور ہو جاتا ہے۔

 املی کے پھول کو باریک پیس کر لیپ کرنے سے آنکھ کی لالی جاتی رہتی ہے۔

 املی کے درخت کی خشک چھال جلا کر اور ناریل کے تیل میں ملا کر جلی ہوئی جگہ پر لگانے سے فوری آرام ہوتا ہے اور مریض کو تسکین ہوتی ہے۔

املی مصفیٰ خون ہے۔ اس کا اچار، مربہ اور چٹنی بنائے جاتے ہیں اور خوش ذائقہ ہوتے ہیں۔

 املی کے تخم قوت خاص بڑھاتے ہیں اور ممسک بھی ہوتے ہیں۔

 سوزاک میں املی کا پانی پینا مفید ہوتا ہے۔

 املی کے پتوں کو ابار کر غرارے کرنے سے خناق کی بیماری دور ہو جاتی ہے۔

املی، شہد اور کسٹرآئل ملا کر پلکوں پر لگانے سے پلکیں لمبی اور گھنی ہو جاتی ہیں۔

 املی کا شربت بنا کر پینا مفرح قلب ہوتا ہے اور طبیعت کو نرم کرتا ہے۔

 آنکھ پر گوہانجنی ہونے کی صورت میں املی کے بیج گھس کر ایک ایک گھنٹہ بعد لگاتے رہیں گوہانجنی ختم ہو جائے گی۔

 امساک کے لئے املی کے بیج چند روز پانی میں بھگو کر اوپر کا چھلکا اتار دیں باقی کو ہم وزن کوزہ مصری ملا کر کالے چنے کے برابر گولیاں بنالیں۔ امساک کیلئے دو گولیاں ضرورت سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہمراہ دودھ استعمال کریں۔ اس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے، بشرطیکہ شام کا کھانا کم کھایا ہوا ہو۔

املی کا شربت

اجزاء:

  • املی کا گودا 4 کھانے کے چمچے
  • چینی 2 کھانے کے چمچے
  • پانی آدھی پیالی
  • پسا اور بھنا ہوا زیرہ 1 چائے کا چمچہ
  • کالا نمک آدھا چائے کا چمچہ
  • برف حسب ضرورت

ترکیب

بلینڈر میں املی کا گودا، چینی اور پانی ڈال کر چند منٹ تک بلینڈ کریں۔ جب چینی حل ہو جائے تو اس میں زیرہ، کالا نمک اور برف ڈال کر یکجا کر لیں۔ املی کا مزیدار شربت گلاس میں نکالیں اور ٹھنڈا ٹھنڈا پیش کریں…

پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں  

https://t.me/khanyino

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *