احساس والے ہی احسان کیا کرتے ہیں : کہانی 18

احساس والے احسان کیا کرتے ہیں
Spread the love

ایک احساس کھائے جا رہا تھا

وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔ کبھی ایک دُکان پر کبھی دوسری دُکان پر ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کتنے جوتے اور کپڑے دیکھ چُکی تھی مگر اُسے کوئی چیز پسند نہ آئی ۔ ساتھ چلتی ہوئی بوڑھی عورت دھیرے سے بولی بٹیا لے بھی لو کچھ ۔

نہیں اماں رہنے دو مجھے اچھا نہیں لگ رہا کچھ ۔ ایک دُکان دار نے بڑی پھرتی سے اُنکی طرف بڑھ کر اسے روکا تھا ، میڈم ادھر آئیں یہ ڈریس دیکھئے ۔ مگر ایک احساس اسے اندر اندر سے کھائے جا رہا تھا

دُکان دار کو وہ لڑکی اپنی خوبصوری سے کسی امیر باپ کی بیٹی لگی تھی ، لیکن اس نے دُکان کے باہر لگے سوٹ ، جن پر سیل سیل کے ساتھ 2500 کا لیبل لگا تھا ، وہ دیکھ کر وہاں کھڑی نہ رہ سکی ۔

بوڑھی عورت پھر سے بولی ، لیتی کیوں نہیں ، لیکن دِل کہہ رہا تھا بٹیا نہ لے مہنگا ہے۔ وہ بھی بیٹی تھی ، سب جانتی تھی ، بولی اماں ایسا کرتے ہیں ، ابھی کوئی پسند بھی نہیں آ رہا تو عید کے بعد سستے ہو جائیں گے پھر لے جائیں گے کیونکہ وہ بھی اپنی ماں کے احساس سمجھتی تھی ۔ ماں بھی بول دی چلو ٹھیک ہے ۔

واپسی پر اس نے بہت سی عورتوں کو بھرے ہوئے شاپرز کے ساتھ دیکھا تھا ۔ ایک چھوٹی سی بچی ایک ریڈی میڈ سوٹ کی دُکان کے باہر کھڑی شیشے میں سے کپڑوں کو دیکھ رہی تھی ۔

اماں نے خوبصورت لڑکی سے کہا تم ادھر بیٹھو میں ابھی آئی ۔ وہ جلدی سے بچی کی طرف بڑھی ، پوچھا ، کونسا پسند ہے ؟ بچی نے گلابی رنگ کے ایک فراک پر ہاتھ رکھ دیا ۔ اس نے قیمت پوچھی تو دکاندار نے کہا 1500 ہے باجی ۔

اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اماں کے آنے سے پہلے ہی اپنے پرس میں سے بٹوا نکالا اندر پورے 1300 تھے ۔ اس نے کہا بھائی بحث نہ کرنا اتنے ہی ہیں ۔

دکان دار نے جلدی سے سوٹ پیک کر دیا ۔ لڑکی نے سوٹ پکڑ کر شاپر سمیت بچی کے ہاتھ میں تھما دیا اور پیار سے پوچھا ، آپ کی امی ابو کدھر ہیں ؟

بچی بولی دادی کہتی ہیں امی ، ابو اللہ کے پاس گئے ہیں ۔

تو آپ کس کے پاس رہتی ہو ؟

میں اور دادی اکیلے ہیں ، وہ ہیں دادی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچی نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں ایک بوڑھی عورت وہیل چئیر پر بیٹھی دپٹے سے آنسو صاف کیئے جا رہی تھی نوجوان لڑکی اس کے پاس چلی گئی ۔ اماں بی کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہیں ۔

عورت نے کہا میں ایک ہفتے سے اس فراک کیلئے پیسے جمع کر رہی تھی لوگ کچھ دیتے ہیں نہیں ، لیکن وہ اللہ کتنا عظیم ہے کسی فرشتے کو احساس دے کر بھیج دیا ورنہ میں سوچ ہی رہی تھی کہ جتنے پیسے میرے پاس ہیں اس میں زہر لے کر بچی کو بھی دوں گی ۔ خود بھی پی لوں گی ۔ تیرا بہت شکریہ بیٹی ۔ نوجوان لڑکی نے ماں کو آتے دیکھا تو بولی ۔اچھا اماں آپ اسکو گھر لے جاؤ . میں چلتی ہوں مجھے جانا ہے اپنا خیال رکھنا . بچی اور دادی اسکو دیکھتے ہی رہ گئے۔

جو اپنی خوشی کو کسی اور کےاحساس کے لئے قربان کر کے چلی گئی۔

گھر آتے ہوئے اماں بولی میری بچی کی عید خراب ہو گئی نوجوان لڑکی نے کہا قسم ہے اماں ایسی عید اب کبھی نہ گئی جو سکون اللہ کی مخلوق کی خدمت میں ہے وہ کہیں نہیں . اپنا بھی خیال رکھئے اور دوسروں کے بارے میں بھی سوچئے اور احساس بھی کیجئے . اللہ تمام غرباء کی مدد فرمائے . آمین …!

خدا را عید کے وقت غریبوں کا بھی احساس رکھیں _!!

اچھی اچھی کہانیاں مزید پڑھیں۔

بچوں کے بارے میں مزید پڑھیں۔

Edhi Foundation

Aghosh Homes – Alkhidmat Foundation Pakistan

Qatra qatra naiki – YouTube

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *