الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ: قسط نمبر 3

الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ: قسط نمبر 3
Spread the love

سیرت النبی ﷺ مسلمانوں کے لیے بہترین زندگی ہے۔

الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ : قسط نمبر 1

الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ : قسط نمبر 2

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه

سیاسی حالات :

جزیرةُ العرب کی حکومتوں اور حکمرانوں کا ذکر ہو چکا ۔ بیجا نہ ہوگا کہ اب ان کی کسی قدر سیاسی حالات بھی ذکر کر دیے جائیں ۔

جزیرةُ العرب کے وہ تینوں سرحدی علاقے جو غیر ممالک کے پڑوس میں پڑتے تھے ان کی سیاسی حالت سخت اضطراب و انتشار اور انتہائی زوال و انحطاط کا شکار تھیں ۔

انسان مالک اور غلام یا حاکم اور محکوم دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا ۔ سارے فوائد سربراہوں—–اور خصوصاً غیر ملکی سربراہوں—–کو حاصل تھے اور سارا بوجھ غلاموں کے سر تھا ۔

اس سے زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ رعایا در حقیقت ایک کھیتی تھی جو حکومت کے لیے محاصل اور آمدنی فراہم کرتی تھی اور حکومتیں اسے لذّتوں ، شہوتوں ، عیش رانی اور ظلم و جور کے لیے استعمال کرتی تھیں ۔

اور ان پر ہر طرف سے ظلم کی بارش ہو رہی تھی ۔ مگر وہ حرفِ شکایت زبان پر نہ لا سکتے تھے ۔ بلکہ ضروری تھا طرح طرح کی ذلّت و رسوائی اور ظلم و چیرہ دستی برداشت کریں اور زبان بند رکھیں ، کیونکہ جبر و استبداد کی حکمرانی تھی اور انسانی حقوق نام کی کسی چیز کا کہیں کوئی وجود نہ تھا ۔

ان علاقوں میں رہنے والے قبائل تذَبذُب کا شکار تھے ۔ انہیں اغراض و خواہشات اِدھر سے اُدھر ، اُدھر سے اِدھر پھینکتی رہتی تھیں ۔ کبھی وہ عراقیوں کے ہمنوا ہو جاتے تھے اور کبھی شامیوں کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔۔۔۔

جو قبائل اندورنِ عرب آباد تھے ان کے بھی جوڑ ڈھیلے اور شیرازہ منتشر تھا ۔ ہر طرف قبائلی جھگڑوں ، نسلی فسادات اور مذہبی اختلافات کی گرم بازاری تھی ، جس میں ہر قبیلے کے افراد بہر صورت اپنے اپنے قبیلے کا ساتھ دیتے تھے خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر ۔

چنانچہ ان کا ترجمان کہتا ہے :

وَمَا أَنَا اِلاَّ مِنْ غَزِيَّةٍ إِنْ غَوَتْ

غَوَيْتُ وَ إِن تَرْشُد غَزِيَّةُ اَرْشُد

” میں بھی تو قبیلے غزیہ کا ہی ایک فرد ہوں ۔ اگر وہ غلط راہ پر چلے گا تو میں بھی غلط راہ پر چلوں گا اور اگر وہ صحیح راہ پر چلے گا تو میں بھی صحیح راہ پر چلوں گا “

اندورنِ عرب کوئی بادشاہ نہ تھا جو ان کی آواز کو قوت پہنچاتا اور نہ ہی کوئی مرجع تھا جس کی طرف مشکلات اور شدائد میں رجوع کیا جاتا اور جس پر وقت پڑنے پر اعتماد کیا جاتا ۔

ہاں حجاز کی حکومت کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اسے مرکزِ دین کا قائد و پاسباں بھی تصور کیا جاتا تھا ۔ یہ حکومت ایک طرح کی دنیوی قیادت اور دینی پیشوائی کا معجونِ مرکّب تھی ۔ اسے اہلِ عرب پر دینی پیشوائی کے نام سے بالادستی حاصل تھی ۔ حرم اور اطرافِ حرم پر اس کی باقاعدہ حکمرانی تھی ۔

وہی زائرین بیت اللہ کی ضروریات کا انتظام اور شریعتِ ابراہیمی کے احکام کا نفاذ کرتی تھی اور اس کے پاس پارلیمانی اداروں جیسے ادارے اور تشکیلات بھی تھیں ۔

لیکن یہ حکومت اتنی کمزور تھی کہ اندورن عرب کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہ رکھتی تھی جیسا کہ حبشیوں کے حملے کے وقت ظاہر ہوا ۔۔۔۔۔۔۔

عرب اَدْیان و مَذاہب

 پھر مشرکین نے بھی مسجدِ حرام کو بُتوں سے بھر دیا ، چنانچہ جب مکّہ فتح کیا گیا تو بیت اللہ کے گردا گرد تین سو ساٹھ بُت تھے جنہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے توڑا ۔ آپﷺ ہر ایک کو چھڑی سے توڑ کر مارتے جاتے اور وہ گرتا جاتا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ان سارے بتوں کو مسجدِ حرام سے باہر نکال کر جلا دیا گیا ۔

 غرض شرک اور بت پرستی اہلِ جاہلیت کے دین کا سب سے بڑا مظہر بن گئی تھی ، جنہیں گھمنڈ تھا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہیں ۔

 پھر اہلِ جاہلیت کے یہاں بت پرستی کے کچھ خاص طریقے اور مراسم بھی رائج تھے جو زیادہ تر عَمروبن لُحَی کے اختراع تھے ۔ اہلِ جاہلیت سمجھتے تھے کہ عمرو بن لُحَی کی اختراعات دین ابراہیمی پر تبدیلی نہیں بلکہ بدعتِ حسنہ ہیں ۔

ذیل میں ہم اہلِ جاہلیت کے اندر رائج بت پرستی چند اہم مراسم کا ذکر کر رہے ہیں:

1۔ دورِ جاہلیت کے مشرکین بتوں کے پاس مجاور بن کر بیٹھتے تھے ، انکی پناہ ڈھونڈتے تھے ، انہیں زور زور سے پکارتے تھے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے ان سے فریاد اور التجائیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے کی وہ اللہ سے سفارش کر کے ہماری مراد پوری کرا دیں گے ۔

2۔ بتوں کا حج اور طواف کرتے تھے ، ان کے سامنے عجز و نیاز سے پیش آتے تھے اور انہیں سجدہ کرتے تھے ۔

3۔ بتوں کے لیے نذرانے اور قربانیاں پیش کرتے تھے اور قربانی کے ان جانوروں کو کبھی بتوں کے آستانوں پر لیجا کر ذبح کرتے تھے اور کبھی کسی بھی جگہ کر لیتے تھے مگر بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے ، ذبح کی ان دونوں صورتوں کا ذکر اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کیا ہے ۔

ارشادِ باری ہے :

وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ ( ٥ : ٣ ) یعنی _” وہ جانور بھی حرام ہیں جو آستانوں پر ذبح کئے گئے ہوں ۔”

دوسری جگہ ارشاد ہے:

وَ لَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمۡ یُذۡکَرِ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ ( ٦ : ١٢١ )

 یعنی _”

 اس جانور کا گوشت مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ۔”_

4۔ بتوں کے تقرب کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ مشرکین اپنی صوابدید کے مطابق ابنے کھانے پینے کی چیزوں اور اپنی کھیتی اور چوپائے کی پیداوار کا ایک حصّہ بتوں کے لیے خاص کر دیتے تھے ۔ اس سلسلے میں انکا دلچسپ رواج یہ تھا کہ وہ اللہ کے لیے بھی اپنی کھیتی اور جانوروں کی پیداوار کا ایک حصّہ خاص کرتے تھے پھر مختلف اسباب کی بناء پر اللہ کا حصّہ تو بتوں کی طرف منتقل کر سکتے تھے لیکن بتوں کا حصّہ کسی بھی حال میں اللہ کی طرف منتقل نہیں کر سکتے تھے ۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَ الۡاَنۡعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعۡمِہِمۡ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمۡ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ مَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِہِمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿ ٦ : ١٣٦ ﴾

” اور اللہ تعالٰی نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور ہزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیا برا فیصلہ وہ کرتے ہیں”-

5۔ بتوں کے تقرّب کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ مشرکین کھیتی اور چوپائے کے اندر مختلف قسم کی نظریں مانتے تھے ۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :

وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنۡعَامٌ وَّ حَرۡثٌ حِجۡرٌ ٭ۖ لَّا یَطۡعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِہِمۡ وَ اَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُہُوۡرُہَا وَ اَنۡعَامٌ لَّا یَذۡکُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا افۡتِرَآءً عَلَیۡہِ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۳۸-٦﴾

” ان مشرکین نے کہا کہ یہ چوپائے اور کھیتیاں ممنوع ہیں ، انہیں وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں—ان کے خیال میں—اور یہ وہ چوپائیں ہیں جن کی پیٹھ حرام کی گئی ہے ( نہ ان پر سواری کی جاسکتی نہ سامان لادا جاسکتا ) اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن پر یہ لوگ اللہ پر افتراء کرتے ہوئے—اللہ کا نام نہیں لیتے ۔”

6۔  انہی جانوروں میں بَحِيْرَه ، سَائِبَه ، وَصِيْلَه اور حَامِى تھے ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ : بَحِيْرَه سَائِبَه کی بچی کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے دس بار پے در پے مادہ بچہ پیدا ہوں ، درمیان میں کوئی نر پیدا نہ ہوا ہو ، ایسی اونٹنی کو ازاد چھوڑ دیا جاتا تھا ، اس پر سواری نہیں کی جاتی تھی ، اس کے بال نہیں کاٹے جاتے تھے ۔

اور مہمان کے سوا کوئی اس کا دودھ نہیں پیتا تھا ۔ اس کے بعد یہ اونٹنی جو مادہ بچہ جنتی تھی اس کا کان چیر دیا جاتا تھا ، اور اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا ۔

 اس پر سواری نہ کی جاتی تھی اس کا بال نہ کاٹا جاتا تھا ۔ اور مہمان کے سوا اس کا دودھ کوئی نہ پیتا ، یہی بَحِيْرَه ہے اور اس کی ماں سَائِبَه ہے ۔

وَصِيْلَه اس بکری کو کہا جاتا تھا جو پانچ دفعہ پے در پے دو دو مادہ بچے جنتی ( یعنی پانچ بار میں دس مادہ بچے پیدا ہوتے ) درمیان میں کوئی نر نہ پیدا ہوتا ۔

اس بکری کو اس لیے وَصِيْلَه کہا جاتا تھا کہ وہ سارے مادہ بچوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی تھی ۔

اس کے بعد اس بکری سے جو بچے پیدا ہوتے انہیں صرف مرد کھا سکتے تھے عورتیں نہیں کھا سکتی تھیں ۔

البتہ اگر کوئی بچی مردہ پیدا ہوتا تو اس کو مرد اور عورت سبھی کھا سکتے تھے ۔

 حَامی اس نَر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی جُفتی سے پے در پے دس مادہ بچے پیدا ہوتے ، درمیان میں کوئی نر نہ پیدا ہوتا ۔ ایسے اونٹ کی پیٹھ محفوظ کر دی جاتی تھی ۔ نہ اس پر سواری کی جاتی ، نہ اس کے بال کاٹے جاتے تھے ۔ بلکہ اسے اونٹوں کے ریوڑ میں جُفتی کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ اور اس کے سوا اس سے کوئی دوسرا فائدہ نہ اٹھایا جاتا تھا ۔

 دَورِ جاہلیت کی بت پرستی کے ان طریقوں کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالٰی نے فرمایا :

 مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّ لَا سَآئِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیۡلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ ۙ وَّ لٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۳ – ٥﴾

اللہ تعالٰی نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ اللہ تعالٰی پر جھوٹ لگاتے ہیں اور اکثر کافر عقل نہیں رکھتے ۔

 اور ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :

وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزۡوَاجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمۡ فِیۡہِ شُرَکَآءُ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ وَصۡفَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿ ۱۳۹- ٦﴾

اور وہ کہتے ہیں کہ جو چیز ان مویشوں کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہیں ۔ اور اگر وہ مردہ ہے تو اس میں سب برابر ہیں ۔ ابھی اللہ ان کو ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے بلاشبہ وہ حکمت والا ہے وہ اور بڑا علم والا ہے ۔

 چوپایوں کی مذکورہ اقسام یعنی بَحِيْرَه سَائِبَه وغیرہ کے کچھ دوسرے مطالب بھی بیان کئے گئے ہیں جو ابن اسحاق کی مذکورہ تفسیر سے قدر مختلف ہیں ۔

 حضرت سعید بن مُسَیّبْ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ جانور ان کے طاغوتوں کے لیے تھے ۔ اور صحیح بخاری میں مرفوعًا مروی ہے کہ عَمرو بن لُحَی پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے ۔ ( صحیح بخاری ١ / ٤٩٩ )

 عرب اپنے بتوں کے ساتھ یہ سب کچھ اس عقیدے کے ساتھ کرتے تھے کہ یہ بت انہیں اللہ کے قریب کر دیں گے اور اللہ کے حضور ان کی سفارش کر دیں گے ۔

 چنانچہ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ مشرکین کہتے تھے :

 مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ ( ٣٩ – ٣ )

” کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیےٴ کرتے ہیں کہ یہ ( بزرگ ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبے تک ہماری رسائی کرادیں “

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ( ١٠ – ١٨ )

” اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں ۔ “

 مشرکینِ عرب اَزْلاَمْ یعنی فال کے تیر بھی استعمال کرتے تھے ۔ اَزْلاَمْ زَلَمْ کی جمع ہے ۔ اور زَلَمْ اس تیر کو کہتے ہیں جس میں پر نہ لگےہوں ۔

 فال گیری کے لیے استعمال ہونے والے یہ تیر تین قسم کے ہوتے تھے ۔ ایک وہ جن پر صرف ” ہاں ” یا ” نہیں ” لکھا ہوتا تھا ۔ اس قسم کے تیر سفر یا نکاح وغیرہ جسے کاموں کے کیے استعمال کئے جاتے تھے ۔

 اگر فال میں ” ہاں ” نکلتا تو مطلوبہ کام کر ڈالا جاتا اگر ” نہیں ” نکلتا تو سال بھر کے لیے ملتوی کر دیا جاتا اور آئندہ پھر فال نکالی جاتی ۔

 فال گیری کی تیروں کی دوسری قسم وہ تھی جن پر پانی اور دیت وغیرہ درج ہوتے تھے ۔

 اور تیسری قسم وہ تھی جس پر درج ہوتا تھا کہ ” تم میں سے ہے ” یا ” تمہارے علاوہ سے ہے ” یا : ملحق ” ہے ۔

 ان تیروں کا مصرف یہ تھا کہ جب کسی کے نسب میں شبہ ہوتا تو اسے ایک سو اونٹوں سمیت ہُبَل کے پاس لی جاتے ۔ اونٹوں کے تیر والے مَہَنْت کے حوالے کرتے اور وہ تمام تیروں کو ایک ساتھ ملا کر گھماتا ، جھنجھوڑتا پھر ایک تیر نکالتا۔

 اب اگر یہ نکلتا ” تم میں سے ہے ” تو وہ ان کے قبیلےکا ایک معزز فرد قرار پاتا اور اگر یہ برآمد ہوتا کہ ” تمہارے غیر سے ہے ” تو حلیف قرار پاتا اور اگر یہ نکلتا کہ ” ملحق ” ہے تو ان کے اندر اپنی حیثیت بر قرار رہتا ، نہ قبیلے کا فرد مانا جاتا نہ حلیف ۔

 اسی سے ملتا جلتا ایک رواج مشرکین میں جوا کھیلنے اور جوئے کا تیر استعمال کرنے کا تھا ۔ اسی تیر کی نشاندہی پر وہ جوئے کا اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت بانٹتے تھے ۔

 مشرکین عرب کاہنوں ، عرّافوں اور نجومیوں کی خبروں پر بھی ایمان رکھتے تھے ۔ کاہن اسے کہتے ہیں جو آنے والے واقعات کی پیش گوئی کرے اور راز ہائے سربستہ سے واقفیت کا دعویدار ہو ۔ بعض کاہنوں کا یہ بھی دعوٰی تھا کہ ایک جن انکے تابع ہے جو انہیں خبریں پہنچاتا رہتا ہے اور بعض کاہن کہتے تھے کہ انہیں ایسا فہم عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ غیب کا پتہ لگا لیتے ہیں ۔

 بعض اس بات کے مدّعی تھے کہ جو آدمی ان سے کوئی بات پوچھنے آتا ہے اس کے قول و فعل سے یا اس کی حالت سے ، کچھ مقدمات یا اسباب کے ذریعے سے وہ جائے واردات کا پتہ لگا لیتے ہیں ۔ اس قسم کے آدمی کو عرّاف کہا جاتا تھا ۔ مثلاً وہ شخص چوری کے مال چوری کی جگہ اور گمشدہ جانور وغیرہ کا پتہ ٹھکانا بتاتا ۔

 نُجومی اسے کہتے ہیں جو تاروں پر غور کر کے اور ان کی رفتار و اوقات کا حساب لگا کر پتہ لگاتا ہے کہ دنیا میں آئندہ کیا حالات و واقعات پیش آئینگے ۔ ان نجومیوں کی خبروں کو ماننا درحقیقت تاروں پر ایمان لانا ہے اور تاروں پر ایمان لانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ مشرکینِ عرب نچھتّروں پر ایمان رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم پر فلاں اور فلاں نچھتّر سے بارش ہوئی ہے ۔

 مشرکین میں بد شگونی کا رواج تھا ۔ اسے عربی میں طِیَرَة بھی کہتے ہیں ۔

 اس کی صورت یہ تھی کہ مشرکین کسی چڑیا یا ہرن کے پاس جا کر اسے بھگاتے تھے ۔ پھر اگر وہ داہنے جانب بھاگتا تو اسے اچھائی اور کامیابی کی علامت سمجھ کر اپنا کام کر گزتے اور اگر وہ بائیں جانب بھاگتا تو اسے نحوست کی علامت سمجھ کر اپنے کام سے باز رہتے ۔

 اسی طرح اگر کوئی چڑیا یا جانور راستہ کاٹ دیتا تو اسے بھی منحوس سمجھتے ۔

اسی سے ملتی جلتی ایک حقیقت یہ بھی تھی کہ مشرکین ، خرگوش کے ٹخنے کی ہڈی لٹکاتے تھے اور بعض دنوں ، مہینوں ، جانوروں ، گھروں ، اور عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے ۔

 بیماریوں کی چھوت کے قائل تھے اور رُوح کے اُلّو بن جانے کا عقیدہ رکھتے تھے ۔

 یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک مقتول کا بدلہ نہ لیا جائے ، اس کو سکون نہیں ملتا اور اسکی روح اُلّو بن کر بیابانوں میں گردش کرتی رہتی ہے ۔

اور ” پیاس ، پیاس ” یا ” مجھے پلاؤ ، مجھے پلاؤ ” کی صدا لگاتی رہتی ہے ۔ جب اس کا بدلہ لیا جاتا ہے تو اسے راحت اور سکون مل جاتا ہے ۔

تالیف و ترجمہ ۔۔۔۔ صَفِیُّ الرَّحْمٰنْ مُبَارَکْپُوْرِیْ

سیرت النبی ﷺ مکمل اقساط پڑھیں

اسلام کے بارے میں پڑھیں

Ar-Raheeq Al-Makhtum in urdu (best book on Seerat un Nabi SAWW) الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ

https://archive.org/details/Ar-Raheeq-ul-Makhtum الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ

Seerat un Nabi Aur Hamari Zindagi By Mufti Taqi Usmani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *