الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ : قسط نمبر 2

سیرت النبی ﷺ
Spread the love

سیرت النبی ﷺ مسلمانوں کے لیے بہترین زندگی ہے۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه

عرب حکومتیں اور سرداریاں

حِیْرہ کی بادشاہی

 عراق اور اس کے نواحی علاقوں پر کروش کبیر ( خورس یا سائرس ذو القرنین ٥٥٧ ق م——٥٢٩ ق م ) کے زمانے ہی سے اہلِ فارس کی حکمرانی چلی آرہی تھی ۔ کوئی نہ تھا جو انکے مدِّ مقابل آنے کی جرأت کرتا یہاں تک کہ ٣٢٦ ق م سکندر مَقْدُنى نے دارِ اوّل کو شکست دے کر فارسیوں کی طاقت توڑ دی جس کے نتیجے میں ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور طوائف الملوکی شروع ہو گئی ۔

 یہ انتشار ٢٣٠ء تک جاری رہا اور اسی دوران قحطانی قبائل نے ترکِ وطن کر کے عراق کے ایک بہت بڑے شاداب اور سرحدی علاقے پر بودوباش اختیار کی ۔ پھر عدنانی تارکینِ وطن کا ریلا آیا اور انہوں لڑبِھڑ کر جزیرہ فرائیہ کے ایک حصے کو اپنا مسکن بنا لیا ۔

ادھر ٢٢٦ء میں اَرْدشِيْر نے جب ساسانی حکومت کی داغ بیل ڈالی تو رفتہ رفتہ فارسیوں کی طاقت ایک بار پھر پلٹ آئی ۔ اَرْدشِیْر نے فارسیوں کی شیرازہ بندی اور اپنے ملک کی سرحد پر آباد عربوں کو زیر کیا ۔ اسی کے نتیجے میں قضاعہ نے ملک شام کی راہ لی ، جب کہ حیرہ اور انبار کے عرب باشندوں نے باجگزار بنناگورا کیا ۔

 اَرْدشِیْر کے عہد میں حیرہ ، بادیة العراق اور جزیرہ کے ربیعی اور مُضَری قبائل پر جزیمة الوضاح کی حکمرانی تھی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اَرْدشِیْر نے محسوس کر لیا تھا کہ عرب باشندوں پر براہ راست حکومت کرنا اور انہیں سرحد پر لوٹ مار سے باز رکھنا ممکن نہیں بلکہ صرف اس کی ایک ہی صورت ہے کہ خود کسی ایسے عرب کو ان کا حکمران بنا دیا جائے جسے اپنے کنبے قبیلے کی حمایت و تائید حاصل ہو ۔

اسکا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ بوقت ضرورت رومیوں کے خلاف ان سے مدد لی جا سکے گی اور شام کے روم عرب نواز حکمرانوں کے مقابل عراق کے ان عرب حکمرانوں کو کھڑا کیا جا سکے گا ۔

شاہانِ حیرہ کے پاس فارسی فوج کی ایک یونٹ ہمیشہ رہا کرتی تھی جس سے بادیہ نشین عرب باغیوں کی سرکوبی کا کام لیا جاتا تھا ۔

٢٦٧ء کے عرصے میں جذیمہ فوت ہوگیا عَمرو بن عَدی بن نصر لَخمی اسکا جانشین ہوا ۔ یہ قبیلہ لخم کا پہلا حکمران تھا اور شاپور اَرْدشِیْر کا ہم عصر تھا ۔اس کے بعد قباذبن فیروز کے عہد تک حیرہ پر لخمیوں کی مسلسل حکمرانی رہی ۔ قباذ کے عہد میں مُزْدَک کا ظہور ہوا جو اباحیت کا علمبردار تھا ۔ قباذ اور اسکی بہت سی رعایا نے مُزْدَک کی ہمنوائی کی ۔

پھر قباذ نے حیرہ کے بادشاہ منذر بن ماء السماء کو پیغام بھیجا کہ تم بھی یہی مذہب اختیار کر لو ۔ منذر بڑا غیرت مند تھا انکار کر بیٹھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قباذ نے اسے معزول کر کے اس کی جگہ مُزْدَکِیْ کی دعوت کے ایک پیروکار حارث بن عمرو بن حجر کِنْدِی کو حیرہ کی حکمرانی سونپ دی ۔

 قباذ کے بعد فارس کی بھاگ دوڑ کسری نوشیروان کے ہاتھ آئی ۔ اسے اس مذہب سے سخت نفرت تھی ۔ اس نے مُزْدَک اور اس کے ہمنواؤں کی بڑی تعداد کو قتل کروا دیا ۔ منذر کو دوبارہ حیرہ کا حکمران بنایا دیا اور حارث بن عمرو کو اپنے ہاں بلا بھیجا ۔ لیکن وہ بنو کلب کے علاقے میں بھاگ گیا اور وہیں اپنی زندگی گزار دی ۔

 منذر بن ماء السماء کے بعد نُعمان بن منذر کے عہد تک حیرہ کی حکمرانی اس نسل میں چلتی رہی ، پھر زید بن عدی عبادی نے کسری سے نُعمان بن منذر کی جھوٹی شکایت کی ۔ کسری بھڑک اٹھا اور نُعمان کو اپنے پاس طلب کیا ۔ نُعمان چپکے سے بنو شَیْبان کے سردار ہانی بن مسعود کے پاس پہنچا اور اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کو اس کی امانت میں دے کر کسری کے پاس گیا ۔ کسری نے اسے قید کر دیا اور وہ قید ہی میں فوت ہو گیا ۔

 ادھر کسری نے نعمان کو قید کرنے کے بعد اس کی جگہ ایاس بن قَبِیْصَہ طائی کو حیرہ کا حکمران بنایا اور اسے حکم دیا کہ ہانی بن مسعود سے نعنان کی امانت طلب کرے ۔ ہانی غیرت مند تھا اس نے صرف انکار ہی نہیں کیا ۔ بلکہ اعلان جنگ بھی کردیا ۔ پھر کیا تھا ایاس اپنے جلوس میں کسری کے لاؤ لشکر اور مرزبانوں کی جماعت لے کر روانہ ہوا اور ذی قار کے میدان میں فریقین کی درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں بنو شیبان کو فتح حاصل ہوئی اور فارسیوں نے شرمناک شکست کھائی ۔

یہ پہلا موقع تھا جب عرب نے عجم پر فتح حاصل کی تھی ۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں بعد کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش حیرہ پر ایاس کی حکمرانی کے آٹھویں مہینے میں ہوئی تھی ۔

 ایاس کے بعد کسری نے حیرہ پر ایک فارسی حاکم مقرر کیا لیکن ٦٣٢ء میں لخمیوں کا اقتدار پھر بحال ہو گیا اور منذر بن معرور نامی اس قبیلے کے ایک شخص نے باگ ڈور سنبھالی ، مگر ابھی اس کو بر سر اقتدار آئے صرف آٹھ ماہ ہوئے تھے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کا سیلِ رواں لے کر حیرہ میں داخل ہوگئے ۔

شام کی بادشاہی

جس زمانے میں عرب قبائل کی ہجرت زوروں پر تھی قبیلہ قضاعہ کی چند شاخیں حدود شام میں آ کر آباد ہو گئیں ۔ ان کا تعلق بنی سلیم بن حلوان سے تھا اور ان ہی میں ایک شاخ بنو ضجعم بن سلیم تھی جسے ضجاعمہ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی ۔ قضحاعہ کی اس شاخ کو رومیوں نے صحرائے عرب کے بدوؤں کی لوٹ مار روکنے اور فارسیوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اپنا ہم نوا بنایا اور اسی کے ایک فرد کے سر پر حکمرانی کا تاج رکھدیا۔ اس خے بعد مدتوں ان کی حکمرانی رہی۔

ان کا مشہور ترین بادشاہ زیاد بن ہیولہ گذرا ہے- اندازہ کیا گیا کہ ضجاعمہ کا دور حکومت پوری دوسری صدی عیسوی پر محیط رہا ہے- اس کے بعد اس دیار میں آل غسان کی آمد آمد ہوئی اور ضجاعمہ کی حکمرانی جاتی رہی- آل غسان نے ضجعم کو شکست دے کر ان کی ساری قلمرو پر قبضہ کر لیا-

یہ صورت حال دیکھ کر رومیوں نے بھی آل غسان کو دیار شام کے عرب باشندوں کا بادشاہ تسلیم کر لیا- آل غسان کا یہ تخت دومتہ الجندل تھا- اور رومیوں نے آلہ کار کی حیثیت سے دیار شام پر ان کی حکمرانی مسلسل قائم رہی تا آنکہ خلافت فاروقی میں 13ء ھجری میں یرموک کی جنگ پیش آئی اور آل غسان کا آخری حکمراں جبلہ بن ایہم حلقہ بگوش اسلام ہو گیا’ اگرچہ اس کا غرور اسلامی مساوات کو زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا اور وہ مرتد ہو گیا-

حجاز کی امارت

یہ بات معروف ہے کہ مکہ میں آبادی کا آغاز حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوا- آپ نے 137 سال کی عمر پائی اور تاحیات مکہ کے سربراہ اور بیت اللہ کے متولی رہے-

 آپ کے بعد آپ کے دو صاحبزادگان نابت پھر قیدار، یا قیدار پھر قابت یکے بعد دیگرے مکہ کے متولی ہوئے- ان کے بعد ان کے نانا مضاض بن عمروجرہمی نے زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس طرح مکہ کی سربراہی بنو جرہم کی طرف منتقل ہو گئی اور ایک عرصے تک انہی کے ہاتھ میں رہی-

حضرت اسماعیل علیہ السلام چونکہ (اپنے والد کے ساتھ مل کر) کے بانی و معمار تھے اس لیے ان کی اولاد کو ایک باوقار مقام ضرور حاصل رہا، لیکن اقتدار و اختیار میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا-

 پھر دن پر دن اور سال پر سال گزر گئے لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد گوشہ گمنامی سے نہ نکل سکی، یہاں تک کہ بخت نصر کے ظہور سے کچھ پہلے بنو جرہم کی طاقت کمزور پڑ گئی اور مکہ کے افق پر عدنان کا سیاسی ستارہ جگمگانا شروع ہوا- اس کا ثبوت یہ ہے کہ بخت نصر نے ذات عرق میں عربوں سے جو معرکہ آرائی کی تھی اس میں عرب فوج کا کمانڈر جرہمی نہ تھا۔۔۔۔

 پھر بخت نصر نے جب 587ء میں دوسرا حملہ کیا تو بنو ددنان بھاگ کر یمن چلے گئے- اس وقت بنو اسرائیل کے نبی حضرت یرمیاہ تھے- وہ عدنان کے بیٹے معد کو اپنے ساتھ ملک شام لے گئےاور جب بخت بصر کا زور ختم ہوا اور معد مکہ آئے تو انہیں مکہ میں قبیلہ جرہم کا صرف ایک شخص جرشم بن جلہمہ ملا- معد نے اس لڑکی کی معانہ سے شادی کی اور اسی کے بطن سے نزار پیدا ہوا-

اس کے بعد مکہ میں جرہم کی حالت خراب ہوتی گئی۔ انہیں تنگ دستی نے آ گھیرا، نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے زائرین بیت اللہ پر زیادتیاں شروع کر دیں اور خانہ کعبہ کا مال کھانے سے بھی دریغ نہ کیا-

 ادھر بنو عدنان اندر ہی اندر ان حرکتوں پر کڑھتے اور بھڑکتے رہے- اس لیے جب بنو خزاعہ نے مراالظہران میں پڑاؤ کیا اور دیکھا کہ بنو عدنان بنو جرہم سے نفرت کرتے ہیں تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عدنانی قبیلے (بنو بکر بن عبد مناف بن کنانہ) کو ساتھ لے کر بنو جرہم کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور انہیں مکہ سے نکال کر خود قبضہ کر لیا- یہ واقعہ روسری صدی عیسوی کے وسط کا ہے-

 بنو جرہم نے مکہ چھوڑتے وقت زمزم کا کنواں پاٹ دیا اور اس میں کئی تاریخی چیزیں دفن کر کے ان کے نشانات بھی مٹا دیے- محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ عمرو بن حارث بن مضاض نے کعبہ کے دونوں ہرن اور اس کے کونے میں لگا ہوا پتھر حجر اسود نکال کر زمزم کے کنویں میں دفن کر دیا اور اپنے قبیلے بنو جرہ کو ساتھ لے کر یمن چلا گیا- بنو جرہم کو مکہ سے جلاوطنی اور وہاں کی حکومت سے محروم ہونے کا بہت قلق تھا چناچہ عمرومذکور نے اسی سلسلے میں یہ اشعار کہے-

کان لم یکن بنی الحجون الی الصفا

انیس و لم یسمی بمکہ سامر

بلی نحن کنا اھلہا فابادنا

صروف اللیالی و الجدود العواثر

“لگتا ہے حجون سے صفا تک کوئی آشنا تھا ہی نہیں اور نہ کسی قصے گونے مکہ کی شبانہ محفلوں میں قصہ گوئی کی- کیوں نہیں! یقینا ہم ہی اس کے باشندے تھے لیکن زمانے کی گردشوں اور ٹوٹی ہوئی قسمتوں نے ہمیں اجاڑ پھینکا-“

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا زمانہ تقریبا دو ہزار سال قبل مسیح یے- اس حساب سے مکہ میں قبیلہ جرہم کا وجود کوئی دو ہزار ایک سو برس تک رہا اور ان کی حکمرانی لگ بھگ دو ہزار برس تک رہی- بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کرنے کے بعد بنو بکر کو شامل کئے بغیر تنہا اپنی حکمرانی قائم کی، البتہ تین اہم اور امتیازی مناصب ایسے تھے جو مضری قبائل کے حصے میں آئے-

 حاجیوں کو عرفات سے مزدلفہ جانا اور یوم النفر

 13ذی الحجہ کو جو کہ حج کے سلسلے کا آخری دن ہے- منی سے روانگی کا پروانہ دینا- یہ عزاز الیاس بن مضر بنو غوث بن مرہ کو حاصل تھا جو صوفہ کہلاتے تھے-

اس اعزاز کی توضیح یہ ہے کہ 13 ذی الحجہ کو حاجی کنکری نہ مار سکتے تھے جب تک کہ پہلے صوفے کا ایک ایک آدمی کنکری نہ مار لیتا- پھر حاجی کنکری مار کر فارغ ہو جاتے تھے اور منی سے روانگی کا ارادہ کرتے تو صوفہ کے لوگ منی کی واحد گذرگاہ عقبہ کے دونوں جانب گھیرا ڈال کر کھڑے ہو جاتے اور جب تک خود نہ گزر جاتے کسی کو نہ گزرنے دیتے- ان کے گزر لینے کے بعد بقیہ لوگوں کے لیے راستہ خالی ہو جاتا-

 جب صوفہ ختم ہو گئے تو یہ اعزاز بنو تمیم کے ایک خاندان بنو سعد بن زید مناہ کی طرف منتقل ہو گیا

مزدلفہ سے منی کی جانب افاضہ

 ١٠، ذی الحجہ کی صبح کو مزدلفہ سے منی کی جانب افاضہ ( روانگی ) یہ اعزاز بنو عدوان کو حاصل تھا ۔

حرام مہینے

 حرام مہینوں کو آگے پیچھے کرنا ۔ یہ اعزاز بنو کنانہ کی ایک شاخ بنو تمیم بن عدی کو حاصل تھا ۔

 مکّہ پر بنو خزاعہ کا اقتدار کوئی تین سو برس تک قائم رہا اور یہی زمانہ تھا جب عدنانی قبائل مکّہ اور حجاز سے نکل کر نجد ، اطرافِ عراق اور بحرین وغیرہ میں پھیلے اور مکّہ کے اطراف میں صرف قریش کی چند شاخیں باقی رہیں جو خانہ بدوش تھیں ۔ انکی الگ الگ ٹولیاں تھیں اور بنو کنانہ میں ان کے چند متفرق گھرانے تھے مگر مکّہ کی حکومت اور بیت اللہ کی تولیت میں انکا کوئی حصہ نہ تھا ۔ یہاں تک کہ قُصَی بن کلاب کا ظہور ہوا ۔

 قُصَی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی گود ہی میں تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد اسکی والدہ نے بنو عُذْرَہ کے ایک شخص ربیعہ بن حرام سے شادی کر لی ۔ یہ قبیلہ چونکہ ملک شام کے اطراف میں رہتا تھا اس لیے قُصَی کی والدہ وہیں چلی گئی اور قُصَی کو بھی لیتی گئیں ۔ جب قُصَی جوان ہوا تو مکّہ واپس آیا ۔ اس وقت مکّہ کا والی حُلَیل بن حبشیہ خزاعی تھا ۔

قُصَی نے اس کے پاس اس کی بیٹی حبی سے نکاح کے لیے پیغام بھیجا ۔ حُلَیل نے منظور کر لیا اور شادی کر دی ۔ اس کے بعد حُلَیل کا انتقال ہوا تو مکّہ اور بیت اللہ کی تولیت کے لیے خزاعہ اور قریش کے درمیان جنگ ہوگئی اور اس کے نتیجے میں مکّہ اور بیت اللہ پر قُصَی کا اقتدار قائم ہوگیا ۔

 جنگ کا سبب کیا تھا ؟

 اس بارے میں تین بیانات ملتے ہیں ، جب قُصَی کی اولاد خوب پھل پھول گئ اس کے پاس دولت کی فراوانی ہو گئ اور اس کا وقار بھی بڑھ گیا اور ادھر حُلَیل کا انتقال ہوگیا تو قُصَی نے محسوس کیا کہ اب بنو خزاعہ اور بنو بکر کے بجائے میں کعبہ کی تولیت اور مکّہ کی حکومت کا کہیں زیادہ حقدار ہوں ۔

اسے یہ احساس بھی تھا کہ قریش خالص اسماعیلی عرب ہیں اور بقیہ آلِ اسماعیل کے سردار بھی ہیں ( لہذا سربراہی کے مستحق وہی ہیں ) چنانچہ اس بے قریش اور بنو خزاعہ کے کچھ لوگوں سے گفتگو کی کہ کیوں نہ بنو خزاعہ اور بنو بکر کو مکّہ سے نکال باہر کیا جائے ۔ ان لوگوں نے اس کی رائے سے اتفاق کیا ۔

 دوسرا بیان یہ ہے کہ——خزاعہ کے بقول——خود حُلَیل نے قُصَی کو وصیت کی تھی کہ وہ کعبہ کی نگہداشت کرے گا اور مکّہ کی باگ دوڑ سنبھال لے گا ۔

 تیسرا بیان یہ ہے کہ حُلَیل نے اپنی بیٹی حبی کو بیت اللہ کی تولیت سونپی تھی اور ابو غبشان خزاعی کو اس کا وکیل بنایا تھا ۔ چنانچہ حبی کے نائب کی حیثیت سے وہی خانہ کعبہ کا کلید بردار تھا ۔ جب حُلَیل کا انتقال ہوا گیا تو قُصَی نے ابو غبشان سے ایک مشک شراب کے بدلے کعبہ کی تولیت خرید لی لیکن خزاعہ نے یہ خرید و فروخت منظور نہ کی اور قُصَی کو بیت اللہ سے روکنا چاہا ۔ اس پر قُصَی نے بنو خزاعہ کو مکّہ سے نکالنے کے لیے قریش اور بنو کنانہ کو جمع کیا اور وہ قُصَی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہوگئے ۔

 بہرحال وجہ جو بھی ہو ، واقعات کا سلسلہ اس طرح ہے کہ جب حُلَیل کا انتقال ہوگیا اور صوفہ نے وہی کرنا چاہا جو وہ ہمیشہ کرتے آئے تھے تو قُصَی نے قریش اور کنانہ کے لوگوں کو ہمراہ لیا اور عقبہ کے نزدیک جہاں وہ جمع تھے ان سے آکر کہا کہ تم سے زیادہ ہم اس اعزاز کے حقدار ہیں ۔

 اس پر صوفہ نے لڑائی چھیڑ دی مگر قُصَی نے انہیں مغلوب کر کے ان کا اعزاز چھین لیا ۔ یہی موقع تھا جب خزاعہ اور بنو بکر نے قُصَی سے دامن کشی اختیار کر لی ۔ اس پر قُصَی بے انہیں بھی للکارا ، پھر کیا تھا ، فریقین میں سخت جنگ چھڑ گئی اور طرفین کے بہت سے آدمی مارے گئے ۔ اس کے بعد صلح کی آوازیں بلند ہوئیں اور بنو بکر کے ایک شخص یَعْمَر بن عوف کو حَکَم بنایا گیا ۔

یَعْمَر نے فیصلہ کیا کہ خزاعہ کے بجائے قُصَی خانہ کعبہ کی تولیت اور مکّہ کے اقتدار کا زیادہ حقدار ہے ۔ نیز قُصَی نے جتنا خون بہایا ہے سب رائیگاں قرار دے کر پاؤں تلے روند رہا ہوں ۔ البتہ خزاعہ اور بنو بکر نے جن لوگوں کو قتل کیا ہے انکی دِیَت ادا کریں اور خانہ کعبہ کو بلا روک ٹوک قُصَی کے حوالہ کر دیں—-اسی فیصلہ سے کی وجہ سے یَعْمَر کا لقب شدّاخ پڑ گیا ۔ شدّاخ کے معنی ہیں روندنے والا ۔

یہ سارے مناصب قُصی کو حاصل تھے۔ قُصی کا پہلا بیٹا عبدالدار تھا، مگر اس کے بجائے دوسرہ بیٹا عبد مناف، قُصی کی زندگی ہی میں شرف و سیادت کے مقام پر پہنچ گیا تھا۔ اس لیے قُصی نے عبدالدار سے کہا کہ یہ لوگ اگرچہ شرف و سیادت میں تم سے بازی لے جا چکے ہیں۔ مگر میں تمہیں ان کے ہم پلہ کر کے رہوں گا۔

چنانچہ قُصی نے اپنے سارے مناصب اور عزازات کی وصیت عبدالدار کے لیے کر دی۔یعنی دارالندوی کی ریاست، جانہ کعبہ کی حجابت؟ لوا، سِقایَت اور فادہ سب سب کچھ عبدالدار کو دے دیا۔ چونکہ کسی کام میں قُصی کی مخالفت نہیں کی جاتی تھی اور نہ اس کی کوئی بات مسترد کی جاتی تھی، بلکہ اس کا ہر اقدام، اس کی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی واجب الاتباع دین سمجھا جاتا تھا۔اس لیے اس کی موت کے بعد اس کے بیٹوں نے بغیر کسی نزاع کے اس کی وصیت قائم رکھی۔

لیکن جب عبد مناف کی وفات ہو گئی تو اس کے بیٹوں کا ان مناصب کے سلسلے میں اپنے چچیرے بھائیوں یعنی عبد الدار کی اولاد سے جھگڑا ہوا۔ اس کے نتیجے میں قریش دو گروہوں میں بٹ گئےاور قریب تھا کہ دونوں میں جنگ ہو جاتی مگر پھر انہوں نے صلح کی آواز بلند کی اور ان مناصب کو باہم تقسیم کر لیا۔ چنانچہ سقایت اور رفادہ کے مناصب بنو عبد مناف کو دیے گئے۔ اور دار الندوہ کی سربراہیی اور حجابت بنو عبد الدار کے ہاتھ میں رہی۔

پھر بنو عبد مناف نے اپنے حاصل شدہ مناصب کے لیے قرعہ ڈالا تو قرعہ ہاشم بن عبد مناف کے نام نکلا۔ چناچہ ہاشم ہی نے اپنی زندگی بھر سقایہ اور رفادہ کا انتظام کیا۔ البتہ جب ہاشم کا انتقال ہوا تو ان کے بھائی مُطلب نے ان کی جانشینی کی، مگر مُطلب کے بعد ان کے بھیتجے عبدالمطلب بن ہاشم نے- جو رسول کے دادا تھے۔ یہ منصب سمبھال لیا اور ان کی اولاد ان کی جانشین ہوئی یہاں تک کہ جب اسلام کا دور آیا تو حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اس منصب پر فائز تھے۔

ان کی علاوہ کچھ اور مناصب بھی تھے جنہیں قریش نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ ان مناصب اور انتظام کے ذریعہ قریش نے اپنی چھوٹی سی حکومت، بلکہ حکومت نما انتظامیہ قائم کر رکھی تھی جس کے سرکاری ادارے اور تشکیلات کچھ اس ڈھنگ کی تھیں جیسی آج کل پارلیمانی مجلسیں اور ادارے ہوا کرتے ہیں۔ان کا مناصب خاکہ حسب ذیل ہے:

  1. ایسار ۔۔۔۔۔۔ یعنی فال گیری اور قسمت دریافت کرنے کے لئے بتوں کے پاس جو تیر رکھے تھے ان کی تولیت۔ یہ منصب بنو جمح کو حاصل تھا۔
  2. مالیات کا نظام ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بتوں کے تقرب کے لئے جو نذرانے اور قربانیاں پیش کی جاتی تھیں ان کا انتظام کرنا، نیز جھگڑے اور مقدمات کا فیصلہ کرنا۔ یہ کام بن سہم کو سونپا گیا تھا۔
  3. شوری ۔۔۔۔۔ یہ اعزاز بنو اسد کو حاصل تھا۔
  4. اشناق ۔۔۔۔۔۔ یعنی دیت اور جرمانوں کا نظام ۔ اس منصب پر بنو تیم فائز تھے ۔
  5. عقاب ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قومی پرچم کی علمبرداری۔ یہ بنو آمیہ کا کام تھا۔
  6. قبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فوجی کیمپ کا انتظام اور شہسواروں کی قیادت۔ یہ بنو مخزوم کے حصے آیا تھا۔
  7. سفارت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنو عدی کا منصب تھا۔۔۔۔۔

بقیہ عرب سرداریاں

 ہم پچھلے صفات میں قحطانی اور عدنانی قبائل کے ترک وطن کا ذکر کر چکے ہیں اور بتلا چکے ہیں پورا ملک عرب ان قبائل کے درمیان تقسیم ہو گیا تھا ۔ اور اسکے بعد انکی امارتوں اور سرداریوں کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ جو قبائل حِیْرہ کے ارد گرد آباد تھے انہیں حکومت حِیْرہ کے تابع مانا گیا ۔ اور جن قبائل نے بادیہ الشام میں سکونت اختیار کی تھی انہیں غسّانی حکمرانوں کے تابع قرار دیا گیا ، مگر یہ تبعیت صرف نام کے لیے تھی ، عملاً نہ تھی ۔ ان دو مقامات کو چھوڑ کر اندرون عرب آباد قبائل بہر طور آزاد تھے ۔

 ان قبائل میں سرداری نظام رائج تھا ۔ قبیلے خود اپنا سردار مقرر کرتے تھے ۔ اور ان سرداروں کے لیے ان کا قبیلہ ایک مختصر سی حکومت ہوا کرتا تھا ۔ سیاسی وجود و تحفظ کی بنیاد ، قبائلی وحدت پر مبنی عصبیت اور اپنی سر زمین کی حفاظت و دفاع کے مشترکہ مفادات تھے ۔

 قبائلی سرداروں کا درجہ اپنی قوم میں بادشاہوں جیسا تھا ، قبیلہ صلح اور جنگ میں اپنے سردار کے فیصلے کے تابع ہوتا تھا اور کسی حال میں اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا تھا ۔ سردار کو وہی مطلق العنانی اور استبداد حاصل تھا جو کسی ڈکٹیٹر کو حاصل ہوا کرتا ہے حتی کہ بعض سرداروں کا یہ حال تھا کہ اگر وہ بگڑ جاتے تو ہزاروں تلواریں یہ پوچھے بغیر بے نیام ہو جاتیں کہ سردار کے غصے کا سبب کیا ہے ۔

 تاہم چونکہ ایک ہی کنبے کے چچیرے بھائیوں میں سرداری کے لیے کشاکش بھی ہوا کرتی تھی اس لیے اسکا اقتضاء تھا کہ سردار اپنے قبائلی عوام کے ساتھ رواداری برتے ۔ خوب مال خرچ کرے ، مہمان نوازی میں پیش پیش رہے ، کرم و بردباری سے کام لے ، شجاعت کا عملی مظاہرہ کرے اور غیرتمندانہ امور کی طرف سے دفاع کرے تاکہ لوگوں کی نظر میں عموماً ، اور شعراء کی نظر میں خصوصاً خوبی و کمالات کا جامع بن جائے ۔ ( کیونکہ شعراء اس دور میں قبیلے کی زبان ہوا کرتے تھے ) اور اس طرح سردار اپنے مدِّ مقابل حضرات سے بلند و بالا درجہ حاصل کرلے ۔

سرداروں کے کچھ مخصوص اور امتیازی حقوق بھی ہوا کرتے تھے جنہیں ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے ۔

 لَكَ الْمِرْبَاعُ فِيْنَا وَالصَّفَايَا

 وَحَُكْمُكَ وَالنَّشِيْطَةُ وَالْفَضُوْلُ

” ہمارے درمیان تمہارے لیے مالِ غنیمت کا چوتھائی ہے اور منتخب مال ہے اور وہ مال ہے جس کا تم فیصلہ کر دو اور جو سربراہ ہاتھ آجائے ۔ اور جو تقسیم سے بچ رہے ۔”

  • مِرْبَاعْ : مالِ غنیمت کا چوتھائی حصی ۔
  • صَفِيّ : وہ مال ہے جسے تقسیم سے پہلے ہی سردار اپنے لیے منتخب کر لے ۔
  • نشیطہ : وہ مال ہے جو اصل قوم تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی سردار کے ہاتھ لگ جائے ۔
  • فضول : وہ مال ہے جو تقسیم کے بعد بچ رہے اور غازیوں کے تعداد پر برابر تقسیم نہ ہو ۔ مثلاً تقسیم سے بچے ہوئے اونٹ گھوڑے وغیرہ ان سب اقسام کے مال سردار قبیلہ کا حق ہوا کرتے تھے ۔

تالیف و ترجمہ ۔۔۔۔ صَفِیُّ الرَّحْمٰنْ مُبَارَکْپُوْرِیْ

سیرت النبی ﷺ مکمل اقساط پڑھیں

اسلام کے بارے میں پڑھیں

Ar-Raheeq Al-Makhtum in urdu (best book on Seerat un Nabi SAWW) الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ

https://archive.org/details/Ar-Raheeq-ul-Makhtum الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ

Seerat un Nabi Aur Hamari Zindagi By Mufti Taqi Usmani

One Comment on “الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ : قسط نمبر 2”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *