الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ : قسط نمبر 1

سیرت النبی ﷺ
Spread the love

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه

عرب: محل وقوع اور قومیں

 سیرت النبی ﷺ درحقیقت اس پیغام ربانی کے عملی پَرتَو ( سایہ ، عکس ، روشنی ) سے عبارت ہے ، جسے رسول اللہ ﷺ نے انسانی جمعیت کے سامنے پیش کیا تھا۔

 اور جس کے ذریعے انسان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں اور بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کر دیا تھا۔

 چونکہ اس سیرتِ طیّبہ کی مکمل صورت گری ممکن نہیں جب تک کہ اس پیغامِ ربّانی کے نزول کے پہلے کے حالات اور بعد کے حالات کا تقابل نہ کیا جائے اس لئے اصل بحث سے پہلے پیشِ نظر باب میں اسلام سے پہلے عرب اقوام اور انکے نشو و نما کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان حالات کا خاکہ پیش کیا جا رہا ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی ۔

عرب کا مَحلِّ وقوع

 لفظِ عرب کا لُغوی معنی ہیں صحرا اور بے آب و گیاہ زمین ۔ عہدِ قدیم سے یہ لفظ جزیرہ نمائے عرب اور اس میں بسنے والی قوموں پر بولا گیا ہے ۔عرب کے مغرب میں بحر احمر اور جزیرہ نمائے سینا ہے۔

 مشرق میں خلیج عرب اور جنوبی عراق کا ایک بڑا حصّہ ہے۔جنوب میں بحر عرب ہے جو در حقیقت بحر ہند کا پھیلاؤ ہے۔ شام میں ملکِ شام اور کسی قدر شمالی عراق ہے ۔ ان میں سے بعض سرحدوں کے متعلق اختلاف بھی ہے ۔ کل رقبے کا اندازہ دس لاکھ سے تیرہ لاکھ مربع میل تک کیا گیا ہے۔

 جزیرہ نمائے عرب طبعی اور جغرافیائی حثیت سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اندرونی طور پر یہ ہر چہار جانب سے صحرا اور ریگستان سے گھرا ہوا ہے ، جس کی بدولت یہ ایسا محفوظ قلعہ بن گیا ہے کہ بیرونی قوموں کے لیے اس پر قبضہ کرنا اور اپنا اثر و نفوذ پھیلانا سخت مشکل ہے ۔

 یہی وجہ ہے قلب جزيرة العرب کے باشندے عہدِ قدیم سے اپنے جملہ معاملات میں مکمل طور پر آزاد و خودمختار نظر آتے ہیں ، حالانکہ یہ ایسی دو عظیم طاقتیں کے ہمسایہ تھے کہ اگر یہ ٹھوس قدرتی رکاوٹ نہ ہوتی تو ان کے حملے روک لینا باشندگانِ عرب کے بس کی بات نہ تھی ۔

 بیرونی طور پر جزیرہ نمائے عرب پرانی دنیا کے تمام معلوم برِّ اعظموں کے بیچوں بیچ واقع ہے اور خشکی اور سمندر دونوں راستوں سے انکے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ اسکا شمالی مغربی گوشہ ، برِّ اعظم افریقہ میں داخلے کا دروازہ ہے ۔ شمال مشرقی گوشہ یورپ کی کنجی ہے ۔ مشرقی گوشی ایران ، وسط ایشیا اور مشرق بعید کے دروازے کھولتا ہے ، اور ہندوستان اور چین تک پہنچاتا ہے ۔

 اسی طرح ہر برِّ اعظم سمندر کے راستے بھی جزیرہ نمائے عرب سے جڑا ہوا ہے اور انکے جہاز عرب بندرگاہوں پر براہ راست لنگر انداز ہوتے ہیں ۔

 اس جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے جزيرة العرب کے شمالی اور جنوبی گوشے مختلف قوموں کی آماجگاہ اور تجارت و ثقافت اور فنون و مذاہب کے لین دین کا مرکز رہ چکے ہیں۔

عرب قومیں:

مورخین نے نسلی اعتبار سے عرب اقوام کی تین اقسام قرار دی ہیں:

(1)عرب بائدہ

یعنی وہ عرب قبائل اوع قومیں جو باکل ناپید ہو گئیں اور ان کے متعلق ضروری تفصیلات بھی دستیاب نہیں- مثلا عاد، ثمود، طسم، جدیں، عمالقہ وغیرہ-

(2)عرب عاربہ

یعنی وہ عرب قبائل جو یعرب بن یشجب بن قحطان کی نسل سے ہیں- انہیں قحطانی عرب کہا جاتا ہے-

(3)عرب متعربہ

یعنی وہ عرب قبائل جو حضرت اسمائیل علیہ السلام کی قوم میں سے ہیں- انہیں عدنانی عرب کہا جاتا ہے-

عرب عاربہ

یعنی قحطانخ عرب کا اصل گہوارہ ملک یمن تھا- یہیں ان کے خاندان اور قبیلے مختلف شاخوں میں پھوٹے، پھیلے اور بڑھے-

(الف) حمیر- جس کی مشہور شاخیں زید الجمہور، قضاعہ اور سکاسک ہیں-

(ب) کہلان- جس کی مشہور شاخیں ہمدان، انمار، طی، مذحج، کندہ، لخم، جذام، ازداوس، خزرج اور اولاد جفنہ ہیں، جنہوں نے اگے چل کر ملک شام کے اطراف میں بادشاہت قائم کی اور ال غسان کے نام سے مشہور ہیں-

عام کہلانی قبائل نے بعد میں یمن چھوڑ دیا اور جزیرہ العرب کے مختلف اطراف میں پھیل گئے- ان کے عمومی ترک وطن کا واقعہ سیل عرب سے کسی قدر پہلے اس وقت پیش آیا جب رومیوں نے مصر و شام پر قبضہ کر کے اہل یمن کی تجارت کے بحری راستے پر اپنا تسلط جما لیا، اور بری شاہراہ کی سہولیات غارت کر کے اپنا دباؤ اس قدر بڑھا دیا کہ کہلانیوں کی تجارت تباہ ہو کر رہ گئی۔

 کچھ عجب نہیں کہ کہلانی اور خمیری خاندانوں میں چشمک بھی رہی ہو اور یہ بھی کہلانیوں کے ترک وطن کا ایک مؤثر سبب بنی ہو۔ اس کا آشارہ اس سے بھی ملتا ہے کہ کہلانی قبائل نے تو ترک وطن کیا لیکن حمیری قبائل اپنی جگہ برقرار رہے۔

جن کہلانی قبائل نے ترک وطن کیا ان کی چار قسمیں کی جا سکتی ہیں ۔

1۔ آزر

انہوں نے اپنے سردار عمران بن عمرو مزیقیاء کے مشورے پر ترک وطن کیا۔ پہلے تو یہ یمن ہی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہے اور حالات کا پتا لگانے کے لیے آگے آگے ہر اول دستوں کو بھیجتے رہے لیکن آخر کار شمال کا رخ کیا اور پھر مختلف شاخیں گھومتے گھماتے مختلف جگہ دائمی طور پر سکونت پذیر ہو گئیں۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ثعلبہ بن عمرو : اس نے اول حجاز کا رخ کیا اور ثعلبیہ اور ذی قار کے درمیان اقامت اختیار کی۔ جب اس کی اولاد بڑی ہو گئی اور خاندان مضبوط ہو گیا تو مدینہ کی طرف کوچ کیا اور اسی کو اپنا وطن بنا لیا ۔ اسی ثعلبہ کی نسل سے اوس اور خزرج ہیں۔ جو ثعلبہ کے صاحبزادے حارثہ کے بیٹے ہیں۔

حارثہ بن عمرو: یعنی خزاعہ اور اس کی اولاد یہ لوگ پہلے سر زمین حجاز میں گردش کرتے ہوئے مرالظہران میں خیمہ زن ہوئے۔ پھر حرم پر دھاوا بول دیا اور بنو جرہم کو نکال کر خود مکہ میں بود وباش اختیار کر لی۔

عمران بن عمرو: اس نے اور اس کی اولاد نے عمان میں سکونت اختیار کی اس لئے یہ لوگ ازدعمان کہلاتے ہیں۔

نصر بن ازد: اس سے تعلق رکھنے والے قبائل نے تہامہ میں قیام کیا۔ یہ لوگ ازدشنوءة کہلاتے ہیں۔

جفنہ بن عمرو: اس نے ملک شام کا رخ کیا اور اپنی اولاد سمیت وہیں متوطن ہو گیا ۔ یہی شخص غسانی بادشاہوں کا جداعلی ہے۔ انہیں آل غسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے شام منتقل ہونے سے پہلے حجاز میں غسان نامی ایک ایک چشمے پر کچھ عرصہ قیام کیا۔

2۔ لخم و جذام

ان ہی لخمیوں میں نصر بن ربعیہ تھا جو حیرہ کے شاہان آل منذر کا جدا اعلی ہے۔

3۔ بنوطی

اس قبیلے نے بنو ازد کے ترک وطن کے بعد شمال کا رخ کیا اور اجاء اور سلمی نامی دو پہاڑیوں کے اطراف میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہو گیا، یہاں تک کہ دونوں پہاڑیاں قبیلہ طی کی نسبت سے مشہور ہوگیں۔…

4- کندہ

یہ لوگ پہلے بحرین— موجودہ الاحساء— میں خیمہ زن ہوئے- لیکن مجبورا وہاں سے دستکش ہو کر حضر موت گئے- مگر وہاں بھی امان نہ ملی اور آخر کار نجد میں ڈیرے ڈالنے پڑے- یہاں ان لوگوں نے ایک عظیم الشان حکومت کی داغ بیل ڈالی- مگر یہ حکومت پائیدار نہ ثابت ہوئی اور اس کے آثار جلد ہی ناپید ہو گئے۔۔۔۔

عربِ مُسْتَعْرَبہ

 انکے جدِّ اعلی سیّدنا ابراہیم علیہ السلام ! اصلاً عراق کے ایک شہر اُوْر کے باشندے تھے ۔ یہ شہر دریائے فرات کے مغربی ساحل کوفے کے قریب واقع تھا ، اسکی کھدائی کے دوران جو کتابت برآمد ہوئے ہیں ان سے اس شہر کے متعلق بہت سی تفصیلات منظرِ عام پر آئیں ہیں ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کی بعض تفصیلات اور باشندگانِ ملک کی دینی اور اجتماعی حالات سے بھی پردہ ہٹا ہے ۔

 یہ معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں سے ہجرت کر کے شہرِ حزان تشریف لے گئے تھے پھر وہاں سے فلسطین جا کر اسی ملک کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھا اور دعوت و تبلیغ کے لیے یہیں سے اندرون و بیرون ملک مصروف تگ و تاز ( دوڑ ، بھاگ ) رہا کرتے تھے ۔

 ایک بار آپ مصر تشریف لے گئے ۔ فرعون نے آپ کی بیوی حضرت سارہ کی کیفیت سنی تو ان کے بارے میں بد نیت ہو گیا اور اپنے دربار میں برے ارادے سے بلایا لیکن اللہ نے حضرت سارہ کی دعا کے نتیجے میں غیبی طور پر فرعون کی ایسی گرفت کی کہ وہ ہاتھ پاؤں مارنے اور پھینکنے لگا ۔

اس کی نیت بد اس کے منہ پر مار دی گئ اور وہ حادثے کی نوعیت سے سمجھ گیا کہ حضرت سارہ اللہ تعالٰی کی نہایت خاص اور مقرب بندی ہیں اور وہ حضرت سارہ کی اس خصوصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنی بیٹی ہاجرہ کو ان کی خدمت میں دے دیا ۔ پھر حضرت سارہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجیت میں دے دیا ۔

 حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ کو ہمراہ لے کر فلسطین واپس تشریف لائے ۔ پھر اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہاجرہ علیہا السلام کے بطن سے ایک فرزند ارجمند — اسماعیل — عطا فرمایا لیکن اس پر حضرت سارہ کو جو بے اولاد تھیں بڑی غیرت آئی اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مجبور کیا کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو انکے نوزائیدہ بچے سمیت جلا وطن کر دے ۔

 حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ انہیں حضرت سارہ کی بات ماننی پڑی اور وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہمراہ لے کر حجاز تشریف لے گئے اور وہاں بے آب و گیاہ وادی میں بیت اللہ شریف کے قریب ٹھہرایا ۔ اس وقت بیت اللہ شریف نہ تھا ۔ صرف ٹیلے کی طرح ابھری ہوئی زمین تھی ۔ سیلاب آتا تھا دائیں بائیں سے کترا کر نکل جاتا تھا ۔ وہیں مسجد حرام کے بالائی حصہ میں زمزم کے پاس ایک بہت بڑا درخت تھا ۔ آپ نے اسی درخت کے پاس حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑا تھا ۔ اس وقت مکہ میں نہ پانی تھا نہ آدم اور آدم زاد ۔

 اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک توشہ دان میں کھجور اور ایک مشکیزے میں پانی رکھ دیا ۔ اس کے بعد فلسطین واپس چلے گئے ۔ لیکن چند ہی دن میں کھجور اور پانی ختم ہو گیا اور سخت مشکل پیش آئی مگر اس مشکل وقت پر اللہ کے فضل سے زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا اور ایک عرصے تک کے لیے سامانِ رزق اور متاعِ حیات بن گیا ۔ تفصیلات معلوم و معروف ہیں ۔

 کچھ عرصے بعد یمن سے ایک قافلہ آیا جسے تاریخ میں جُرہم ثانی کہا جاتا ہے ۔ یہ قبیلہ اسماعیل علیہ السلام کی ماں سے اجازت لے کر مکہ میں ٹھہر گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ پہلے مکہ کے گرد و پیش کی وادیوں میں سکونت پذیر تھا ۔ صحیح بخاری میں اتنی صراحت موجود ہے کہ ( رہائش کی غرض سے ) یہ لوگ مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آمد کے بعد اور انکے جوان ہونے سے پہلے وارد ہوئے ہھے ۔ لیکن اس وادی سے انکا گزر اس سے پہلے بھی ہوا کرتا تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے متروکات کی نگہداشت کے لئے وقتا فوقتا مکہ تشریف لایا کرتے تھے۔ لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس طرح ان کی آمد کتنی با ہوئی۔ البتہ تاریخی مآخذ میں چار بار ان کی آمد کی تفصیل محفوظ ہے۔ جو یہ ہے:

1۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھلایاکہ وہ اپنے صاحبزادے (حضرت اسماعیل علیہ السلام ) کو قربان کر رہے ہیں۔

یہ خواب ایک طرح کا حکم الہی تھا اور باپ بیٹا دونوں اس حکم الہی کے لئے تیار ہو گئے اور جب دونوں نے سرتسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا تو اللہ نے پکارا: ” اے ابراہیم علیہ السلام! تم نے خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو اس طرح بدلہ دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی اور اللہ نے انہیں فدیے میں ذبیحہ عطا فرمایا۔

مجموعہ باءیبل کی کتاب پیدائش میں مذکور ہے کہ یہ واقعہ کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام سے تیرہ سال بڑے تھے اور قرآن کا سیاق بتلاتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے پیش آیا تھا ۔ کیونکہ پورا واقعہ بیان کر چکنے کے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت کا ذکر ہے۔

اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جوان ہونے سے پہلے کم از کم ایک بار حضرت ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کا سفر ضرور کیا تھا۔ بقیہ تین سفروں کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک طویل روایت میں ہے جو ابن عباس سے مرفوعا مروی ہے۔۔۔۔۔۔

اس کا خلاصہ یہ ہے :

٢۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام جب جوان ہو گئے ، جُرہم سے عربی سیکھ لی اور انکی نگاہوں میں جچنے لگے تو ان لوگوں نے اپنے خاندان کی ایک خاتون سے آپکی شادی کر دی ۔ اسی دوران حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا انتقال ہو گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیال ہوا کہ اپنا ترکہ دیکھنا چاہیے ۔ چنانچہ وہ مکّہ تشریف لے گئے ۔ لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی ۔

بہو سے حالات دریافت کیے ۔ اس نے تنگ دستی کی شکایت کی ۔ آپ علیہ السلام نے وصیّت کی کہ اسماعیل علیہ السلام آئیں تو کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں ۔ اس وصیّت کا مطلب حضرت اسماعیل علیہ السلام سمجھ گئے بیوی کو طلاق دی اور دوسری عورت سے شادی کر لی جو جُرہم کے سردار مضاض بن عمرو کی صاحبزادی تھیں ۔…..

  اللہ تعالٰی مضاض کی صاحبزادی سے اسماعیل علیہ السلام کو بارہ بیٹے عطا فرمائے جنکے نام یہ ہیں : – نابت یا نبایوط ، قیدار ، اوبائیل ، مبشام ، مشماع ، دوما ، میشا ، حدد ، تیما ، یطور ، نفیس ، قیدمان۔

 ان بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے وجود میں آئے اور سب نے مکّہ ہی میں بود و باش اختیار کی ۔ انکی معیشت کا دارومدار زیادہ تر یمن اور مصر و شام کی تجارت پر تھا ۔ بعد میں یہ قبائل جزیرةُ العرب کے مختلف اطراف میں—–بلکہ بیرونِ عرب بھی —– پھیل گئے اور انکے حالات زمانے کے دبیز تاریکیوں میں دب کر رہ گئے ۔ صرف نَابِت اور قَيْدار کی اولاد اس گمنامی سے مستثنٰی ہیں ۔

 نبطیوں کے تمدّن کو شمالی حجاز میں فروغ اور عروج حاصل ہوا ۔ انہوں نے ایک طاقتور حکومت قائم کر کے گرد و پیش کے لوگوں کو اپنا باجگزار بنا لیا ۔ بطراء انکا دارالحکومت تھا ۔ کسی کو انکے مقابلے کی تاب نہ تھی ۔

پھر رومیوں کا دور آیا اور انہوں نبطیوں کو قضیہ پارینہ بنا دیا ۔ مولانا سیّد سلیمان ندوی نے ایک دلچسپ بحث اور گہری تحقیق کے بعد ثابت کیا ہے کی آلِ غسان اور انصار یعنی اَوس و خزرج قحطانی عرب نہ تھے ۔ بلکہ اس علاقے میں نابت بن اسماعیل علیہ السلام کی جو نسل بچی کچی رہ گئے تھی وہی تھے ۔

 قیدار بن اسماعیل علیہ السلام کی نسل مکّہ ہی میں پھلتی پھولتی رہی یہاں تک کہ عدنان اور پھر ان کے بیٹے معد کا زمانہ آگیا ۔ عدنانی عرب کا سلسلئہ نسب صحیح طور پر یہیں تک محفوظ ہے۔

عدنان، نبی ﷺ کے سلسلے میں اکیسویں پشت پر پڑتے ہیں۔ بعض روایتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ آپﷺ جب اپنا سلسلہ نسب ذکر فرماتے تو عدنان پر پہنچ کر رک جاتے اور آگے نہ بڑھتے ۔ فرماتے کہ ماہرین انساب غلط لکھتے ہیں مگر علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کی عدنان سے آگے بھی نسب بیان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دے ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق عدنان اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان چالیس پشیں ہیں ۔

 بہرحال معد کے بیٹے نزار سے۔۔۔۔۔۔ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے علاوہ معد کی کوئی اولاد نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کئی خاندان وجود میں آئے۔۔۔۔

عرب قومیں :-

در حقیقت نزار کے چار بیٹے تھے اور ہر بیٹا ایک بڑے قبیلے کی بنیاد ثابت ہوا ۔

چاروں کے نام یہ ہیں::-

١. ایاد ٢. انْمار ٣. ربیعہ ٤. مضر ۔

ان میں مؤخر الذکر دو قبیلوں کی شاخیں اور شاخوں کی شاخیں بہت زیادہ ہوئیں ۔ ربیعہ سے اسد بن ربیعہ ، عنزہ ، عبد القیس ، وائل ، بکر ، تغلب اور بنو حنیفہ وجود میں آئے ۔

مضر کی اولاد دو بڑے قبیلوں میں تقسیم ہوئی ۔

  • قیس عیلان بن مضر.
  • الیاس بن مضر۔

 قیس عیلان سے بنو سُلیم ، بنو ہوازن ، بنو غطفان ، غطفان سے عبس ، ذبیان۔۔۔۔۔۔۔اشجع اور غنی بن اعصر کے قبائل وجود میں آئے۔

 الیاس بن مضر سے تمیم بن مرہ ، ہوذیل بن مدرکہ ، بنو اسد بن خزیمہ اور کنانہ بن خزیمہ کے قبائل وجود میں آئے ۔ پھر کنانہ سے قریش کا قبیلہ وجود میں آیا ۔ یہ قبیلہ فِہر بن مالک بن نضر بن کنانہ کی اولاد ہے ۔

پھر قریش بھی مختلف شاخوں میں تقسیم ہوئے ۔ مشہور قریشی شاخوں کے نام یہ ہیں ۔ جمح ، سہم ، عدی ، مخزوم ، تمیم ، زہرہ اور قُصَیّ بن کلاب کے خاندان یعنی عبد الدار ، اسد بن عبد العزی اور عبدِ مناف ۔ یہ تینوں قُصَیّ کے بیٹے تھے ۔ ان میں سے عبدِ مناف کے چار بیٹے ہوئے جن سے چار ذیلی قبیلے وجود میں آئے یعنی عبدِ شمس ، نَوفل مطّلب اور ہاشم ۔ انہیں ہاشم کی نسل سے اللہ تعالٰی نے ہمارے حضور محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالٰی نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا پھر اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ کی نسل سے قریش کو چنا پھر قریش میں سے بنو ہاشم کا انتخاب کیا اور بنو ہاشم میں سے میرا انتخاب ۔ ( صحیح مسلم ٢ / ٢٤٥ ، جامع ترمذی ٢ / ٢٠١ )

 ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالٰی نے خَلق کی تخلیق فرمائی تو مجھے سب سے اچھے گروہ میں بنایا ، پھر ان کے بھی دو گروہ میں سے زیادہ اچھے گروہ میں رکھا ، پھر قبائل کو چنا تو مجھے سب سے اچھے قبیلے کے اندر بنایا ، پھر گھرانوں کو چنا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا ، لہٰذا میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہوں ، اور اپنے گھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر ہوں ۔( جامع ترمذی ٢ / ٢٠١ )

بہرحال عدنان کی نسل جب زیادہ بڑھ گئی تو وہ چارے پانی کی تلاش میں عرب کے مختلف اطراف میں بکھر گئی چنانچہ قبیلہ عبد القیس نے ، بکر بن وائل کی کئی شاخوں نے ، اور بنی تمیم کے خاندانوں نے بحرین کا رخ کیا اور اسی علاقے میں جا بسے ۔

 بنو حنیفہ صعب بن علی بن بکر نے یمامہ کا رخ کیا اور اس کے مرکز حجر میں سکونت پذیر ہو گئے ۔بکر بن وائل کی بقیہ شاخوں نے یمامہ سے لی کر بحرین ، ساحل کاظمہ ، خلیج ، سوادِ. عراق ، اُبُلَّہ اور ہیت تک کے علاقوں میں بود و باش اختیار کی ۔

 بنو تغلب جزیرہ فرائیہ میں اقامت گزین ہوئے ۔ البتہ ان کی بعض شاخوں نے بنو بکر کے ساتھ سکونت اختیار کی ۔

 بنو تمیم نے بادیہ بصرہ کو اپنا بنایا۔

 بنو سُلیم نے مدینہ کے قریب ڈیرے ڈالے ۔ ان کا مسکن وادی القری سے شروع ہو کر خیبر اور مدینہ کے مشرق سے گزرتا ہوا حرہ بنو سُلیم سے متصل دو پہاڑوں تک منتہی ہوتا تھا ۔

 بنو ثقیف نے طائف کو اپنا وطن بنا لیا اور بنو ہوازن نے مکّہ کے مشرق میں وادی اوطاس کے گرد و پیش ڈیرے ڈالے ۔ انکا مسکن مکّہ۔۔۔۔۔بصرہ شاہراہ پر واقع تھا ۔

 بنو اسد تیماء کے مشرق اور کوفہ کے مغرب میں خیمہ زن ہوئے ۔ انکے اور تیماء کے درمیان بنی طی کا ایک خاندان بحتر آباد تھا ۔ بنو اسد کی آبادی اور کوفے کے درمیان پانچ دن کی مسافت تھی ۔

 بنو ذبیان تیماء کے قریب حوران کے اطراف میں آباد ہوئے ۔

 تہامہ میں بنو کنانہ کے خاندان رہ گئے تھے ۔ ان میں سے قریشی خاندان کی بود و باش مکّہ اور اس کے اطراف میں تھی ۔ یہ لوگ پراگندہ تھے ۔ انکی کوئی شیرازہ بندی نہ تھی تا آنکہ قصی بن کلاب ابھر کر منظر عام پر آیا اور قریش کو متحد کر کے شرف و عزت اور بلندی و وقار سے بہرہ ور کیا۔

 اسلام سے پہلے عرب کے جو حالات تھے ان پر گفتگو کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی حکومتوں، سرداریوں اور مذاہب وادیاں کا بھی ایک مختصر سا خاکہ پیش کر دیا جائے تا کہ ظہور اسلام کے وقت جو پوزیشن تھی وہ بآسانی سمجھ میں آ سکے-

جس وقت جزیرہ العرب پر خورشید اسلام کی تابناک شعاعیں ضوء فگن ہوئیں وہاں دو قسم کے حکمران تھے- ایک تاج پوش بادشاہ جو در حقیقت مکمل طور پر آزاد اور خود مختار تھے اور دوسرے قبائلی سردار جنہیں اختیارات اور امتیازات کے اعتبار سے وہی حیثیت حاصل تھی جو تاج پوش بادشاہوں کی تھی لیکن ان کی اکثریت کو امتیاز یہ بھی حاصل تھا کہ وہ پورے طور پر آزاد و خود مختار تھے- تاجپوش حکمران ہی تھے:

 شاہان یمن، شاہان آل غسان (شام) اور شاہان خیرہ(عراق) بقیہ عرب تاجپوش نہ تھے-

 یمن کی بادشاہی:-

عرب عاربہ میں سے جو قدیم تفین یمانی قوم معلوم ہو سکی وہ قوم سبا تھی اور (عراق) سے جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان میں ڈھائی ہزار سال قبل مسیح اس قوم کا ذکر ملتا ہے لیکن اس کے عروج کا زمانہ گیارہ صدی قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے- اس کی تاریخ کے اہم ادوار یہ ہیں:-

1-  صدی 650 سے پہلے کا دور:-

اس دور میں شاہان سبا کا لقب مکرب سبا تھا- ان کا پایہ تخت صرواح تھا جس کے کھنڈر آج بھی مآرب کے مغرب میں ایک دن کی راہ پر پائے جاتے ہیں اور خریبہ کے نام سے مشہور ہیں- اسی دور میں مآعب کے مشہور شہر بند کی بنیاد رکھی گئی جسے یمن کی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے- کہا جاتا ہے کہ اس دور میں سلطنت سبا کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ انہوں نے عرب کے اندر اور عرب سے باہر جگہ جگہ نو آبادیاں قائم کر لی تھیں-

2-  صدی 650-115 تک کا دور:-

 اس دور میں بادشاہوں نے مکرب کا لفظ چھوڑ کر ملک (بادشاہ) کا لقب اختیار کر لیا اور صرواح کے بجائے مآرب کو اپنا دار السلطنت بنایا- اس شہر کے کھنڈر آج بھی صنعاء کے 60 میل مشرق میں پائے جاتے ہیں-

3 – صدی 115- 300 تک کا دور:-

 اس دور میں سبا کی مملکت پر قبیلہ خیمر کو غلبہ حاصل رہا اور اس نے مآرب کے بجائے ریدان کو اپنا پایہ تخت بنایا- پھر ریدان کا نام ظفار پڑ گیا جس کے کھنڈر آج بھی شہر یریم کے قریب ایک مدور پہاڑی پر پائے جاتے ہیں-

یہی دور ہے جس میں قوم سبا کا زوال شروع ہوا۔ پہلے نبطیوں نے شمالی حجاز پر اپنا اقتدار قائم کر کے سبا کو ان کی نوآبادیوں سے نکال باہر کیا پھر رومیوں نے مصر و شام اور شمالی حجاز پر قبضہ کر کے ان کی تجارت کے بحری راستے کو مخدوش کر دیا اور اس طرح ان کی تجارت رفتہ رفتہ تباہ ہو گئی۔ ادھر قحطانی قبائل خود بھی باہم دست و گریباں تھے ۔ ان حالات کا نتیجہ یہ ہوا کہ قحطانی قبائل اپنا وطن چھوڑ کر ادھر ادھر پراگندہ ہو گئے۔

 4۔ 300ء کے بعد آغاز اسلام کا دور

 اس دور میں یمن کے اندر مسلسل اضطراب و انتشار برپا رہا۔ انقلابات آئے، خانہ جنگیاں ہوئیں اور بیرونی قوتوں کو مداخلت کے مواقع ہاتھ آئے حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یمن کی آزادی سلب ہو گئی۔ چنانچہ یہی دور ہے جس میں رومیوں پر فوجی تسلط قائم کیا اور ان کی مدد سے حبشیوں نے حمیروہمدان کی باہمی کشمکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 320ء میں باریمن پر قبضہ کیا جو 374 ء تک برقرار رہا۔

اس کے بعد یمن کی آزادی تو بحال ہو گئی مگر “مآرب” کے مشہور بند میں رخنے پڑنا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ بالآخر 450ء یا 451ء میں بند ٹوٹ گیا اور وہ عظیم سیلاب آیا جس کا ذکر قرآن مجید (سورہ سبا) میں “سیل عرم” کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ بڑا زبردست حادثہ تھا۔ اس کے نتیجے میں بستیاں ویران ہو گئیں اور بہت سے قبائل بکھر گئے۔۔۔۔۔

پھر ۵۲۳ ء میں ایک اور سنگین حادثہ پیش آیا یعنی یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس نے نجران کے عیسائیوں پر ایک ہیبت ناک حملہ کر کے انہیں عیسائی مذہب چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہا اور جب وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے تو ذونواس نے خندقیں کھدوا کر انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں جھونک دیا۔

 قرآن مجید نے سورۃ بروج کی آیات قُتِلَ اَصُحَابُ الُاُخدُود الخ میں اسی لرزہ خیز واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس واقعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی، جو رومی بادشاہوں کی قیادت میں بلاد عرب کی فتوحات اور توسیع پسندی کے لیے پہلے ہی سے چست و چابکدست تھی، انتقام لینے پر تُل گئی اور حبشیوں کو یمن پر حملے کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں بحری بیڑہ مہیا کیا۔

حبشیوں نے رومیوں کی شہ پا کر ۵۲۵ء میں اریاط کی زیر قیادت ستر ہزار فوج سے یمن پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ قبضہ کے بعد ابتداء تو شاہ حبش کے گورنر کی حیثیت سے اریاط نے یمن پر حکمرانی کی لیکن پھر اس کو فوج کے ایک ما تحت کمانڈر ابرہہ نے اسے قتل کر کے خود اقتدار پر قبضہ کر لیا اور بادشاہ حبش کو بھی اپنے اس تصرف پر راضی کر لیا۔

یہ وہی ابرہہ ہے جس نے بعد میں خانہ کعبہ کو ڈھانے کی کوشش کی اور ایک لشکر جرار کے علاوہ چند ہاتھیوں کو بھی فوج کشی کے لیے ساتھ لایا جس کی وجہ سے یہ لشکر اصحابُ فیل کے نام سے مشہور ہو گیا۔

 اِدھر واقعہ فیل میں حبشیوں کی جو تباہی ہوئی اس سے فائدہ اٹھاتے اہلِ یمن نے حکومتُ فارس سے مدد مانگ لی اور حبشیوں کے خلاف عَلّم بغاوت بلند کر کے سیف ذی یَزَن حمیری کے بیٹے معد یکرب کی قیادت میں حبشیوں کو مُلک سے نکال باہر کیا اور ایک آزاد و خود مختار قوم کی حیثیت سے مَعدِ یکَرب کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔ یہ ۵۷۵ء کا واقعہ ہے۔

 آزادی کے بعد معد یکرب نے کچھ حبشیوں کو اپنی خدمت وشاہی جلو کی زینت کے لیے روک لیا لیکن یہ شوک مہنگاہ ثابت ہوا۔ ان حبشیوں نے ایک روز معدِ یکَرب کو دھوکے سے قتل کر کے ذِی یَزَن کے خاندان سے حکمرانی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔ ادھر کسری نے اس صورتِحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے صَنعاَ پر ایک فارسی النسل گورنر مقرر کر کے یمن کو فارس کا ایک صوبہ بنا لیا۔

اس کے بعد یمن پر یکے بعد دیگر فارسی گورنروں کا تقرر ہوتا رہا یہاں تک کہ آخری گورنر باَذَان نے ۶۲۸ ء میں اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ ہی یمن فارسی اقتدار سے آزاد ہو کر اسلام کی علمداری میں آگیا۔۔۔۔۔

تالیف و ترجمہ ۔۔۔۔ صَفِیُّ الرَّحْمٰنْ مُبَارَکْپُوْرِیْ

سیرت النبی ﷺ مکمل اقساط پڑھیں

اسلام کے بارے میں پڑھیں

Ar-Raheeq Al-Makhtum in urdu (best book on Seerat un Nabi SAWW) الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ

https://archive.org/details/Ar-Raheeq-ul-Makhtum الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ

Seerat un Nabi Aur Hamari Zindagi By Mufti Taqi Usmani

2 Comments on “الرحیق المختوم: سیرت النبی ﷺ : قسط نمبر 1”

  1. ڈیلی، اردو اطلاعات، پاکستان، تازہ ترین خبریں، پاکستان سے موجودہ خبریں، کھیل، صحت، کرکٹ، اردو سائنس اور ٹیکنالوجی،
    کمل معلومات کے لیے یہاں کلک کریں
    ہیلتھ نیوز، ڈیلی اردو انفارمیشن بلاگز،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *