درپردہ احکامات: وقت کے مطابق تیار رہنا (حصہ اول)

احکامات
Spread the love

تحریر: ابن فاضل

خالق حقیقی اپنی مخلوق کو سب سے زیادہ جانتے ہیں. ظاہر ہے کہ انہوں نے کم سے کم ذہانت والے اشخاص کی ذہنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی احکامات اتارے ہوں گے. ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ قرآن کریم یا دیگر الہامی کتب کے احکامات محض زیادہ ذہانت والے لوگوں کیلئے ہوں اور باقی اسے سمجھ ہی نہ پائیں. جبکہ خود قرآن میں کئی بار اعلان کیا گیا ہو کہ

“اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت لینے کیلئے آسان فرمایا، ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرنے والا”

صحیح مسلم کی ایک مشہور حدیث کے مطابق” مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا” یعنی ایک اوسط ذہنیت کے مومن کو اس قدر کامن سینس عطا کی گئی ہے کہ اسے ایک زیادہ بار دھوکہ نہیں کھانا چاہیے. اب اگر ہم جان بوجھ کر غوروفکر نہیں کرتے اور نقصان اٹھاتے ہیں تو ہمارا دوہرا نقصان ہورہا ہے.ایک تو نقصان اور دوسرا حکم عدولی.

چونکہ خالق حقیقی انتہائی درست جانتے ہیں کہ انہوں نے کم سے کم ذہنیت والے انسانوں کو بھی غوروفکر کی اسقدر صلاحیت عطاء کررکھی ہے کہ وہ کسی بھی حکم یا مشورہ کے پس منظر کامکمل تجزیہ کرتے ہوئے اس کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں لہٰذا وہ اسے بہت زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کرتے. اور نتائج اخذ کرنے کا کام ہم پر چھوڑ دیتے ہیں. اب یہ ہمارا کام ہے. اور پھر اگر کہیں امکان ہو بھی کہ کم ذہنیت اور کم علم والے لوگ ایسا نہ کرسکیں تو صاحبانِ علم وحکمت کی ذمہ داری ہے کہ اللہ کریم کے احکامات کے پس منظر میں موجود تمام حکمتوں کا کھوج لگا کر سب کے سامنے رکھیں۔

اب دیکھیں ،جب اللہ کریم فرماتے ہیں۔

” تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی.”
سورۃ الانفال آیۃ 60

تو آپ کیا گمان کرتے ہیں کہ اس حکم کے پس منظر میں کیا احکامات دیے جارہے ہیں. کیا آج گھوڑوں سے دشمن کو خوفزدہ کیا جاسکتا ہے. کیا ڈرون، سیٹلائیٹ گائیڈ انٹرکونٹینینٹل بیلیسٹک میزائل سسٹمز، سٹیلتھ ٹیکنالوجی،ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس اور پیٹریاٹ اینٹی میزائل سسٹم،اواکس، رافیل وغیرہ وغیرہ کے ہوتے ہوئے اسلام اور اللہ کے دشمن کیسے خوفزدہ ہوں گے، منطق کیا کہتی ہے ان سب سے آگے کی ٹیکنالوجی چاہیے نا. کیونکہ ہمارا توکل تو ہمارے لیے ہے، ہمارے حوصلے کا باعث ہے، دشمن تو اسباب سے خوفزدہ ہوگا. تو یہ اسباب کیا ٹیکنالوجی کے بغیر حاصل ہوسکتے ہیں.

تو پھر جان لیں کہ یہ طاقت جمع کرنے کا حکم بالواسطہ جدید علوم سیکھنے کا حکم ہے. دنیا میں موجود سارا علم حاصل کرنے کا حکم ہے، پھر اس علم کو تحقیق سے اوروں سے آگے لیکر جانے کا حکم ہے. یعنی ہمیں اللہ کی خوشنودی کے لئے اس کے حکم کی بجا آوری کے لیے ہر جدید علم حاصل کرنا ہے اور ہر میدان میں ریسرچ کرنا ہے تاکہ ہم ہر میدان میں دشمن سے آگے نکل کر ایسا سامان حرب بناسکیں جس سے دشمن خائف رہے.

اس سے اگلی بات کیا ٹیکنالوجی کا حصول اور جدید ریسرچ وسائل کے بغیر ممکن ہے. ہرگز نہیں. تو پھر سمجھ لیں کہ ہر ہر میدان میں آخری درجہ کی مہارت حاصل کرکے بہت زیادہ دولت کمانا، تاکہ جدید ریسرچ کیلئے وسائل مہیا ہوں وہ بھی اسی حکم کے میں شامل ہے. اگر ہمارے دل میں یہ خیال گھر کر لیتا ہے کہ میں تو فقیر منش انسان ہوں، مجھے دولت نہیں چاہیئے لہذا میں جہاں پڑا ہوں پڑا رہوں تو یقین کریں میرا یہ خیال اللہ کے اس حکم کی خلاف ورزی ہے. اسلام کے فلسفہ اجتماعیت کی خلاف ورزی ہے. میری زندگی، میری صلاحیتیں میرے معاشرے کی امانت ہیں، میں اپنی آسودگی اور آسانی کی خاطر سکون سے نہیں بیٹھ سکتا، مجھے اجتماعی مفاد کی خاطر محنت کرنا ہے، ہمیں جدید علم وہنر سیکھنا ہے، ہمیں پیسے کمانا ہیں، ہمیں وسائل جمع کرنا ہیں، ہمیں خوشحال ہونا ہے تاکہ ہم اللہ کے حکم کے مطابق ان وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرکے طاقت حاصل کریں.

جنگ تبوک کا واقعہ سب سے سن رکھا ہے. جب حضرت عمر اپنے گھر کا آدھا اور حضرت ابوبکر صدیق سارا سامان لے آئے تھے. آقا کریم شاہ دوعالم ہوتے ہوئے ساتھیوں سے کیوں وسائل جمع کررہے تھے. کیونکہ وسائل کے بغیر جنگیں نہیں لڑی جاسکتیں. اگر صرف ایمان کی طاقت اور توکل کافی ہوتا تو آقا کریم سے مضبوط ایمان کس کا ہوگا اور ذات باری تعالیٰ پر ان سے زیادہ توکل کرنے والا کون ہوگا. اللہ چاہتے تو وسائل کے بغیر ہی فتح عنایت کردیتے. لیکن یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے، اس نظام جہاں بانی کیخلاف ہے. آپ کو وسائل مہیا کرنا ہوں گے. آپ کو خوش حال ہونا ہوگا،اور پھر اس خوشحالی کا استعمال کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرکے طاقتور بننا ہوگا، اگر آپ اپنے وجود کی بقا چاہتے ہیں. ورنہ لیبیا عراق کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں.
(جاری ہے)

درپردہ احکامات: طاقت اور نفع سے بھرپور دھات(حصہ دوم)

About احمد سلیم ابن فاضل

View all posts by احمد سلیم ابن فاضل →

One Comment on “درپردہ احکامات: وقت کے مطابق تیار رہنا (حصہ اول)”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *