درپردہ احکامات: طاقت اور نفع سے بھرپور دھات(حصہ دوم)

احکامات
Spread the love

تحریر: ابن فاضل

اب دیکھیں کہ قرآن کتاب ہدایت ہے جس کا مقصد صرف اور صرف بنی نوع انسان کی ہدایت ہے. اگر اس کتاب ہدایت میں بھی خالقِ دوجہاں شفقت فرماتے ہوئے ہمیں یہ اشارہ کردیتے ہیں:

“اور ہم نے لوہا اتارا، جس میں بڑی طاقت اور انسانوں کیلئے نفع ہے”
سورۃ 57 آیۃ 25

تو یقین کریں میں تو اس کے رحمن ہونے کا اور بھی قائل ہو جاتا ہوں. کہ کتنا رحیم وشفیق رب ہے جو ہدایت دیتے دیتے، اخروی زندگی میں کامیابی کی راہ دکھاتے دکھاتے ہمیں دنیا میں سر بلندی کے نسخہ ہائے بیش قدر بھی بتاتا جاتا ہے. ہمیں تو اس آیات کو ایسے سینے سے لگانا چاہیے تھا جیسے ہم جزدان کو لگاتے ہیں، ہمیں لوہے کی کچ دھات سے لیکر اس کے عمل تخفیف اور تخلیص تک اور اس کی دھات کاری یعنی رولنگ فورجنگ اور فارمنگ سے لیکر اس کے علم سختاؤ یعنی ہیٹ ٹریٹمنٹ تک اس کے پیچھے دیوانہ وار پڑجانا چاہیے تھا. یوں تو انسان ہر وقت نفع کی کھوج میں رہتا ہے اور یہاں رب رحمن ضمانت دے رہے ہیں کہ اس میں انسانوں کے لیے فائدہ ہے. اس کے متعلق ہر علم کی کھوج تو ایسے کرنا چاہیے تھی جیسے کوئی ماں اپنے گمشدہ لخت جگر کو کھوجتی ہے۔

جان لیں تلوار اور خنجر سے لیکر جدید اسلحہ کی کوئی بھی قسم، کوئی ٹینک، کوئی توپ، گن، راکٹ لانچر، راکٹ، میزائل، راڈار، حتی کہ ہوائی جہاز، جنگی جہاز ڈرون گویا طاقت کا کوئی سا بھی استعارہ لوہے کے بغیر نہیں بن سکتا. اسی طرح روزمرہ استعمال کی ساری اشیاء، نقل وحمل کت تمام ذرائع لوہے کے ہی رہین منت ہیں۔

اس تناظر میں ہمارا یہ فخر ہوتا، ہمارا یہ اعجاز ہوتا کہ ہمارے قرآن میں ہمارے اللہ کریم نے ہمیں ہنٹ دیا ہے کہ اس کے پیچھے پڑرہو. اس میں ہی طاقت ہے اس میں ہی فائدہ ہے. ہم نے اس حقیقت کو دل سے مانا ہوتا تو دس کروڑ ٹن سالانہ فولاد بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی آرسیلو متل بھارتی متل گروپ کی بجائے کسی عرب شیخ کی ہوتی، ساڑھے نوکروڑ ٹن سالانہ کی استعداد کی حامل چین میں قائم دنیا کی دوسری بڑی فولادساز فیکٹری باؤ وو سٹیل ترکی میں ہوتی اور پانچ کروڑ ٹن سالانہ والی نیپون سٹیل کہیں کراچی میں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: درپردہ احکامات: وقت کے مطابق تیار رہنا (حصہ اول)

دنیا کے بڑے بڑے سٹیل ریسرچ انسٹیٹیوٹ مسلمان ملکوں میں ہوتے جہاں مسلمان سائنسدان جی جان سے اپنے رب کی منشا کو سمجھتے ہوئے انسانوں کی بھلائی کی اس پراڈکٹ کو رب کے علم کی وسعتوں سے طاقت اور فائدے کی آخری حدوں تک. لیجاتے. مگر افسوس ہم نے رب کے واضح احکامات کو پس پشت ڈال رکھا رکھا ہے اس کے اشاروں کنائیوں اور رموز کو کیا سمجھیں گے۔

بہرحال ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا. صدق دل اور تندہی سے آج بھی لگ جائیں. تو یقیناً اللہ کریم ہماری مدد فرمائیں گے. آجائیں مدرسوں میں قرآن کے ساتھ ساتھ لوہے کا علم بھی سیکھتے ہیں، آجائیں عالم بنتے ہوئے طاقت ور اور خوشحال بھی ہوتے ہیں. کالجوں کے طلباء ایف اے بی اے کی بیکار تعلیم کی بجائے لوہے کا علم وہنر سیکھیں. نفع کی گارنٹی سب سے بڑے اور یقینی گارنٹر کی ہے۔
جاری ہے

About احمد سلیم ابن فاضل

View all posts by احمد سلیم ابن فاضل →

2 Comments on “درپردہ احکامات: طاقت اور نفع سے بھرپور دھات(حصہ دوم)”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *